’جاپانی مرد صرف سٹیڈیم نہیں، گھر کی صفائی بھی کریں‘ خواتین کا مشورہ
Web Desk
22 June 2026
بین الاقوامی فٹ بال ٹورنامنٹس اور ورلڈ کپ کے دوران اسٹیڈیمز کی صفائی کر کے دنیا بھر سے داد سمیٹنے والے جاپانی شائقین کا ایک دوسرا رخ خود جاپان کے اندر ہی زیرِ بحث آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک طنزیہ پوسٹ نے جاپانی مردوں کے اس مثالی رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے شکایت کی ہے کہ اسٹیڈیم چمکانے والے یہ مرد حضرات اپنے گھروں میں صفائی ستھرائی اور کام کاج میں حصہ لینے سے کتراتے ہیں۔حالیہ دنوں میں فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا (FIFA) نے اپنے آفیشل ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر نیلے لباس میں ملبوس جاپانی مداحوں کی تصاویر شیئر کیں، جو میچ کے اختتام پر اسٹینڈز سے کچرا اور خالی بوتلیں اٹھا رہے تھے۔ ان تصاویر کو عالمی سطح پر بے حد سراہا گیا، لیکن اسی دوران جاپان میں ایک مقامی صارف کی پوسٹ نے انٹرنیٹ پر طوفان کھڑا کر دیا جسے اب تک 19 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ وائرل پوسٹ میں ایک طنزیہ خاکہ شیئر کیا گیا، جس میں دکھایا گیا کہ جو شخص اسٹیڈیم کی صفائی پر فخر محسوس کر رہا ہے، وہ درحقیقت اپنے گھر میں صوفے پر آرام سے لیٹا ہوا ہے، جبکہ اس کے پاس کپڑوں کا ڈھیر پڑا ہے اور اس کی بیوی یا والدہ اکیلی کچن میں برتن دھو رہی ہیں۔”یہ کام (صفائی) کبھی گھر میں بھی کر لیا کریں”۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جاپانی مرد دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں گھریلو کام کاج کے لیے سب سے کم وقت صرف کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔سرکاری اور عالمی اعداد و شمار کا موازنہ: جاپانی کابینہ کے دفتر کے فراہم کردہ او ای سی ڈی (OECD) کے اعداد و شمار کے مطابق، خریداری، بچوں کی نگہداشت اور گھریلو امور جیسے ‘بلا معاوضہ کاموں’ میں خواتین اور مردوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔مردوں کے مقابلے میں خواتین کے گھریلو کام کاج کی شرح کا عالمی موازنہ درج ذیل جدول سے واضح ہوتا ہے:ملک کا ناممردوں کے مقابلے میں خواتین کا گھریلو کام کاج میں حصہجاپان5.5 گنا زیادہبرطانیہ1.8 گنا زیادہفرانس1.7 گنا زیادہامریکہ1.6 گنا زیادہیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جاپانی معاشرے میں جہاں باہر کی دنیا کے لیے صفائی اور نظم و ضبط کی اعلیٰ مثالیں قائم کی جاتی ہیں، وہیں صنفی برابری اور گھریلو ذمہ داریوں کی تقسیم کے معاملے میں مغربی ممالک کے مقابلے میں یہ فرق بدنام زمانہ حد تک زیادہ ہے۔ اس وائرل پوسٹ نے جاپانی صارفین کو ایک نئی معاشرتی بحث میں الجھا دیا ہے
متعلقہ عنوانات
چین کا شاہکار: 625 میٹر بلندآبشار پُل، سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا
30 July 2026
برطانیہ: 116 سال بعد لائبریری کو کتابیں واپس لوٹا دی گئیں
30 July 2026
4 آم کی قیمت صرف ’’6 لاکھ 12 ہزار روپے‘‘
29 July 2026
بیوی کو تنہا نہ چھوڑنے کیلئے شوہر بھی گہرے مین ہول میں گرگیا
29 July 2026
مہنگی ترین طلاق، عدالت کا سابقہ بیوی کو 644 ملین ڈالر دینے کا حکم
29 July 2026
وسیم اکرم اور شنیرا کا پالتو کتا لاپتہ
29 July 2026
امریکا: 53 برس بعد بوتل میں بند پیغام مل گیا
28 July 2026
امریکی شہری کو سائیکل چلانے کے دوران مشعل جگلنگ کرنا مہنگا پڑ گیا
28 July 2026