LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، سعودی عرب کا زرعی و غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک کال سینٹر کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فروخت: ایف آئی اے نے مزید 20 چینی شہریوں کو پاکستان بدر کر دیا پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 734 ہو گئی، 2,498 افراد لاپتہ شمالی کوریا کی فوجی کمان میں بڑی تبدیلی، وزیرِ دفاع سمیت کئی عہدیدار برطرف پاکستان اور ازبکستان کا اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد سے مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں: ایرانی صدر جماعت اسلامی کے دھرنوں کے 2 ہفتے مکمل، آج راولپنڈی میں تاریخی جلسے کا اعلان بانی پی ٹی آئی کی بہن بتا چکی عمران خان بالکل فٹ ہیں، وزیر دفاع پمز سانحہ: بچوں کو بچانے کی کوششیں ثابت، 9 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی

حق مہر میں جائیداد کی منتقلی پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، نکاح نامے میں تبدیلی کا حکم

Web Desk

11 May 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حق مہر میں دی گئی جائیداد کی منتقلی سے متعلق اہم قانونی اصول طے کر دیے ہیں۔ جسٹس شکیل احمد کی جانب سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ مشترکہ جائیداد کا کوئی بھی حصہ دار اپنے موروثی حصے سے زیادہ جائیداد منتقل کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر مشترکہ جائیداد میں صرف اپنے حصے کی حد تک ہی حق مہر دے سکتا ہے اور پورے گھر کو حق مہر میں دینے کا دعویٰ دیگر قانونی ورثاء کے حقوق پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے نکاح رجسٹرار اور نکاح خواں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حق مہر میں درج جائیداد کی ملکیت کی پہلے تصدیق کریں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے نکاح نامہ میں جائیداد کی ملکیت سے متعلق ایک علیحدہ کالم شامل کرنے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی کاپی تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو ضروری کارروائی اور فوری عملدرآمد کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ عدالت نے یہ اصول طے کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر سول پٹیشن کو خارج کر دیا۔