LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے ہلاکتوں پر اظہار تعزیت مہمند ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم قومی منصوبہ ہے: چیئرمین واپڈا یومِ دفاع پر سائبر حملوں کا خدشہ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی اہم ہدایات ٹرمپ اور اماراتی صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکی حملوں میں شہید شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا: پاسداران انقلاب نیتن یاہو کا ایرانی حکومت گرانے کیلئے کام جاری رکھنے کا اعلان پاکستان کی روسی مشرق بعید کے ساتھ تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے کی تجویز مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے: ملک احمد خان سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار کثرت رائے سے مسترد

اردو زبان کے مشہور شاعر اور مجاہدِ آزادی حسرت موہانی کی آج 75 ویں برسی

Web Desk

13 May 2026

اردو زبان کے ممتاز شاعر، نڈر صحافی اور تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد مولانا حسرت موہانی کی آج 75ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ سید فضل الحسن (حسرت موہانی) 1875 میں موہان (بھارت) میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی حق گوئی، بے باکی اور وطن کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔ علی گڑھ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1903 میں رسالہ ”اردوئے معلیٰ“ جاری کیا، جو اردو ادب اور سیاست کا ایک اہم ترجمان ثابت ہوا۔حسرت موہانی کو ان کی غزل گوئی کی بدولت ”رئیس المتغزلین“ کا خطاب دیا گیا۔ وہ نہ صرف ایک بڑے شاعر تھے بلکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں بھی شامل تھے اور انہوں نے پہلی بار مکمل آزادی (آزادیِ کامل) کا تصور پیش کیا۔ برطانوی راج کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، جس دوران ان کا گھر بار اور پریس بھی تباہ ہوا، مگر انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ اپنی سادگی اور زہد و تقویٰ کے لیے بھی مشہور تھے؛ انہوں نے زندگی بھر کل 13 حج ادا کیے۔ اردو کا یہ عظیم سپوت 13 مئی 1951 کو لکھنؤ میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔