LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا چین کو اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: امریکی حکام چاروں صوبوں میں ترقی ہونی چاہیے، کوئی پاکستان میں مداخلت کرے گا تو بھرپور جواب دیں گے: چیئرمین سینیٹ امریکا کا آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ مسترد پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات جاری کابینہ کمیٹی اجلاس: قانون سازی کیلئے وزارتوں کو ترامیم اور سفارشات بھجوانے کی ہدایت ایرانی فوج کا آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال ثالث ملکوں کے نمائندوں کے امریکا، ایران سے الگ الگ مذاکرات متوقع بانی پی ٹی آئی سے منگل کو وکلا کی ملاقات کا دن، 6 نام جیل حکام کو ارسال ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے عمان کو شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا بانی پی ٹی آئی کا حکم ملا تو دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتا ہوں: علی امین گنڈاپور حسن نصراللہ مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای 4 اکتوبر کو احتجاج کیلئے پی ٹی آئی کی کوئی تیاری نہیں: عطا تارڑ سٹاک ایکسچینج: 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے میں 61 ملزمان گرفتار

اردو ادب کے درخشاں ستارے سعادت حسن منٹو کا آج یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

Web Desk

11 May 2026

اردو ادب کے درخشاں ستارے سعادت حسن منٹو کا آج یومِ پیدائش منایا جارہا ہے۔ سعادت حسن منٹو کے بغیر افسانہ نگاری کا تذکرہ نامکمل ہے، انہوں نے منفرد موضوعات پر قلم اٹھا کر نہ صرف اپنے عہد میں ہلچل مچائی بلکہ اردو ادب کے لیے انمول خزانہ بھی چھوڑ گئے۔

سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد نقل مکانی کرکے لاہور منتقل ہو گئے۔ ان کا شمار اردو کے ان نامور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جن کی تحریریں آج بھی بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ منٹو کے افسانے محض واقعاتی نہیں بلکہ ان میں موضوعاتی جدت اور انسانی نفسیات کی گہرائی پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں ان کے خیالات و مشاہدات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز لدھیانہ کے ایک اخبار سے کیا اور آخری سانس تک قلم سے رشتہ استوار رکھا۔ ان کی اہم ترین تصانیف میں ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ’، ‘آتش پارے’، ‘کھول دو’، ‘ٹھنڈا گوشت’ اور ‘دھواں’ جیسے شاہکار شامل ہیں۔ سعادت حسن منٹو نے اپنی زندگی کا آخری حصہ لاہور میں گزارا اور 18 جنوری 1955ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔