LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرول زیادہ مہنگا ہونے کہ وجہ 117 روپے فی لیٹر لیوی کا نفاذ ہے، حکام پیٹرولیم ڈویژن حکومت اور اپوزیشن میں رابطے، وزیراعظم کی محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کی دعوت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار خاتون گرفتار غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں، ضرورت پڑی تو بھرپور جواب دیا جائے گا: ایرانی وزارت خارجہ پنجاب حکومت کا مدارس رجسٹریشن ایکٹ میں ترامیم لانے کا فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب کو بطورضمانت جمع کرائےگئے7 کروڑ روپے واپس دینے کی ہدایت وزیراعظم کی ملک بھر میں ‘آسان خدمت مراکز’ قائم کرنے کی ہدایت امریکہ ایران کشیدگی کے معاشی اثرات نمایاں، ترسیلاتِ زر میں کمی ریکارڈ ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں: ٹرمپ ایرانی وزیر خارجہ اور نیدرلینڈز کے ہم منصب کا رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو حق مہر میں جائیداد کی منتقلی پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نکاح نامے میں تبدیلی کا حکم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز آذربائیجان کے وزیر داخلہ کی بنوں میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت عالمی ٹرانزٹ ٹریفک بڑھانے کیلئے گوادر پورٹ پر ٹیرف میں نمایاں کمی کا فیصلہ سوات میں گاڑی گہری کھائی میں جا گری، 11 افراد جاں بحق، 5 زخمی

اردو ادب کے درخشاں ستارے سعادت حسن منٹو کا آج یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے

Web Desk

11 May 2026

اردو ادب کے درخشاں ستارے سعادت حسن منٹو کا آج یومِ پیدائش منایا جارہا ہے۔ سعادت حسن منٹو کے بغیر افسانہ نگاری کا تذکرہ نامکمل ہے، انہوں نے منفرد موضوعات پر قلم اٹھا کر نہ صرف اپنے عہد میں ہلچل مچائی بلکہ اردو ادب کے لیے انمول خزانہ بھی چھوڑ گئے۔

سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد نقل مکانی کرکے لاہور منتقل ہو گئے۔ ان کا شمار اردو کے ان نامور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جن کی تحریریں آج بھی بڑے ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ منٹو کے افسانے محض واقعاتی نہیں بلکہ ان میں موضوعاتی جدت اور انسانی نفسیات کی گہرائی پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں ان کے خیالات و مشاہدات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز لدھیانہ کے ایک اخبار سے کیا اور آخری سانس تک قلم سے رشتہ استوار رکھا۔ ان کی اہم ترین تصانیف میں ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ’، ‘آتش پارے’، ‘کھول دو’، ‘ٹھنڈا گوشت’ اور ‘دھواں’ جیسے شاہکار شامل ہیں۔ سعادت حسن منٹو نے اپنی زندگی کا آخری حصہ لاہور میں گزارا اور 18 جنوری 1955ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔