LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری جماعت اسلامی نے کل پورے پاکستان میں احتجاج کی کال دے دی ایران امریکا معاہدہ: وزیرِ اعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیئے

طلبہ کو امتحانی مراکز میں اب سینڈوچز، چاکلیٹ، آئس کریم ملے گی!

Web Desk

18 June 2026

امتحانات دینے والے طلبہ کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور دلچسپ خبر سامنے آئی ہے، جہاں اب امتحانی مراکز کا روایتی، خوفزدہ اور سخت ماحول ماضی کا قصہ بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چند حالیہ تصاویر نے پوری دنیا کے تعلیمی حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طلبہ کو دورانِ امتحان ذہنی طور پر فریش اور پرسکون رکھنے کے لیے ان کی میزوں پر سینڈوچز، چاکلیٹ، آئسکریم، چائے، ہلکے پھلکے سنیکس اور ٹھنڈا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

وائرل ہونے والی تصاویر اور رپورٹس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دل چسپ اور قابلِ تقلید واقعہ سعودی عرب کے ایک تعلیمی مرکز کا ہے، جہاں امتحانی ہال کے اندر روایتی سختی کے بجائے ممتحن (Inviligators) اور انتظامیہ کی جانب سے امیدواروں کی تزویراتی ضیافت کی جا رہی ہے۔امتحانی پرچہ حل کرنے کے دوران طلبہ کو ذہنی تھکن سے بچانے کے لیے ان کی انفرادی میزوں پر مختلف قسم کے ہائیڈریشن اور انرجی سنیکس (جیسے چاکلیٹس اور سینڈوچز) قرینے سے سجائے گئے ہیں۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق، امتحانات کے نام سے طلبہ پر جو ایک تزویراتی خوف اور نفسیاتی دباؤ طاری ہو جاتا ہے، اس قسم کا دوستانہ اور آرام دہ ماحول اس پریشانی کو 80 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔جب طالب علم کا دماغ پرسکون ہوتا ہے اور اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ امتحانی عملہ اس کی سہولت کے لیے موجود ہے، تو اس کی یکسوئی (Focus) اور خود اعتمادی بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست مثبت اثر اس کے امتحانی نتائج اور کارکردگی پر پڑتا ہے۔

 پاکستان سمیت دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین اس بات پر پرجوش بحث کر رہے ہیں کہ کیا ہمارے اور دیگر ممالک کے تعلیمی نظاموں میں بھی ایسی طالب علم دوست (Student-friendly) سہولیات متعارف کرائی جانی چاہئیں؟ صارفین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں امتحانی مراکز کو ایک “سزا گاہ” یا خوف کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ اگر سعودی عرب کی طرح امتحانات کے تجربے کو خوشگوار اور پرسکون بنا دیا جائے، تو اس سے امتحانی خوف و پریشانی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب کے اس جدید اور ہمدردانہ تعلیمی اقدام نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ تعلیم اور امتحانات کا مقصد طلبہ کو ذہنی اذیت دینا نہیں، بلکہ پرسکون ماحول میں ان کی حقیقی صلاحیتوں کو پرکھنا ہے۔