LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے ہلاکتوں پر اظہار تعزیت مہمند ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم قومی منصوبہ ہے: چیئرمین واپڈا یومِ دفاع پر سائبر حملوں کا خدشہ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی اہم ہدایات ٹرمپ اور اماراتی صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکی حملوں میں شہید شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا: پاسداران انقلاب نیتن یاہو کا ایرانی حکومت گرانے کیلئے کام جاری رکھنے کا اعلان پاکستان کی روسی مشرق بعید کے ساتھ تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے کی تجویز مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے: ملک احمد خان سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار کثرت رائے سے مسترد

اردو ادب کے درخشاں ستارے سعادت حسن منٹو کا آج یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

Web Desk

11 May 2026

اردو ادب کے درخشاں ستارے سعادت حسن منٹو کا آج یومِ پیدائش منایا جارہا ہے۔ سعادت حسن منٹو کے بغیر افسانہ نگاری کا تذکرہ نامکمل ہے، انہوں نے منفرد موضوعات پر قلم اٹھا کر نہ صرف اپنے عہد میں ہلچل مچائی بلکہ اردو ادب کے لیے انمول خزانہ بھی چھوڑ گئے۔

سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد نقل مکانی کرکے لاہور منتقل ہو گئے۔ ان کا شمار اردو کے ان نامور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جن کی تحریریں آج بھی بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ منٹو کے افسانے محض واقعاتی نہیں بلکہ ان میں موضوعاتی جدت اور انسانی نفسیات کی گہرائی پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں ان کے خیالات و مشاہدات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز لدھیانہ کے ایک اخبار سے کیا اور آخری سانس تک قلم سے رشتہ استوار رکھا۔ ان کی اہم ترین تصانیف میں ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ’، ‘آتش پارے’، ‘کھول دو’، ‘ٹھنڈا گوشت’ اور ‘دھواں’ جیسے شاہکار شامل ہیں۔ سعادت حسن منٹو نے اپنی زندگی کا آخری حصہ لاہور میں گزارا اور 18 جنوری 1955ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔