LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا پاکستان تعلقات میں پیش رفت کا سلسلہ جاری ہے، امریکی سفارتخانہ آزاد کشمیر میں مرحلہ وار الیکشن دھاندلی کیلئے کرائے گئے: بلاول بھٹو پھر برس پڑے مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل جدت اور اے آئی کا کردار کلیدی ہے: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پی سی بی نے نیشنل چیمپئنز کپ کے میچ آفیشلز پینل کا اعلان کر دیا تھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 15 زخمی میں مذاکرات کی دعوتیں دے دے کر تھک گیا ہوں، اپوزیشن بات چیت چاہتی ہی نہیں چین نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو ہمسایہ ممالک کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا مون سون کے بعد خستہ حال عمارتوں کا سروے کرایا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت خون میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی دل کے شدید دورے کے خطرے سے منسلک، نئی تحقیق حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کا سربراہی اجلاس آج، مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع وزیراعظم کی فیلڈ مارشل کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی، ملک کیلئے خصوصی دعائیں سعودیہ میں عراقی ملیشیا اور حوثیوں کے حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ

اردو زبان کے مشہور شاعر اور مجاہدِ آزادی حسرت موہانی کی آج 75 ویں برسی

Web Desk

13 May 2026

اردو زبان کے ممتاز شاعر، نڈر صحافی اور تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد مولانا حسرت موہانی کی آج 75ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ سید فضل الحسن (حسرت موہانی) 1875 میں موہان (بھارت) میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی حق گوئی، بے باکی اور وطن کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔ علی گڑھ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1903 میں رسالہ ”اردوئے معلیٰ“ جاری کیا، جو اردو ادب اور سیاست کا ایک اہم ترجمان ثابت ہوا۔حسرت موہانی کو ان کی غزل گوئی کی بدولت ”رئیس المتغزلین“ کا خطاب دیا گیا۔ وہ نہ صرف ایک بڑے شاعر تھے بلکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں بھی شامل تھے اور انہوں نے پہلی بار مکمل آزادی (آزادیِ کامل) کا تصور پیش کیا۔ برطانوی راج کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، جس دوران ان کا گھر بار اور پریس بھی تباہ ہوا، مگر انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ اپنی سادگی اور زہد و تقویٰ کے لیے بھی مشہور تھے؛ انہوں نے زندگی بھر کل 13 حج ادا کیے۔ اردو کا یہ عظیم سپوت 13 مئی 1951 کو لکھنؤ میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔