LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

نورا فتیحی نے متنازع گانے پر معافی مانگ لی

Web Desk

9 May 2026

بالی وڈ کی معروف اداکارہ اور ڈانسر نورا فتحی نے اپنے متنازع گانے “سرکے چنر” کے معاملے پر بھارتی نیشنل کمیشن فار ویمن سے باضابطہ معافی مانگ لی ہے۔ اداکارہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں تھا، تاہم ایک فنکار ہونے کے ناطے وہ اپنی سماجی ذمہ داریوں کا بھرپور ادراک رکھتی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نورا فتحی 7 مئی کو نئی دہلی میں نیشنل کمیشن فار ویمن کے سامنے پیش ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنی وضاحت پیش کی اور ایک تحریری معافی نامہ جمع کروایا۔ کمیشن نے گانے کے مواد پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

یہ تنازع کناڈا فلم “کے ڈی – دا ڈیول” (KD – The Devil) کے گانے “سرکے چنر” کی ریلیز کے بعد پیدا ہوا تھا، جس پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں کی جانب سے فحاشی پھیلانے اور ثقافتی اقدار کے منافی ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ نورا فتحی کی جانب سے معافی نامہ جمع کروانے کے بعد اب اس معاملے کے قانونی و اخلاقی پہلوؤں پر بحث تھمنے کا امکان ہے۔