LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور چین کا خطے میں امن و استحکام اور سفارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایرانی صدر پاکستان کا دورہ کرینگے، ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کر دی گلگت بلتستان اسمبلی: سپیکر و ڈپٹی سپیکر منتخب، پی پی اور آئی پی پی میں حکومت سازی پر اتفاق آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دی گئی، ایران کے ساتھ متعدد معاملات پر پیشرفت ہوئی: جے ڈی وینس ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کل ایک روزہ دورے پر پاکستان آنے کا امکان چین کی جانب سے پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کی حمایت سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی سے مکمل، کردار ادا کرتے رہیں گے: وزیراعظم بشریٰ بی بی کی بیٹی کا اڈیالہ جیل انتظامیہ کے خلاف کارروائی اور مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ، پولیس کو درخواست موصول پنکی کیس میں پردہ نشینوں کے نام ہیں لیکن کچھ بھی نہیں ہوگا,سردار لطیف کھوسہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا سوچا تھا ہاتھ ملانے سے معاملات بہتر ہونگے: بیرسٹر گوہر امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق خوش آئند ہے: سوئٹزر لینڈ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے معاملے پر اٹلی سمیت نیٹو اتحادیوں پر کڑی تنقید بجٹ کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہونا عوام پر اضافی بوجھ ہے: حافظ نعیم اپنی جماعت کا دباؤ: برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کے آج استعفے کا امکان

’جاپانی مرد صرف سٹیڈیم نہیں، گھر کی صفائی بھی کریں‘ خواتین کا مشورہ

Web Desk

22 June 2026

بین الاقوامی فٹ بال ٹورنامنٹس اور ورلڈ کپ کے دوران اسٹیڈیمز کی صفائی کر کے دنیا بھر سے داد سمیٹنے والے جاپانی شائقین کا ایک دوسرا رخ خود جاپان کے اندر ہی زیرِ بحث آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک طنزیہ پوسٹ نے جاپانی مردوں کے اس مثالی رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے شکایت کی ہے کہ اسٹیڈیم چمکانے والے یہ مرد حضرات اپنے گھروں میں صفائی ستھرائی اور کام کاج میں حصہ لینے سے کتراتے ہیں۔حالیہ دنوں میں فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا (FIFA) نے اپنے آفیشل ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر نیلے لباس میں ملبوس جاپانی مداحوں کی تصاویر شیئر کیں، جو میچ کے اختتام پر اسٹینڈز سے کچرا اور خالی بوتلیں اٹھا رہے تھے۔ ان تصاویر کو عالمی سطح پر بے حد سراہا گیا، لیکن اسی دوران جاپان میں ایک مقامی صارف کی پوسٹ نے انٹرنیٹ پر طوفان کھڑا کر دیا جسے اب تک 19 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ وائرل پوسٹ میں ایک طنزیہ خاکہ شیئر کیا گیا، جس میں دکھایا گیا کہ جو شخص اسٹیڈیم کی صفائی پر فخر محسوس کر رہا ہے، وہ درحقیقت اپنے گھر میں صوفے پر آرام سے لیٹا ہوا ہے، جبکہ اس کے پاس کپڑوں کا ڈھیر پڑا ہے اور اس کی بیوی یا والدہ اکیلی کچن میں برتن دھو رہی ہیں۔”یہ کام (صفائی) کبھی گھر میں بھی کر لیا کریں”۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جاپانی مرد دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں گھریلو کام کاج کے لیے سب سے کم وقت صرف کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔سرکاری اور عالمی اعداد و شمار کا موازنہ: جاپانی کابینہ کے دفتر کے فراہم کردہ او ای سی ڈی (OECD) کے اعداد و شمار کے مطابق، خریداری، بچوں کی نگہداشت اور گھریلو امور جیسے ‘بلا معاوضہ کاموں’ میں خواتین اور مردوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔مردوں کے مقابلے میں خواتین کے گھریلو کام کاج کی شرح کا عالمی موازنہ درج ذیل جدول سے واضح ہوتا ہے:ملک کا ناممردوں کے مقابلے میں خواتین کا گھریلو کام کاج میں حصہجاپان5.5 گنا زیادہبرطانیہ1.8 گنا زیادہفرانس1.7 گنا زیادہامریکہ1.6 گنا زیادہیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جاپانی معاشرے میں جہاں باہر کی دنیا کے لیے صفائی اور نظم و ضبط کی اعلیٰ مثالیں قائم کی جاتی ہیں، وہیں صنفی برابری اور گھریلو ذمہ داریوں کی تقسیم کے معاملے میں مغربی ممالک کے مقابلے میں یہ فرق بدنام زمانہ حد تک زیادہ ہے۔ اس وائرل پوسٹ نے جاپانی صارفین کو ایک نئی معاشرتی بحث میں الجھا دیا ہے