LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

اردو ادب کے درخشاں ستارے سعادت حسن منٹو کا آج یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

Web Desk

11 May 2026

اردو ادب کے درخشاں ستارے سعادت حسن منٹو کا آج یومِ پیدائش منایا جارہا ہے۔ سعادت حسن منٹو کے بغیر افسانہ نگاری کا تذکرہ نامکمل ہے، انہوں نے منفرد موضوعات پر قلم اٹھا کر نہ صرف اپنے عہد میں ہلچل مچائی بلکہ اردو ادب کے لیے انمول خزانہ بھی چھوڑ گئے۔

سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد نقل مکانی کرکے لاہور منتقل ہو گئے۔ ان کا شمار اردو کے ان نامور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جن کی تحریریں آج بھی بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ منٹو کے افسانے محض واقعاتی نہیں بلکہ ان میں موضوعاتی جدت اور انسانی نفسیات کی گہرائی پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں ان کے خیالات و مشاہدات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز لدھیانہ کے ایک اخبار سے کیا اور آخری سانس تک قلم سے رشتہ استوار رکھا۔ ان کی اہم ترین تصانیف میں ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ’، ‘آتش پارے’، ‘کھول دو’، ‘ٹھنڈا گوشت’ اور ‘دھواں’ جیسے شاہکار شامل ہیں۔ سعادت حسن منٹو نے اپنی زندگی کا آخری حصہ لاہور میں گزارا اور 18 جنوری 1955ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔