طوطے کی غنڈہ گردی، شہریوں کا لاکھوں کا نقصان کردیا
Web Desk
4 June 2026
ایڈنبرا: اسکاٹ لینڈ کے ایک پرسکون رہائشی علاقے میں ان دنوں ایک طوطا وہاں کے شہریوں کے لیے شدید دردِ سر اور مالی نقصان کا باعث بنا ہوا ہے، جہاں اس ننھے پرندے پر کھڑی گاڑیوں کے قیمتی ربڑ کے حصوں کو اپنی تیز چونچ سے کترنے کا انوکھا الزام عائد کیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، طوطے کی اس عجیب و غریب عادت کی وجہ سے اب تک علاقے کے شہریوں کا ہزاروں ڈالرز (لاکھوں روپے) کا بھاری نقصان ہو چکا ہے۔
علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ طوطا رواں سال فروری کے مہینے سے اس محلے میں گھوم رہا ہے۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ پارک کی گئی گاڑیوں کے وائپرز (Wipers) اور کھڑکیوں کی ربڑ کی سیلز (Rubber Seals) کو نوچ ڈالنا ہے۔ طوطے کی اس روز روز کی اوٹ پٹانگ حرکت سے تنگ آ کر اب کئی شہریوں نے اپنی گاڑیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انہیں موٹے ترپالوں سے ڈھانپنا شروع کر دیا ہے۔
ایک مقامی خاتون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے غصے اور بے بسی کا اظہار کچھ یوں کیا”یہاں ہمارے علاقے میں اب اس طوطے کا نام بھی کوئی اچھے لفظوں میں نہیں لیتا۔ اس ننھے میاں نے ہماری مہنگی گاڑیوں کا کباڑہ کر کے پورے محلے میں تباہی مچا رکھی ہے۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ طوطا کبھی کبھار اچانک چند ہفتوں کے لیے علاقے سے غائب ہو جاتا ہے، جس پر لوگ سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ شاید بلا ٹل گئی ہے، لیکن اگلے ہی دن محلے میں کسی نہ کسی گھر سے آواز آتی ہے کہ “وہ لوٹ آیا ہے!” اور شہریوں کی پریشانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
وائلڈ لائف (جنگلی حیات) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ سو فیصد یقین سے تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ پرندہ صرف گاڑیوں کے ربڑ کو ہی کیوں نشانہ بنا رہا ہے، تاہم انہوں نے اس پراسرار رویے کی 3 ممکنہ سائنسی وجوہات بیان کی ہیں گاڑی کے چمکدار شیشے یا باڈی میں اپنا عکس دیکھ کر طوطا اسے اپنا حریف (دشمن) سمجھ بیٹھتا ہے اور اپنے علاقے کا دفاع کرنے کے لیے حملہ کرتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ گاڑیوں کے اس مخصوص ربڑ میں کوئی ایسی چربی یا معدنیات (Minerals) موجود ہوں جن کی اس پرندے کو طلب ہوتی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ طوطا کسی ذہنی الجھن یا بوریت کو دور کرنے کے لیے محض کھیل ہی کھیل میں ایسا کر رہا ہو۔ماہرینِ حیاتیات کے مطابق، اس مخصوص نسل کے طوطے اسکاٹ لینڈ کے سرد موسم میں عام طور پر نہیں پائے جاتے۔ اس لیے قوی امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی کا پالتو طوطا تھا جو یا تو پنجرے سے اڑ گیا ہے یا پھر مالک نے اسے خود یہاں لا کر چھوڑ دیا تھا۔ فی الحال محلے دار اس ننھے عذاب سے چھٹکارا پانے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
چین کا شاہکار: 625 میٹر بلندآبشار پُل، سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
30 July 2026
برطانیہ: 116 سال بعد لائبریری کو کتابیں واپس لوٹا دی گئیں
30 July 2026
4 آم کی قیمت صرف ’’6 لاکھ 12 ہزار روپے‘‘
29 July 2026
بیوی کو تنہا نہ چھوڑنے کیلئے شوہر بھی گہرے مین ہول میں گرگیا
29 July 2026
مہنگی ترین طلاق، عدالت کا سابقہ بیوی کو 644 ملین ڈالر دینے کا حکم
29 July 2026
وسیم اکرم اور شنیرا کا پالتو کتا لاپتہ
29 July 2026
امریکا: 53 برس بعد بوتل میں بند پیغام مل گیا
28 July 2026
امریکی شہری کو سائیکل چلانے کے دوران مشعل جگلنگ کرنا مہنگا پڑ گیا
28 July 2026