LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل جدت اور اے آئی کا کردار کلیدی ہے: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پی سی بی نے نیشنل چیمپئنز کپ کے میچ آفیشلز پینل کا اعلان کر دیا تھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 15 زخمی میں مذاکرات کی دعوتیں دے دے کر تھک گیا ہوں، اپوزیشن بات چیت چاہتی ہی نہیں چین نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو ہمسایہ ممالک کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا مون سون کے بعد خستہ حال عمارتوں کا سروے کرایا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت خون میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی دل کے شدید دورے کے خطرے سے منسلک، نئی تحقیق حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کا سربراہی اجلاس آج، مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع وزیراعظم کی فیلڈ مارشل کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی، ملک کیلئے خصوصی دعائیں سعودیہ میں عراقی ملیشیا اور حوثیوں کے حملوں کا خدشہ، سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ صدر ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ میں شدید مشکلات سے دوچار: میڈیا رپورٹ ایران اور عمان میں آبنائے ہرمز معاہدے پر عملدرآمد انتہائی مشکل ہے: عالمی شپنگ انڈسٹریز

مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل جدت اور اے آئی کا کردار کلیدی ہے: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد

Web Desk

7 August 2026

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مالیاتی شعبے میں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی تہذیب کی ترقی اور مالیاتی نظام میں جدت کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی رہی ہے۔ ٹرانسفارمر ٹیکنالوجی نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو بے پناہ فروغ دیا ہے اور معلومات اکٹھی کرنے کی اس کی رفتار روشنی جیسی تیز ہے، تاہم اس کے بنیادی سافٹ ویئر اور ہدایات اب بھی بنی نوع انسان ہی تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ٹیکنالوجی اور جدت سے جہاں بہتری آتی ہے، وہاں آگہی اور مناسب حکمتِ عملی کے بغیر غیر دانستہ خطرات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک نے ٹیکنالوجی کو ابتدائی مراحل میں ہی اپنانا شروع کر دیا تھا، جس کے باعث نئے اور جدید ادائیگیاں کے نظام کی بدولت اب پاکستان میں ریٹیل کی نصف سے زائد ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل ہو چکی ہیں۔ مالی سال 2026ء کے دوران 30 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 77 فیصد زائد ہیں۔ اس کے علاوہ 20 لاکھ سے زائد تاجر اب کیو آر (QR) پیمنٹ سسٹم استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ‘راست’ (Raast) نظام کے ذریعے گزشتہ مالی سال میں 1.7 کھرب روپے مالیت کی 3.6 ملین (36 لاکھ) ٹرانزیکشنز سرانجام دی گئیں۔

انہوں نے خواتین اور چھوٹے کاروباروں (SMEs) کی مالیاتی شمولیت اور ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی اقدامات کی بدولت خواتین کی مالیاتی شمولیت گزشتہ چند سالوں میں 4 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایز کے لیے قرضے 46 فیصد اضافے کے ساتھ 850 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں، جبکہ جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں زراعت کے قرضے 2.5 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے زور دیا کہ ایک ابھرتی ہوئی معیشت کو انڈسٹریل فنانسنگ کے لیے سکوک اور کارپوریٹ بانڈز کی اشد ضرورت ہے اور ‘گرین سکوک’ سے پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آئی سی ایم اے (ICMA) جیسے اداروں کو اپنے نصاب کی اپڈیٹ اور کیپیسٹی بلڈنگ میں اضافے پر زور دیا۔