LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے شہر ارکتسک میں محقق کی ہلاکت: طاعون کے پھیلاؤ اور لیبارٹری حادثے کے تمام دعوے مسترد روسی صدر کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، علاقائی بحران کے حل میں مدد کی پیشکش برطانیہ میں امریکی اہلکاروں کے زیر استعمال ایئر بیس میں داخلے پر 2 افراد گرفتار امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کی آج یوکرینی حکام سے ملاقات طے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 اہلکار زخمی حوثیوں کے حملے، متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کی سعودیہ کیلئے پروازیں معطل یورپی یونین کا بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت کیلئے بحری مشن مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ امریکا کا وینزویلا کے معزول صدر نکولس اور انکی اہلیہ پر امریکی شہریوں پر تشدد کی سازش کا الزام فرانس میں تعلیمی نظام کی ناقص صورتحال کیخلاف طلبہ کا ملک گیر احتجاج تیسرے ہفتے داخل ادب کا نوبیل انعام شاعرہ اور مضمون نگار این کارسن کے نام یوکرین کے روس میں 20 سے زائد علاقوں پر ڈرون حملے، 399 ڈرون تباہ روس کا مغربی یورپ کے ساتھ مسلح تنازع شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، ماریہ زخارووا یورپی یونین کا روس کیخلاف 22واں پابندی پیکیج، 1500 سے زائد افراد اور کمپنیاں نشانے پر امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، 17 بحری جہاز بھی فہرست میں شامل یوکرین میں مسافر بسوں پر روسی گلائیڈ بم حملے، 30 افراد ہلاک

مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل جدت اور اے آئی کا کردار کلیدی ہے: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد

Web Desk

7 August 2026

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مالیاتی شعبے میں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی تہذیب کی ترقی اور مالیاتی نظام میں جدت کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی رہی ہے۔ ٹرانسفارمر ٹیکنالوجی نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو بے پناہ فروغ دیا ہے اور معلومات اکٹھی کرنے کی اس کی رفتار روشنی جیسی تیز ہے، تاہم اس کے بنیادی سافٹ ویئر اور ہدایات اب بھی بنی نوع انسان ہی تیار کر رہی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ٹیکنالوجی اور جدت سے جہاں بہتری آتی ہے، وہاں آگہی اور مناسب حکمتِ عملی کے بغیر غیر دانستہ خطرات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک نے ٹیکنالوجی کو ابتدائی مراحل میں ہی اپنانا شروع کر دیا تھا، جس کے باعث نئے اور جدید ادائیگیاں کے نظام کی بدولت اب پاکستان میں ریٹیل کی نصف سے زائد ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل ہو چکی ہیں۔ مالی سال 2026ء کے دوران 30 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 77 فیصد زائد ہیں۔ اس کے علاوہ 20 لاکھ سے زائد تاجر اب کیو آر (QR) پیمنٹ سسٹم استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ‘راست’ (Raast) نظام کے ذریعے گزشتہ مالی سال میں 1.7 کھرب روپے مالیت کی 3.6 ملین (36 لاکھ) ٹرانزیکشنز سرانجام دی گئیں۔

انہوں نے خواتین اور چھوٹے کاروباروں (SMEs) کی مالیاتی شمولیت اور ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی اقدامات کی بدولت خواتین کی مالیاتی شمولیت گزشتہ چند سالوں میں 4 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایز کے لیے قرضے 46 فیصد اضافے کے ساتھ 850 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں، جبکہ جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں زراعت کے قرضے 2.5 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے زور دیا کہ ایک ابھرتی ہوئی معیشت کو انڈسٹریل فنانسنگ کے لیے سکوک اور کارپوریٹ بانڈز کی اشد ضرورت ہے اور ‘گرین سکوک’ سے پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آئی سی ایم اے (ICMA) جیسے اداروں کو اپنے نصاب کی اپڈیٹ اور کیپیسٹی بلڈنگ میں اضافے پر زور دیا۔