LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول بھٹو کا جوائنٹ کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے جواب کا خیرمقدم امریکا کی مشرق وسطیٰ میں اپنے شہریوں کو انخلا کیلئے تیار رہنے کی ہدایت وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی و سیاسی صورتحال پر مشاورت بارشیں اور سیلابی صورتحال: وزارت ریلوے ہائی الرٹ، افسران کی چھٹیاں منسوخ دہشتگردی کی منصوبہ بندی میں ملوث کالعدم تنظیم کے تین ملزمان کو 7، 7 سال قید کی سزا آزاد کشمیر انتخابات: ملتان میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل، کانٹے دار مقابلے کا امکان شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 دہشت گرد ہلاک، میجر شہید ہر گھرغریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے: شاہد خاقان عباسی حکومت پر برس پڑے عرفان صادق تارڑ پراسکیوٹر جنرل پنجاب تعینات افواجِ پاکستان اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار، امن و استحکام کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل امن منصوبے پر مثبت پیش رفت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے: دفتر خارجہ سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں: ایرانی فوج پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل

12 سال قبل مردہ قرار دیے جانے والے شخص کی گھر واپسی

Web Desk

12 December 2025

انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے ایک خاندان نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ شخص جس کی آخری رسومات انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ادا کی تھیں وہ 12 سال بعد واپس آجائے گا، مگر مہاراشٹر کے شہر پونے کے ریجنل مینٹل ہسپتال کے عملے اور پولیس افسران کے تعاون کی بدولت کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔

ابتدا میں شیوم کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ 2013 میں اتراکھنڈ کے مذہبی مقام کیدارناتھ میں آنے والے سیلاب میں بہہ گیا تھا، انہیں لاپتا جان کر مردہ قرار دیا گیا تھا اور ان کی علامتی آخری رسومات بھی ادا کر دی گئی تھیں، لیکن گزشتہ دنوں یہ شخص وہاں سے سینکڑوں میل دور مہاراشٹر میں زندہ پائے گئے ہیں۔

شیوم 2021 میں چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع کے ویجاپور تعلقہ میں کچھ لوگ ایک مندر سے چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے، چوروں نے گاؤں والوں کو بتایا کہ چوری وہاں رہنے والے ایک شخص نے کروائی ہے، اسی مندر میں ایک ادھیڑ عمر شخص رہتا تھا، جسے چوری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

جب اس شخص کو عدالت میں پیش کیا گیا تو جج کو معلوم ہوا کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہے اور پولیو کا شکار بھی ہے، دونوں ٹانگوں میں معذوری کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا، عدالت نے اسے ہسپتال بھیج دیا۔

جج کے حکم پر اسے یرواڈا مینٹل ہسپتال کے قیدی وارڈ میں داخل کروا دیا گیا، وہاں کا عملہ اسے شیوم کہنے لگا، یہ اس کا اصلی نام نہیں تھا بلکہ یہ نام اسے ہسپتال کے عملے نے دیا تھا۔

سنہ 2023 میں روہنی بھوسلے متعلقہ وارڈ کی سوشل سروس سپرنٹنڈنٹ بن گئیں، اس کے بعد روہنی نے شیوم کی فائل کو دیکھا اور ان سے بات کرنے کی کوشش کی، شیوم کو مراٹھی نہیں آتی تھی۔ جب روہنی نے دیکھا کہ وہ تھوڑی ہندی بولنے کی کوشش کر رہے ہیں تو انہوں نے شیوم سے ہندی میں بات کرنے کی کوشش کی، تب ہی انہیں احساس ہوا کہ شیوم پہاڑی ہندی لہجے میں بات کر رہے ہیں۔

یہ سمجھتے ہوئے کہ شیوم اپنے خاندان یا ماضی کی یادوں کے بارے میں زیادہ انکشاف نہیں کر سکتا، روہنی نے ان سے ان کے سکول کے بارے میں پوچھا، سکول کا موضوع آیا تو انہوں نے روڑکی کے ایک سکول کا ذکر کیا۔

روہنی نے بتایا کہ جب میں نے سکول کا نام سنا تو مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ کس شہر میں ہے، لیکن پھر بات چیت میں ہری دوار کا ذکر آیا اور میں نے گوگل پر سرچ کرنا شروع کر دیا کہ کیا ہری دوار یا اس کے آس پاس اس نام کا کوئی سکول موجود ہے۔

روہنی کہتی ہیں کہ مجھے ایک سکول ملا جس کا نام شیوم نے لیا تھا، میں نے شیوم کو سکول کی تصویر دکھائی اور اس نے فوراً اسے پہچان لیا، اس کی آنکھیں چمک اٹھیں، اس کے بعد روہنی نے روڑکی اور ہری دوار میں پولیس سے رابطہ کیا۔ جب اتراکھنڈ پولیس نے چھان بین کی تو پتہ چلا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق شیوم سنہ 2013 کے کیدارناتھ سیلاب میں بہہ گیا تھا