LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایف ڈبلیو او کی کارکردگی انتہائی ناقص، ایوان مطمئن نہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی بلاول بھٹو زرداری کا کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کیا: اقوام متحدہ کا انکوائری کمیشن یمنی افواج کے 24 گھنٹے میں حوثی ملیشیا پر 1276 حملے، 382 کمانڈر و اہلکار نشانہ بنے وزیراعظم سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی آج ملاقات طے ایران نے یورپ اور امریکا کو نشانہ بنانے والے میزائل تیار کر لیے: ٹرمپ کوٹ ادو: 3 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا سبزی فروش گرفتار بھارت کشمیریوں کے جزبہ حریت کو ختم نہیں کر سکتا: صدر، وزیراعظم آزاد کشمیر ایران پر حملے کی مخالفت: اسرائیلی وزیراعظم کا آرمی چیف کو برطرف کرنے کا امکان امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں معمولی اضافہ امریکی صدر کا انتخابی دھاندلی کی نشاندہی کرنے والوں کیلئے 10 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان اردن کی جنوبی شام میں مبینہ دہشتگرد تنظیموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق شام میں دمشق اور حمص کو ملانے والی شاہراہ پر ڈرون حملہ، 3 افراد ہلاک امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی کم کرنے کیلئے اہم پیش رفت یوکرین کو روسی حملوں سے دفاع کیلئے اہم امریکی میزائلوں کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا

مارکیٹ میں کپاس کی قیمتیوں کا ملا جلا رجحان

Web Desk

24 November 2025

کراچی کپاس ایسوسی ایشن کے مطابق اسپاٹ ریٹ 15,200 روپے فی من پر مستحکم رہا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس سال کپاس کی پیداوار خطرناک حد تک کم ہو کر تقریباً 55 لاکھ گانٹھوں تک رہنے کا امکان ہے، جو پچھلے سال کے برابر ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی غیر موافق پالیسیوں کے باعث 300 سے زائد جننگ فیکٹریاں اور 150 سے زائد ٹیکسٹائل ملز غیر فعال ہو چکی ہیں، جس سے کپاس کی کھپت اور پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

حالانکہ حکومت نے اگلے پانچ برس میں ٹیکسٹائل اور اپیرل برآمدات میں 64 فیصد اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن نئی شوگر ملوں کے قیام کی اجازت نے کپاس کی پیداوار پر خدشات بڑھا دیے ہیں، کیونکہ گنے کی کاشت میں اضافہ کپاس کی زمین کو متاثر کرے گا۔

سندھ اور پنجاب میں کپاس کی قیمتیں 14,700 سے 16,000 روپے فی من کے درمیان، جبکہ پٹھی کی قیمتیں 6,000 سے 8,200 روپے فی 40 کلوگرام ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں کپاس 15,300 سے 16,000 روپے اور پٹھی 7,800 سے 9,200 روپے فی 40 کلوگرام میں فروخت ہو رہی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ کپاس کے تین اہم اسٹیک ہولڈرز کاشتکار، جنرز اور اسپننگ ملیں فی الحال انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ کاشتکار معیاری بیج، ادویات اور مناسب رہنمائی نہ ملنے سے متاثر ہیں، جنرز غیر منصفانہ ٹیکس بوجھ اور بجلی کے بھاری اخراجات میں الجھے ہوئے ہیں اور اسپننگ ملیں بڑھتی ہوئی پیداوار لاگت اور درآمدی یارن کے دباؤ سے بحران کا شکار ہیں۔