LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہلی کے سابق چیف سیکرٹری نے خودکشی کرلی حکومت کی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری لانگ مارچ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کل طلب یمن سے سعودیہ پر حملوں سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا: خواجہ آصف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوشل سٹڈیز کے متنازعہ تعلیمی نصاب کی منظوری، اسلام سے متعلق نصابی تبدیلیوں پر شدید تنقید امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل

’جاپانی مرد صرف سٹیڈیم نہیں، گھر کی صفائی بھی کریں‘ خواتین کا مشورہ

Web Desk

22 June 2026

بین الاقوامی فٹ بال ٹورنامنٹس اور ورلڈ کپ کے دوران اسٹیڈیمز کی صفائی کر کے دنیا بھر سے داد سمیٹنے والے جاپانی شائقین کا ایک دوسرا رخ خود جاپان کے اندر ہی زیرِ بحث آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک طنزیہ پوسٹ نے جاپانی مردوں کے اس مثالی رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے شکایت کی ہے کہ اسٹیڈیم چمکانے والے یہ مرد حضرات اپنے گھروں میں صفائی ستھرائی اور کام کاج میں حصہ لینے سے کتراتے ہیں۔حالیہ دنوں میں فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا (FIFA) نے اپنے آفیشل ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر نیلے لباس میں ملبوس جاپانی مداحوں کی تصاویر شیئر کیں، جو میچ کے اختتام پر اسٹینڈز سے کچرا اور خالی بوتلیں اٹھا رہے تھے۔ ان تصاویر کو عالمی سطح پر بے حد سراہا گیا، لیکن اسی دوران جاپان میں ایک مقامی صارف کی پوسٹ نے انٹرنیٹ پر طوفان کھڑا کر دیا جسے اب تک 19 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ وائرل پوسٹ میں ایک طنزیہ خاکہ شیئر کیا گیا، جس میں دکھایا گیا کہ جو شخص اسٹیڈیم کی صفائی پر فخر محسوس کر رہا ہے، وہ درحقیقت اپنے گھر میں صوفے پر آرام سے لیٹا ہوا ہے، جبکہ اس کے پاس کپڑوں کا ڈھیر پڑا ہے اور اس کی بیوی یا والدہ اکیلی کچن میں برتن دھو رہی ہیں۔”یہ کام (صفائی) کبھی گھر میں بھی کر لیا کریں”۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جاپانی مرد دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں گھریلو کام کاج کے لیے سب سے کم وقت صرف کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔سرکاری اور عالمی اعداد و شمار کا موازنہ: جاپانی کابینہ کے دفتر کے فراہم کردہ او ای سی ڈی (OECD) کے اعداد و شمار کے مطابق، خریداری، بچوں کی نگہداشت اور گھریلو امور جیسے ‘بلا معاوضہ کاموں’ میں خواتین اور مردوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔مردوں کے مقابلے میں خواتین کے گھریلو کام کاج کی شرح کا عالمی موازنہ درج ذیل جدول سے واضح ہوتا ہے:ملک کا ناممردوں کے مقابلے میں خواتین کا گھریلو کام کاج میں حصہجاپان5.5 گنا زیادہبرطانیہ1.8 گنا زیادہفرانس1.7 گنا زیادہامریکہ1.6 گنا زیادہیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جاپانی معاشرے میں جہاں باہر کی دنیا کے لیے صفائی اور نظم و ضبط کی اعلیٰ مثالیں قائم کی جاتی ہیں، وہیں صنفی برابری اور گھریلو ذمہ داریوں کی تقسیم کے معاملے میں مغربی ممالک کے مقابلے میں یہ فرق بدنام زمانہ حد تک زیادہ ہے۔ اس وائرل پوسٹ نے جاپانی صارفین کو ایک نئی معاشرتی بحث میں الجھا دیا ہے