LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

جاپان: ریچھوں کو آبادی سے دور رکھنے کیلئے روبوٹ بھیڑیے تعینات

Web Desk

14 December 2025

ہوکائیڈو میں قائم پریزیشن مشیننگ کمپنی اوہٹا سیکی کے تیار کردہ روبوٹ بھیڑیوں کو کھیتوں اور دیگر علاقوں جہاں ریچھوں کے آبادی پر حملے کا امکان ہے وہاں انسانوں کی حفاظت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

جب کوئی جانور آبادی کے قریب آئے گا، ان روبوٹ بھیڑیوں کے انفراریڈ سینسر متحرک ہو جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں میں سرخ رنگ کی لائٹس جلنے لگتی ہیں جس کے بعد ان کا سر گھومتا ہے پھر نیلی ایل ای ڈی لائٹس چمکنے لگتی ہیں اور یہ ایک گاڑی کے ہارن کی طرح تیز آوازیں نکالتے ہیں۔

یہ روبوٹ بھیڑیے تقریباً 50 مختلف آوازوں نکال سکتے ہیں جن میں جانوروں کی چیخیں اور انسانی آوازیں شامل ہیں، جاپان میں یہ تجربہ 2016ء میں بھی کیا گیا تھا لیکن اس وقت یہ ناکام ہوگیا تھا لیکن اب جب دوبارہ یہ تجربہ کیا گیا تو کامیاب رہا۔

اوہٹا سیکی کے صدر یوجی اوٹا نے بتایا کہ ریچھ بہت محتاط رہ کر کام کرنے والا جانور ہے اور اکثر اکیلے ہی اپنا کام کرتا ہے، اس لیے جب کوئی اونچی آواز سنتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ یہاں آس پاس کوئی خطرہ ہے اس لیے پھر وہ آبادی کے قریب نہیں آئے گا۔