LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خلیجی اتحادیوں کا تحفظ ترجیح، ایران پراکسیز کی حمایت ترک کرے: مارکو روبیو ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو فنڈز جاری کئے جانے کی خبروں کی تردید پاکستان اور ایران کا مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی فعال کرنے پر اتفاق اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب ایئرپورٹ خالی کرنے کی درخواست کر دی پاکستان عالمی سطح پر امن اور استحکام کی علامت بن رہا ہے، اسحاق ڈار صدر مملکت اور وزیراعظم کا وینزویلا میں زلزلے سے تباہی و نقصان پر اظہار افسوس ڈونلڈ ٹرمپ اور لاطینی امریکا کے ممالک کا وینزویلا کی مدد کا اعلان وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ، درجنوں عمارتیں منہدم، 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے: ایران 9 محرم کے جلوس برآمد ہونا شروع، سکیورٹی ہائی الرٹ، موبائل فون سروس جزوی معطل آبنائے ہرمز کی ٹریفک معمول کی طرف واپس آ گئی ہے، میری ٹائم ٹریکر قطر و سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال برازیل نے سکاٹ لینڈ کو 0-3 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی امریکہ سمیت مختلف ممالک میں 7.5 شدت کا زلزلہ، وینزویلا میں 10 ہزار سے زائد اموات کا خدشہ، سونامی وارننگ جاری اٹلی نے ایران جنگ میں امریکہ کو مدد فراہم کرنے کا نیٹو چیف کا بیان مسترد کر دیا

طوطے کی غنڈہ گردی، شہریوں کا لاکھوں کا نقصان کردیا

Web Desk

4 June 2026

ایڈنبرا: اسکاٹ لینڈ کے ایک پرسکون رہائشی علاقے میں ان دنوں ایک طوطا وہاں کے شہریوں کے لیے شدید دردِ سر اور مالی نقصان کا باعث بنا ہوا ہے، جہاں اس ننھے پرندے پر کھڑی گاڑیوں کے قیمتی ربڑ کے حصوں کو اپنی تیز چونچ سے کترنے کا انوکھا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، طوطے کی اس عجیب و غریب عادت کی وجہ سے اب تک علاقے کے شہریوں کا ہزاروں ڈالرز (لاکھوں روپے) کا بھاری نقصان ہو چکا ہے۔

علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ طوطا رواں سال فروری کے مہینے سے اس محلے میں گھوم رہا ہے۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ پارک کی گئی گاڑیوں کے وائپرز (Wipers) اور کھڑکیوں کی ربڑ کی سیلز (Rubber Seals) کو نوچ ڈالنا ہے۔ طوطے کی اس روز روز کی اوٹ پٹانگ حرکت سے تنگ آ کر اب کئی شہریوں نے اپنی گاڑیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انہیں موٹے ترپالوں سے ڈھانپنا شروع کر دیا ہے۔

ایک مقامی خاتون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے غصے اور بے بسی کا اظہار کچھ یوں کیا”یہاں ہمارے علاقے میں اب اس طوطے کا نام بھی کوئی اچھے لفظوں میں نہیں لیتا۔ اس ننھے میاں نے ہماری مہنگی گاڑیوں کا کباڑہ کر کے پورے محلے میں تباہی مچا رکھی ہے۔”

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ طوطا کبھی کبھار اچانک چند ہفتوں کے لیے علاقے سے غائب ہو جاتا ہے، جس پر لوگ سکھ کا سانس لیتے ہیں کہ شاید بلا ٹل گئی ہے، لیکن اگلے ہی دن محلے میں کسی نہ کسی گھر سے آواز آتی ہے کہ “وہ لوٹ آیا ہے!” اور شہریوں کی پریشانی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔

وائلڈ لائف (جنگلی حیات) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ سو فیصد یقین سے تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ پرندہ صرف گاڑیوں کے ربڑ کو ہی کیوں نشانہ بنا رہا ہے، تاہم انہوں نے اس پراسرار رویے کی 3 ممکنہ سائنسی وجوہات بیان کی ہیں گاڑی کے چمکدار شیشے یا باڈی میں اپنا عکس دیکھ کر طوطا اسے اپنا حریف (دشمن) سمجھ بیٹھتا ہے اور اپنے علاقے کا دفاع کرنے کے لیے حملہ کرتا ہے۔ہو سکتا ہے کہ گاڑیوں کے اس مخصوص ربڑ میں کوئی ایسی چربی یا معدنیات (Minerals) موجود ہوں جن کی اس پرندے کو طلب ہوتی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ طوطا کسی ذہنی الجھن یا بوریت کو دور کرنے کے لیے محض کھیل ہی کھیل میں ایسا کر رہا ہو۔ماہرینِ حیاتیات کے مطابق، اس مخصوص نسل کے طوطے اسکاٹ لینڈ کے سرد موسم میں عام طور پر نہیں پائے جاتے۔ اس لیے قوی امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کسی کا پالتو طوطا تھا جو یا تو پنجرے سے اڑ گیا ہے یا پھر مالک نے اسے خود یہاں لا کر چھوڑ دیا تھا۔ فی الحال محلے دار اس ننھے عذاب سے چھٹکارا پانے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔