LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عرفان صادق تارڑ پراسکیوٹر جنرل پنجاب تعینات افواجِ پاکستان اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار، امن و استحکام کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل امن منصوبے پر مثبت پیش رفت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے: دفتر خارجہ سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں: ایرانی فوج پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل پیٹرول پر لیوی بھتہ ٹیکس، فارم 45 کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے,حافظ نعیم الرحمٰن امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف وزیراعلیٰ پنجاب کی امریکی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کو سرمایہ کاری کی دعوت کشمیر کی حکومت و مستقبل کے فیصلے کشمیری عوام خود کریں: بلاول بھٹو زرداری سورینج کان حادثہ: 45 گھنٹے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 34 لاشیں نکال لی گئیں ایف بی آر نے جولائی میں ہدف سے 40 ارب روپے زائد ٹیکس وصول کر لیا بھارت نے مسلسل گیارہویں مرتبہ سلال ڈیم سے پانی چھوڑ دیا، فلڈ الرٹ جاری عمانی ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر نامعلوم سمت سے حملہ

سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی

Web Desk

1 August 2026

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے سندھ میں نئے صوبے کی تشکیل کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے عوام کی اکثریت مزید صوبے نہیں چاہتی، جبکہ یہ مطالبہ بنیادی طور پر پنجاب کے عوام کا ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ آئین کے تحت نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری ضروری ہوتی ہے، اور پنجاب میں بیٹھ کر سندھ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ محسن نقوی کے حالیہ بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے سعید غنی نے کراچی کے واٹر بحران پر بھی بات کی اور کہا کہ پانی کے ٹینکرز کو اچانک بند کرنا زمینی حقائق سے لاعلمی ہے، کیونکہ شہر کو 100 کلومیٹر دور سے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) 2024 کے عام انتخابات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں دھاندلی اور فارم 47 کے سہارے اقتدار میں آئی، جبکہ پیپلز پارٹی عوامی ووٹوں کی طاقت سے ایوان میں پہنچی ہے۔