مارکیٹ میں کپاس کی قیمتیوں کا ملا جلا رجحان
Web Desk
24 November 2025
کراچی کپاس ایسوسی ایشن کے مطابق اسپاٹ ریٹ 15,200 روپے فی من پر مستحکم رہا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس سال کپاس کی پیداوار خطرناک حد تک کم ہو کر تقریباً 55 لاکھ گانٹھوں تک رہنے کا امکان ہے، جو پچھلے سال کے برابر ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی غیر موافق پالیسیوں کے باعث 300 سے زائد جننگ فیکٹریاں اور 150 سے زائد ٹیکسٹائل ملز غیر فعال ہو چکی ہیں، جس سے کپاس کی کھپت اور پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
حالانکہ حکومت نے اگلے پانچ برس میں ٹیکسٹائل اور اپیرل برآمدات میں 64 فیصد اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن نئی شوگر ملوں کے قیام کی اجازت نے کپاس کی پیداوار پر خدشات بڑھا دیے ہیں، کیونکہ گنے کی کاشت میں اضافہ کپاس کی زمین کو متاثر کرے گا۔
سندھ اور پنجاب میں کپاس کی قیمتیں 14,700 سے 16,000 روپے فی من کے درمیان، جبکہ پٹھی کی قیمتیں 6,000 سے 8,200 روپے فی 40 کلوگرام ہیں۔
اسی طرح بلوچستان میں کپاس 15,300 سے 16,000 روپے اور پٹھی 7,800 سے 9,200 روپے فی 40 کلوگرام میں فروخت ہو رہی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ کپاس کے تین اہم اسٹیک ہولڈرز کاشتکار، جنرز اور اسپننگ ملیں فی الحال انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ کاشتکار معیاری بیج، ادویات اور مناسب رہنمائی نہ ملنے سے متاثر ہیں، جنرز غیر منصفانہ ٹیکس بوجھ اور بجلی کے بھاری اخراجات میں الجھے ہوئے ہیں اور اسپننگ ملیں بڑھتی ہوئی پیداوار لاگت اور درآمدی یارن کے دباؤ سے بحران کا شکار ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ایرانی کرنسی نئی امریکی پابندیوں کے باعث تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
24 August 2026
سونا مسلسل تیسرے روز بھی ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر: فی تولہ قیمت میں 5 ہزار 700 روپے کا اضافہ
22 August 2026
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران منفی رجحان
22 August 2026
وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ڈیلرز مارجن میں اضافہ کر دیا
21 August 2026
عالمی و مقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ
21 August 2026
پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام متعارف، جدید مالیاتی نظام کی جانب اہم پیش رفت
21 August 2026
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز
21 August 2026
زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.5 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ
20 August 2026