LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ترک وزیر خارجہ کی حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات، امن مذاکرات پر زور اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کا ریٹائرڈ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ وزیراعظم کی بجلی چوری کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی ایران کا اردن میں امریکی ایئربیس پر حملہ، تین ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم 4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ

مارکیٹ میں کپاس کی قیمتیوں کا ملا جلا رجحان

Web Desk

24 November 2025

کراچی کپاس ایسوسی ایشن کے مطابق اسپاٹ ریٹ 15,200 روپے فی من پر مستحکم رہا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اس سال کپاس کی پیداوار خطرناک حد تک کم ہو کر تقریباً 55 لاکھ گانٹھوں تک رہنے کا امکان ہے، جو پچھلے سال کے برابر ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی غیر موافق پالیسیوں کے باعث 300 سے زائد جننگ فیکٹریاں اور 150 سے زائد ٹیکسٹائل ملز غیر فعال ہو چکی ہیں، جس سے کپاس کی کھپت اور پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

حالانکہ حکومت نے اگلے پانچ برس میں ٹیکسٹائل اور اپیرل برآمدات میں 64 فیصد اضافہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن نئی شوگر ملوں کے قیام کی اجازت نے کپاس کی پیداوار پر خدشات بڑھا دیے ہیں، کیونکہ گنے کی کاشت میں اضافہ کپاس کی زمین کو متاثر کرے گا۔

سندھ اور پنجاب میں کپاس کی قیمتیں 14,700 سے 16,000 روپے فی من کے درمیان، جبکہ پٹھی کی قیمتیں 6,000 سے 8,200 روپے فی 40 کلوگرام ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں کپاس 15,300 سے 16,000 روپے اور پٹھی 7,800 سے 9,200 روپے فی 40 کلوگرام میں فروخت ہو رہی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ کپاس کے تین اہم اسٹیک ہولڈرز کاشتکار، جنرز اور اسپننگ ملیں فی الحال انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ کاشتکار معیاری بیج، ادویات اور مناسب رہنمائی نہ ملنے سے متاثر ہیں، جنرز غیر منصفانہ ٹیکس بوجھ اور بجلی کے بھاری اخراجات میں الجھے ہوئے ہیں اور اسپننگ ملیں بڑھتی ہوئی پیداوار لاگت اور درآمدی یارن کے دباؤ سے بحران کا شکار ہیں۔