LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت خون میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی دل کے شدید دورے کے خطرے سے منسلک، نئی تحقیق حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کا سربراہی اجلاس آج، مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع وزیراعظم کی فیلڈ مارشل کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی، ملک کیلئے خصوصی دعائیں سعودیہ میں عراقی ملیشیا اور حوثیوں کے حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ صدر ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ میں شدید مشکلات سے دوچار: میڈیا رپورٹ ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز معاہدے پر عملدرآمد انتہائی مشکل ہے: عالمی شپنگ انڈسٹریز انسانی حقوق تنظیموں نے جنوبی لبنان میں صحافیوں پر اسرائیلی حملے جنگی جرائم قرار دیدیئے صدر ٹرمپ کے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کیلئے 2 نئے احکامات پر دستخط امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے جلد خاتمے کیلئے پر امید ایرانی دفاعی ٹیکنالوجی سب سے بہترین، خطے کے ممالک کو جلد اندازہ ہوجائیگا: مجید ابن الرضا آزاد کشمیر میں بدترین دھاندلی زدہ الیکشن کرایا گیا: نیئر بخاری راجہ فاروق حیدر کا آزاد کشمیر الیکشن میں پیپلزپارٹی پر دھاندلی، انتظامی مشینری کے استعمال کا الزام

سعودیہ میں عراقی ملیشیا اور حوثیوں کے حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ

Web Desk

7 August 2026

سعودی عرب نے شدید خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی براہِ راست نگرانی میں عراقی ملیشیا اور یمن کے حوثی باغی مملکت پر شمال اور جنوب کی جانب سے جلد مشترکہ ڈرون و میزائل حملے کر سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی عرب، امریکہ اور دیگر علاقائی اتحادی ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ان ممکنہ حملوں میں توانائی کی تنصیبات، بحری بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم شہری و معاشی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پار ڈرونز اور میزائلوں کی مشکوک نقل و حرکت دیکھی گئی ہے، جس سے بیک وقت مختلف سمتوں سے مربوط حملوں کا امکان بڑھ گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ تخریبی کارروائیاں ایران اور دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان جاری حساس سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھی کی جا سکتی ہیں۔

سعودی عہدیدار نے مزید واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ مملکت کا دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون اس وقت انتہائی مضبوط ہے اور کسی بھی قسم کی ممکنہ جارحیت یا حملے کا فوری و مؤثر جواب دینے کے لیے تمام تر ضروری سیکیورٹی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔