پھیپھڑے اور نظامِ ہاضمہ متاثر کر دینے والا جینیاتی مرض
Web Desk
7 March 2026
سسٹک فائبروسس ایک جینیاتی بیماری ہے جو زیادہ تر پھیپھڑوں اور نظامِ انہضام کو متاثر کرتی ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق ہر 3000 نومولود بچوں میں سے ایک بچہ اس مرض کا کیریئر ہو سکتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہ بیماری دو سال کی عمر تک تشخیص ہو جاتی ہے، تاہم بعض بچوں میں علامات ہلکی ہونے کی وجہ سے 18 سال کی عمر تک بھی اس کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔
یہ ایک ملٹی سسٹم بیماری ہے جس میں Cystic Fibrosis Transmembrane Conductance Regulator (CFTR) نامی جین میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جس کے باعث جسم میں کلورائیڈ چینلز متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس خرابی کے نتیجے میں پھیپھڑوں کے ساتھ جگر، انتڑیاں، لبلبہ اور پتہ جیسے اہم اعضا بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
عام طور پر جسم میں پیدا ہونے والا بلغم جراثیم اور رکاوٹوں کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم سسٹک فائبروسس میں بننے والی رطوبت غیر معمولی طور پر گاڑھی ہو جاتی ہے۔ یہ گاڑھا بلغم پھیپھڑوں کی نالیوں کو بند کر دیتا ہے جس کے باعث مریض کو سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اسی دوران نالیوں میں بیکٹیریا جمع ہونے لگتے ہیں جو انفیکشن کا سبب بنتے ہیں اور پھیپھڑوں کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اس بیماری کی عام علامات میں بار بار سینے کا انفیکشن، نمونیا، برونکائٹس، سانس لینے میں دشواری، سینے سے سیٹی جیسی آواز آنا، سائنوس کا انفیکشن، مسلسل کھانسی اور بلغم کا اخراج شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں میں نشوونما کی رفتار کم ہونا، وزن نہ بڑھنا، پتلے پاخانے اور جسم میں غذائی کمی کے آثار بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔
ایمرجنسی صورتِ حال میں شدید کھانسی کا دورہ، زیادہ بلغم کا اخراج، سانس لینے میں شدید دشواری، سینے سے خرخراہٹ کی آواز، بخار، بھوک میں نمایاں کمی اور وزن میں اچانک تبدیلی جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ اسی طرح پلمونری فنکشن ٹیسٹ میں Forced Expiratory Volume میں 10 فیصد سے زیادہ کمی بھی خطرے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
سسٹک فائبروسس کے مریضوں میں پھیپھڑوں کے ساتھ ساتھ معدے اور آنتوں کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان میں آنتوں کی رکاوٹ، لبلبے کی سوزش، متلی اور قے، سیلیک بیماری، جگر اور پتہ کی سوزش، سسٹک فائبروسس سے وابستہ ذیابیطس، ہڈیوں کی کمزوری، جوڑوں کی سوزش، گردوں کے مسائل اور مرد و خواتین میں بانجھ پن کے امکانات شامل ہیں۔
تشخیص کے لیے عموماً مریض کے وزن، Spirometry/FEV1 ٹیسٹ، خون میں آکسیجن کی مقدار، سینے کا ایکس رے، بلغم اور خون کے ٹیسٹ کے ساتھ ذیابیطس کی جانچ بھی کی جاتی ہے۔
علاج کے ابتدائی مراحل میں اینٹی بائیوٹکس، سینے کی فزیوتھراپی، آکسیجن، متوازن غذا اور شوگر لیول کو کنٹرول کرنے جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اگر علامات میں بہتری نہ آئے تو مریض کو ہسپتال میں داخل کر کے مزید ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن میں بلڈ کلچر، مائیکرو بائیولوجی ٹیسٹ، برونکو اسکوپی، الرجک برونکو پلمونری ایسپرجلوسس کی جانچ اور سینے کا سی ٹی اسکین شامل ہیں۔
علاج کے دوران سانس کی نالیوں کو کھولنے اور بلغم کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ معیاری اینٹی بائیوٹکس اور اسٹرائیڈز بھی تجویز کیے جاتے ہیں۔ مریض کے اہلِ خانہ کو چاہیے کہ وہ متوازن غذا فراہم کریں اور شوگر لیول کو قابو میں رکھیں۔
شدید حالت میں مریض کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں وینٹی لیٹر سپورٹ کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے مریضوں کے لیے سالانہ ویکسینیشن، خاص طور پر H. Influenzae اور Pneumococcal ویکسین بھی علاج کا حصہ ہوتی ہے۔
اگر پھیپھڑے مکمل طور پر ناکارہ ہو جائیں تو پھیپھڑوں کی پیوند کاری یعنی لنگ ٹرانسپلانٹ بھی ایک علاجی طریقہ ہے۔ تاہم اس طریقۂ علاج میں ابھی وسیع پیمانے پر کامیابی نہیں ملی اور پیوند کاری کے بعد بھی مریض کی زندگی کا دورانیہ عموماً ایک سے ڈیڑھ سال تک ہی بڑھایا جا سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
جسم میں آئرن کی کمی کسی دماغی بیماری کے خطرات کا سبب ہو سکتی ہے؟
20 April 2026
آنتوں میں موجود بیکٹیریا کا خطرناک بیماری کے لوٹنے سے تعلق کا انکشاف!
20 April 2026
2026 کی دوسری ملک گیر انسدادِ پولیو مکمل کرلی گئی، تفصیلات جاری
20 April 2026
پاکستان میں ایچ آئی وی عام آبادی تک پہنچ گیا، متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار ہوگئی
19 April 2026
سمندری پانی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے: تحقیق
18 April 2026
اسلام آباد: پاکستان میں نیشنل میڈیکل ٹورازم انیشیٹو کا باضابطہ آغاز
18 April 2026
بِنج ایٹنگ ڈس آرڈر میں مبتلا افراد کی مدد کیلئے اہم اقدام!
17 April 2026
رات کی نوکری صحت پر بھاری! نئی تحقیق میں خطرناک اثرات سامنے آگئے
17 April 2026