LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے پٹرولیم لیوی کیخلاف جدوجہد سے حکومت ریلیف دینے پر مجبور ہوئی: حافظ نعیم وزیراعظم کا عوام کیلئے خصوصی پٹرول ریلیف سکیم کا اعلان پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف: حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات منگل تک موخر صوبوں کی تقسیم سے انتظامی یونٹس یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ نکل سکتا ہے: رانا ثناءاللہ سعودیہ سے جنگ نہیں، امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کرے: مسعود پزشکیان ملائیشین وزیراعظم کا پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ماننے سے صاف انکار پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں: حافظ نعیم الرحمٰن

مارکیٹ میں کپاس کی قیمتیوں کا ملا جلا رجحان

Web Desk

24 November 2025

کراچی کپاس ایسوسی ایشن کے مطابق اسپاٹ ریٹ 15,200 روپے فی من پر مستحکم رہا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس سال کپاس کی پیداوار خطرناک حد تک کم ہو کر تقریباً 55 لاکھ گانٹھوں تک رہنے کا امکان ہے، جو پچھلے سال کے برابر ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی غیر موافق پالیسیوں کے باعث 300 سے زائد جننگ فیکٹریاں اور 150 سے زائد ٹیکسٹائل ملز غیر فعال ہو چکی ہیں، جس سے کپاس کی کھپت اور پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

حالانکہ حکومت نے اگلے پانچ برس میں ٹیکسٹائل اور اپیرل برآمدات میں 64 فیصد اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن نئی شوگر ملوں کے قیام کی اجازت نے کپاس کی پیداوار پر خدشات بڑھا دیے ہیں، کیونکہ گنے کی کاشت میں اضافہ کپاس کی زمین کو متاثر کرے گا۔

سندھ اور پنجاب میں کپاس کی قیمتیں 14,700 سے 16,000 روپے فی من کے درمیان، جبکہ پٹھی کی قیمتیں 6,000 سے 8,200 روپے فی 40 کلوگرام ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں کپاس 15,300 سے 16,000 روپے اور پٹھی 7,800 سے 9,200 روپے فی 40 کلوگرام میں فروخت ہو رہی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ کپاس کے تین اہم اسٹیک ہولڈرز کاشتکار، جنرز اور اسپننگ ملیں فی الحال انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ کاشتکار معیاری بیج، ادویات اور مناسب رہنمائی نہ ملنے سے متاثر ہیں، جنرز غیر منصفانہ ٹیکس بوجھ اور بجلی کے بھاری اخراجات میں الجھے ہوئے ہیں اور اسپننگ ملیں بڑھتی ہوئی پیداوار لاگت اور درآمدی یارن کے دباؤ سے بحران کا شکار ہیں۔