LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھاری ٹیکس و مارجن وصولی: پانچ روز میں پٹرول 21.88 روپے فی لیٹر مہنگا مڈ ٹرم انتخابات میں کامیابی پر تمام امریکی شہریوں کو 5,000 ڈالر دینے کا اعلان ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان ایران کا امریکا سے خطے میں امن کیلئے عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ دبئی: ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی سیزن 5 کی لانچ تقریب، ایونٹ کا آغاز 22 نومبر سے ہوگا یو اے ای میں عالمی کرکٹ ستاروں کی موجودگی مقامی ٹیلنٹ کیلئے اہم موقع قرار قطر کی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثی حملوں کی شدید مذمت اردن میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز متبادل مقامات پر منتقل یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ، وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ، حراست میں لے لیا جوہری توانائی ایجنسی نے امریکا، اتحادیوں کے دباؤ پر قرارداد منظور کی: ایران یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتیں 3 سال کی بدترین سطح پر پہنچ گئیں امریکی صدر کی قطر کی جانب سے دیئے گئے ایئر فورس ون طیارے پر ٹیکساس روانگی برطانوی فضائی ٹریفک کنٹرول میں بڑی فنی خرابی، حکومت کا ایک ہفتے میں تحقیقات کا حکم حسینہ واجد کی بیٹی صائمہ واجد ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے مستعفی

طلبہ کو امتحانی مراکز میں اب سینڈوچز، چاکلیٹ، آئس کریم ملے گی!

Web Desk

18 June 2026

امتحانات دینے والے طلبہ کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور دلچسپ خبر سامنے آئی ہے، جہاں اب امتحانی مراکز کا روایتی، خوفزدہ اور سخت ماحول ماضی کا قصہ بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چند حالیہ تصاویر نے پوری دنیا کے تعلیمی حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طلبہ کو دورانِ امتحان ذہنی طور پر فریش اور پرسکون رکھنے کے لیے ان کی میزوں پر سینڈوچز، چاکلیٹ، آئسکریم، چائے، ہلکے پھلکے سنیکس اور ٹھنڈا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

وائرل ہونے والی تصاویر اور رپورٹس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دل چسپ اور قابلِ تقلید واقعہ سعودی عرب کے ایک تعلیمی مرکز کا ہے، جہاں امتحانی ہال کے اندر روایتی سختی کے بجائے ممتحن (Inviligators) اور انتظامیہ کی جانب سے امیدواروں کی تزویراتی ضیافت کی جا رہی ہے۔امتحانی پرچہ حل کرنے کے دوران طلبہ کو ذہنی تھکن سے بچانے کے لیے ان کی انفرادی میزوں پر مختلف قسم کے ہائیڈریشن اور انرجی سنیکس (جیسے چاکلیٹس اور سینڈوچز) قرینے سے سجائے گئے ہیں۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق، امتحانات کے نام سے طلبہ پر جو ایک تزویراتی خوف اور نفسیاتی دباؤ طاری ہو جاتا ہے، اس قسم کا دوستانہ اور آرام دہ ماحول اس پریشانی کو 80 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔جب طالب علم کا دماغ پرسکون ہوتا ہے اور اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ امتحانی عملہ اس کی سہولت کے لیے موجود ہے، تو اس کی یکسوئی (Focus) اور خود اعتمادی بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست مثبت اثر اس کے امتحانی نتائج اور کارکردگی پر پڑتا ہے۔

 پاکستان سمیت دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین اس بات پر پرجوش بحث کر رہے ہیں کہ کیا ہمارے اور دیگر ممالک کے تعلیمی نظاموں میں بھی ایسی طالب علم دوست (Student-friendly) سہولیات متعارف کرائی جانی چاہئیں؟ صارفین کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں امتحانی مراکز کو ایک “سزا گاہ” یا خوف کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں۔ اگر سعودی عرب کی طرح امتحانات کے تجربے کو خوشگوار اور پرسکون بنا دیا جائے، تو اس سے امتحانی خوف و پریشانی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب کے اس جدید اور ہمدردانہ تعلیمی اقدام نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ تعلیم اور امتحانات کا مقصد طلبہ کو ذہنی اذیت دینا نہیں، بلکہ پرسکون ماحول میں ان کی حقیقی صلاحیتوں کو پرکھنا ہے۔