LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کا بڑا آپریشن؛ اورماڑہ کے ساحل سے لاپتہ نجی کارگو طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا گیا نائب وزیراعظم وکی زیر صدارت او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی تیاریوں سے متعلق اہم اجلاس ملک میں سیکیورٹی اداروں کے کردار کو واضح کیا جائے،: محمود خان اچکزئی چند لوگوں کی انا کی تسکین کے لیے صوبوں کو آگ میں دھکیلا جا رہا ہے، تمام جماعتیں بلوچستان کے معاملے پر اکٹھی بیٹھیں: اسد قیصر دہشت گردی کے خاتمے کے ایجنڈے پر سب کو اکٹھا ہونا پڑے گا: بیرسٹر گوہر علی خان وفاقی وزیر احسن اقبال کی شکاگو میں پاکستانی نژاد امریکی کاروباری و ٹیکنالوجی برادری سے ملاقات؛ پاکستان کی معاشی ترقی اور ‘اڑان پاکستان’ پروگرام میں فعال شراکت کی دعوت سیو بلوچستان آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری: جبری گمشدگیوں، سرحدی بندشوں اور وسائل پر قبضے کی شدید مذمت، طاقت کے بجائے سیاسی مذاکرات کا مطالبہ امریکا کو مدد دینے والے ملک کا ہر فوجی اڈہ نشانے پر ہوگا، ایران کی دھمکی امریکا کا بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن، 37 افراد پر فردجرم، 24 گرفتار چین نے امریکی کمپنی اینتھروپک کے اے آئی کوڈنگ ٹول کے استعمال کے بارے میں خبردار کردیا بلوچستان میں 4 روز کے دوران 54 دہشت گرد ہلاک، وطنِ عزیز کے دفاع میں 42 جوان شہید: ڈی جی آئی ایس پی آر ’’ایران کینسر ہے‘‘ ٹرمپ کا جنگ بندی ختم کرنے کا باضابطہ اعلان گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ سولر منصوبے پر وزیراعظم کا جائزہ اجلاس چائلڈ پورنوگرافی، زبردستی شادیوں اور جرگوں کےرپورٹ میں ہولناک انکشافات ایران، امریکا کشیدگی: قطر اور چین کی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

مارکیٹ میں کپاس کی قیمتیوں کا ملا جلا رجحان

Web Desk

24 November 2025

کراچی کپاس ایسوسی ایشن کے مطابق اسپاٹ ریٹ 15,200 روپے فی من پر مستحکم رہا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس سال کپاس کی پیداوار خطرناک حد تک کم ہو کر تقریباً 55 لاکھ گانٹھوں تک رہنے کا امکان ہے، جو پچھلے سال کے برابر ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی غیر موافق پالیسیوں کے باعث 300 سے زائد جننگ فیکٹریاں اور 150 سے زائد ٹیکسٹائل ملز غیر فعال ہو چکی ہیں، جس سے کپاس کی کھپت اور پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

حالانکہ حکومت نے اگلے پانچ برس میں ٹیکسٹائل اور اپیرل برآمدات میں 64 فیصد اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن نئی شوگر ملوں کے قیام کی اجازت نے کپاس کی پیداوار پر خدشات بڑھا دیے ہیں، کیونکہ گنے کی کاشت میں اضافہ کپاس کی زمین کو متاثر کرے گا۔

سندھ اور پنجاب میں کپاس کی قیمتیں 14,700 سے 16,000 روپے فی من کے درمیان، جبکہ پٹھی کی قیمتیں 6,000 سے 8,200 روپے فی 40 کلوگرام ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں کپاس 15,300 سے 16,000 روپے اور پٹھی 7,800 سے 9,200 روپے فی 40 کلوگرام میں فروخت ہو رہی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ کپاس کے تین اہم اسٹیک ہولڈرز کاشتکار، جنرز اور اسپننگ ملیں فی الحال انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ کاشتکار معیاری بیج، ادویات اور مناسب رہنمائی نہ ملنے سے متاثر ہیں، جنرز غیر منصفانہ ٹیکس بوجھ اور بجلی کے بھاری اخراجات میں الجھے ہوئے ہیں اور اسپننگ ملیں بڑھتی ہوئی پیداوار لاگت اور درآمدی یارن کے دباؤ سے بحران کا شکار ہیں۔