LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی ایران کا اردن میں امریکی ایئربیس پر حملہ، تین ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم 4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئر لائنز کیلئے بڑا دھچکا نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق

طوطے کی غنڈہ گردی، شہریوں کا لاکھوں کا نقصان کردیا

Web Desk

4 June 2026

ایڈنبرا: اسکاٹ لینڈ کے ایک پرسکون رہائشی علاقے میں ان دنوں ایک طوطا وہاں کے شہریوں کے لیے شدید دردِ سر اور مالی نقصان کا باعث بنا ہوا ہے، جہاں اس ننھے پرندے پر کھڑی گاڑیوں کے قیمتی ربڑ کے حصوں کو اپنی تیز چونچ سے کترنے کا انوکھا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، طوطے کی اس عجیب و غریب عادت کی وجہ سے اب تک علاقے کے شہریوں کا ہزاروں ڈالرز (لاکھوں روپے) کا بھاری نقصان ہو چکا ہے۔

علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ طوطا رواں سال فروری کے مہینے سے اس محلے میں گھوم رہا ہے۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ پارک کی گئی گاڑیوں کے وائپرز (Wipers) اور کھڑکیوں کی ربڑ کی سیلز (Rubber Seals) کو نوچ ڈالنا ہے۔ طوطے کی اس روز روز کی اوٹ پٹانگ حرکت سے تنگ آ کر اب کئی شہریوں نے اپنی گاڑیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انہیں موٹے ترپالوں سے ڈھانپنا شروع کر دیا ہے۔

ایک مقامی خاتون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے غصے اور بے بسی کا اظہار کچھ یوں کیا”یہاں ہمارے علاقے میں اب اس طوطے کا نام بھی کوئی اچھے لفظوں میں نہیں لیتا۔ اس ننھے میاں نے ہماری مہنگی گاڑیوں کا کباڑہ کر کے پورے محلے میں تباہی مچا رکھی ہے۔”

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ طوطا کبھی کبھار اچانک چند ہفتوں کے لیے علاقے سے غائب ہو جاتا ہے، جس پر لوگ سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ شاید بلا ٹل گئی ہے، لیکن اگلے ہی دن محلے میں کسی نہ کسی گھر سے آواز آتی ہے کہ “وہ لوٹ آیا ہے!” اور شہریوں کی پریشانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔

وائلڈ لائف (جنگلی حیات) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ سو فیصد یقین سے تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ پرندہ صرف گاڑیوں کے ربڑ کو ہی کیوں نشانہ بنا رہا ہے، تاہم انہوں نے اس پراسرار رویے کی 3 ممکنہ سائنسی وجوہات بیان کی ہیں گاڑی کے چمکدار شیشے یا باڈی میں اپنا عکس دیکھ کر طوطا اسے اپنا حریف (دشمن) سمجھ بیٹھتا ہے اور اپنے علاقے کا دفاع کرنے کے لیے حملہ کرتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ گاڑیوں کے اس مخصوص ربڑ میں کوئی ایسی چربی یا معدنیات (Minerals) موجود ہوں جن کی اس پرندے کو طلب ہوتی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ طوطا کسی ذہنی الجھن یا بوریت کو دور کرنے کے لیے محض کھیل ہی کھیل میں ایسا کر رہا ہو۔ماہرینِ حیاتیات کے مطابق، اس مخصوص نسل کے طوطے اسکاٹ لینڈ کے سرد موسم میں عام طور پر نہیں پائے جاتے۔ اس لیے قوی امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی کا پالتو طوطا تھا جو یا تو پنجرے سے اڑ گیا ہے یا پھر مالک نے اسے خود یہاں لا کر چھوڑ دیا تھا۔ فی الحال محلے دار اس ننھے عذاب سے چھٹکارا پانے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔