LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی ایران کا اردن میں امریکی ایئربیس پر حملہ، تین ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم 4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئر لائنز کیلئے بڑا دھچکا نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق

’جاپانی مرد صرف سٹیڈیم نہیں، گھر کی صفائی بھی کریں‘ خواتین کا مشورہ

Web Desk

22 June 2026

بین الاقوامی فٹ بال ٹورنامنٹس اور ورلڈ کپ کے دوران اسٹیڈیمز کی صفائی کر کے دنیا بھر سے داد سمیٹنے والے جاپانی شائقین کا ایک دوسرا رخ خود جاپان کے اندر ہی زیرِ بحث آ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک طنزیہ پوسٹ نے جاپانی مردوں کے اس مثالی رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے شکایت کی ہے کہ اسٹیڈیم چمکانے والے یہ مرد حضرات اپنے گھروں میں صفائی ستھرائی اور کام کاج میں حصہ لینے سے کتراتے ہیں۔حالیہ دنوں میں فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا (FIFA) نے اپنے آفیشل ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر نیلے لباس میں ملبوس جاپانی مداحوں کی تصاویر شیئر کیں، جو میچ کے اختتام پر اسٹینڈز سے کچرا اور خالی بوتلیں اٹھا رہے تھے۔ ان تصاویر کو عالمی سطح پر بے حد سراہا گیا، لیکن اسی دوران جاپان میں ایک مقامی صارف کی پوسٹ نے انٹرنیٹ پر طوفان کھڑا کر دیا جسے اب تک 19 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ وائرل پوسٹ میں ایک طنزیہ خاکہ شیئر کیا گیا، جس میں دکھایا گیا کہ جو شخص اسٹیڈیم کی صفائی پر فخر محسوس کر رہا ہے، وہ درحقیقت اپنے گھر میں صوفے پر آرام سے لیٹا ہوا ہے، جبکہ اس کے پاس کپڑوں کا ڈھیر پڑا ہے اور اس کی بیوی یا والدہ اکیلی کچن میں برتن دھو رہی ہیں۔”یہ کام (صفائی) کبھی گھر میں بھی کر لیا کریں”۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ جاپانی مرد دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں گھریلو کام کاج کے لیے سب سے کم وقت صرف کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔سرکاری اور عالمی اعداد و شمار کا موازنہ: جاپانی کابینہ کے دفتر کے فراہم کردہ او ای سی ڈی (OECD) کے اعداد و شمار کے مطابق، خریداری، بچوں کی نگہداشت اور گھریلو امور جیسے ‘بلا معاوضہ کاموں’ میں خواتین اور مردوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔مردوں کے مقابلے میں خواتین کے گھریلو کام کاج کی شرح کا عالمی موازنہ درج ذیل جدول سے واضح ہوتا ہے:ملک کا ناممردوں کے مقابلے میں خواتین کا گھریلو کام کاج میں حصہجاپان5.5 گنا زیادہبرطانیہ1.8 گنا زیادہفرانس1.7 گنا زیادہامریکہ1.6 گنا زیادہیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جاپانی معاشرے میں جہاں باہر کی دنیا کے لیے صفائی اور نظم و ضبط کی اعلیٰ مثالیں قائم کی جاتی ہیں، وہیں صنفی برابری اور گھریلو ذمہ داریوں کی تقسیم کے معاملے میں مغربی ممالک کے مقابلے میں یہ فرق بدنام زمانہ حد تک زیادہ ہے۔ اس وائرل پوسٹ نے جاپانی صارفین کو ایک نئی معاشرتی بحث میں الجھا دیا ہے