گردوں کی خطرناک بیماری: وہ 7 علامات جنہیں نظر انداز کرنا خطرناک ہوسکتا ہے
Web Desk
5 June 2026
اسلام آباد/کراچی: طبی ماہرین نے حالیہ برسوں میں گردوں کے امراض میں ہونے والے تشویشناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں، خصوصاً شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ابتدائی علامات کو بروقت پہچان کر گردے فیل ہونے جیسی سنگین پیچیدگیوں سے بچیں کیونکہ گردے انسانی جسم کے وہ اہم ترین اعضا ہیں جو خون کی صفائی، فاضل مادوں اور اضافی پانی کے اخراج کا کام کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق اگر گردے صحیح انداز میں کام کرتے رہیں تو کئی دائمی بیماریوں کا خطرہ خود بخود کم ہو جاتا ہے۔ تاہم، اکثر ابتدائی مرحلے میں کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی، لیکن جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، جسم میں کئی نمایاں تبدیلیاں سامنے آنے لگتی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین نے مینوئل گائیڈ جاری کرتے ہوئے درج ذیل علامات پر فوری نظر رکھنے کی تاکید کی ہے بار بار پیشاب آنا (خصوصاً رات کے وقت)، جھاگ دار پیشاب، پیشاب میں خون کا آنا یا پیشاب کرنے میں شدید دشواری ہونا۔گردوں کی جانب سے اضافی سیال خارج نہ کرنے کے باعث پیروں، ٹخنوں، ہاتھوں، چہرے اور آنکھوں کے گرد سوجن کا پیدا ہونا۔خون میں زہریلے مادوں کے جمع ہونے اور خون کی کمی (Anemia) کے باعث مریض کا ہر وقت شدید تھکن محسوس کرنا۔ زہریلے مادوں کے خون میں شامل ہونے سے جلد پر خارش، خشکی اور دانوں کا نمودار ہونا۔ نظامِ ہاضمہ متاثر ہونے سے متلی، الٹی، بھوک کا نہ لگنا، پیٹ کا ہر وقت بھرا محسوس ہونا اور سانس سے بدبو آنا۔ جسم میں پوٹاشیم، کیلشیم اور دیگر ضروری معدنیات (Minerals) کا توازن بگڑنے سے ٹانگوں اور دیگر پٹھوں میں بار بار درد ہونا۔ڈاکٹروں نے واضع کیا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس (شوگر) وہ خاموش قاتل ہیں جو گردوں کی دائمی بیماری اور ان کے فیل ہونے کی سب سے بڑی وجہ بنتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر گردوں کی حساس خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ شوگر کی زیادتی گردوں کے باریک فلٹرز کو مفلوج کر دیتی ہے، جس سے ان کی کارکردگی بتدریج ختم ہو جاتی ہے۔طبی ماہرین نے سخت تاکید کی ہے کہ یہ علامات ظاہر ہونے پر انہیں عام بیماری سمجھ کر نظر انداز نہ کریں بلکہ فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ خاص طور پر شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سالانہ یا چھ ماہ بعد اپنے گردوں کے باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ لازمی کرواتے رہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خرابی کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے
متعلقہ عنوانات
مون سون میں فالج کا خطرہ کیوں بڑھ سکتا ہے؟ ماہرین نے اہم احتیاطی تدابیر بتا دیں
30 July 2026
امریکن ریڈ کراس کا خون کے ذخائر کی دوسری قومی سطح کی قلت کا اعلان
30 July 2026
بیشتر معمر افراد 8 گھنٹے تک سونے کے باوجود پُر سکون نیند سے محروم
30 July 2026
ایف آئی اے کی کارروائی، جعلی ادویات تیار کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب
29 July 2026
پاکستان میں 1 کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار: عالمی ادارہ صحت
29 July 2026
ایکیوپنکچر علاج مہنگا پڑ گیا، خاتون کی ٹانگ میں سوئیوں کے ٹکڑے پھنس گئے
29 July 2026
ملک میں ہر تیسرا شہری ہیپاٹائٹس میں مبتلاہے،وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال
28 July 2026
ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے
28 July 2026