LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا چین کو اسلحہ فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں: امریکی حکام چاروں صوبوں میں ترقی ہونی چاہیے، کوئی پاکستان میں مداخلت کرے گا تو بھرپور جواب دیں گے: چیئرمین سینیٹ امریکا کا آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کا دعویٰ مسترد پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے چوتھے جائزے پر مذاکرات جاری کابینہ کمیٹی اجلاس: قانون سازی کیلئے وزارتوں کو ترامیم اور سفارشات بھجوانے کی ہدایت ایرانی فوج کا آبنائے ہرمز اور خلیج فارس پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ امریکی افغانستان جنگ کمیشن کے وفد کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، علاقائی سکیورٹی پر تبادلہ خیال ثالث ملکوں کے نمائندوں کے امریکا، ایران سے الگ الگ مذاکرات متوقع بانی پی ٹی آئی سے منگل کو وکلا کی ملاقات کا دن، 6 نام جیل حکام کو ارسال ایشین گیمز ہاکی: پاکستان نے عمان کو شکست دیکر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا بانی پی ٹی آئی کا حکم ملا تو دوبارہ وزیراعلیٰ بن سکتا ہوں: علی امین گنڈاپور حسن نصراللہ مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای 4 اکتوبر کو احتجاج کیلئے پی ٹی آئی کی کوئی تیاری نہیں: عطا تارڑ سٹاک ایکسچینج: 100 انڈیکس میں 339 پوائنٹس کی کمی راولپنڈی میں غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے میں 61 ملزمان گرفتار

اردو زبان کے مشہور شاعر اور مجاہدِ آزادی حسرت موہانی کی آج 75 ویں برسی

Web Desk

13 May 2026

اردو زبان کے ممتاز شاعر، نڈر صحافی اور تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد مولانا حسرت موہانی کی آج 75ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ سید فضل الحسن (حسرت موہانی) 1875 میں موہان (بھارت) میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی حق گوئی، بے باکی اور وطن کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔ علی گڑھ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1903 میں رسالہ ”اردوئے معلیٰ“ جاری کیا، جو اردو ادب اور سیاست کا ایک اہم ترجمان ثابت ہوا۔حسرت موہانی کو ان کی غزل گوئی کی بدولت ”رئیس المتغزلین“ کا خطاب دیا گیا۔ وہ نہ صرف ایک بڑے شاعر تھے بلکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں بھی شامل تھے اور انہوں نے پہلی بار مکمل آزادی (آزادیِ کامل) کا تصور پیش کیا۔ برطانوی راج کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، جس دوران ان کا گھر بار اور پریس بھی تباہ ہوا، مگر انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ اپنی سادگی اور زہد و تقویٰ کے لیے بھی مشہور تھے؛ انہوں نے زندگی بھر کل 13 حج ادا کیے۔ اردو کا یہ عظیم سپوت 13 مئی 1951 کو لکھنؤ میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔