LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

اردو زبان کے مشہور شاعر اور مجاہدِ آزادی حسرت موہانی کی آج 75 ویں برسی

Web Desk

13 May 2026

اردو زبان کے ممتاز شاعر، نڈر صحافی اور تحریکِ آزادی کے عظیم مجاہد مولانا حسرت موہانی کی آج 75ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ سید فضل الحسن (حسرت موہانی) 1875 میں موہان (بھارت) میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی حق گوئی، بے باکی اور وطن کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔ علی گڑھ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1903 میں رسالہ ”اردوئے معلیٰ“ جاری کیا، جو اردو ادب اور سیاست کا ایک اہم ترجمان ثابت ہوا۔حسرت موہانی کو ان کی غزل گوئی کی بدولت ”رئیس المتغزلین“ کا خطاب دیا گیا۔ وہ نہ صرف ایک بڑے شاعر تھے بلکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں بھی شامل تھے اور انہوں نے پہلی بار مکمل آزادی (آزادیِ کامل) کا تصور پیش کیا۔ برطانوی راج کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، جس دوران ان کا گھر بار اور پریس بھی تباہ ہوا، مگر انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ اپنی سادگی اور زہد و تقویٰ کے لیے بھی مشہور تھے؛ انہوں نے زندگی بھر کل 13 حج ادا کیے۔ اردو کا یہ عظیم سپوت 13 مئی 1951 کو لکھنؤ میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔