LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے ہلاکتوں پر اظہار تعزیت مہمند ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم قومی منصوبہ ہے: چیئرمین واپڈا یومِ دفاع پر سائبر حملوں کا خدشہ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی اہم ہدایات ٹرمپ اور اماراتی صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکی حملوں میں شہید شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا: پاسداران انقلاب نیتن یاہو کا ایرانی حکومت گرانے کیلئے کام جاری رکھنے کا اعلان پاکستان کی روسی مشرق بعید کے ساتھ تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے کی تجویز مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے: ملک احمد خان سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار کثرت رائے سے مسترد

نورا فتیحی نے متنازع گانے پر معافی مانگ لی

Web Desk

9 May 2026

بالی وڈ کی معروف اداکارہ اور ڈانسر نورا فتحی نے اپنے متنازع گانے “سرکے چنر” کے معاملے پر بھارتی نیشنل کمیشن فار ویمن سے باضابطہ معافی مانگ لی ہے۔ اداکارہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں تھا، تاہم ایک فنکار ہونے کے ناطے وہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کا بھرپور ادراک رکھتی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نورا فتحی 7 مئی کو نئی دہلی میں نیشنل کمیشن فار ویمن کے سامنے پیش ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنی وضاحت پیش کی اور ایک تحریری معافی نامہ جمع کروایا۔ کمیشن نے گانے کے مواد پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

یہ تنازع کناڈا فلم “کے ڈی – دا ڈیول” (KD – The Devil) کے گانے “سرکے چنر” کی ریلیز کے بعد پیدا ہوا تھا، جس پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں کی جانب سے فحاشی پھیلانے اور ثقافتی اقدار کے منافی ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ نورا فتحی کی جانب سے معافی نامہ جمع کروانے کے بعد اب اس معاملے کے قانونی و اخلاقی پہلوؤں پر بحث تھمنے کا امکان ہے۔