LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی ایران کا اردن میں امریکی ایئربیس پر حملہ، تین ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا اوورسیز پاکستانیوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم 4 اکتوبر احتجاج کیس: علیمہ اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ جاری آزاد کشمیر اسمبلی میں ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور پاکستان امریکا اور ایران کو مفاہمتی یادداشت پر واپس لانے کیلئے سرگرم ہے: دفترِ خارجہ پنجاب میں دریاؤں کی صورتحال بہتر، مون سون بارشوں کا الرٹ جاری سعودی وزیرِدفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا پیغام پہنچایا: امریکی میڈیا لاہور ہائیکورٹ: جسٹس طارق سلیم شیخ کا کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم فیصلہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارتی ایئر لائنز کیلئے بڑا دھچکا نیویارک میں ’ٹیکس ورلڈ 2026ء‘ نمائش کا انعقاد، پاکستان کی بھرپور شرکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران منفی رجحان لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق

گیسی غبارے میں پرواز، امریکی ٹیم بحرِ اوقیانوس عبور کرکے یورپ پہنچ گئی

Web Desk

16 June 2026

اٹلانٹک ایکسپلورر مشن کی تاریخ ساز کامیابی: 3 رکنی ٹیم کھلے ہائیڈروجن گیس غبارے میں بحرِ اوقیانوس عبور کر کے 3 دن کی مسلسل پرواز کے بعد یورپ پہنچ گئی، فضا سے اہم مائیکرو بایوز اور قدرتی پروٹینز بھی دریافت کر لیے۔

اٹلانٹک ایکسپلورر مشن کے تحت ایک انتہائی خطرناک اور تاریخ ساز مہم جوئی کے دوران 3 رکنی امریکی ٹیم نے اوپن باسکٹ (کھلی ٹوکری) والے ہائیڈروجن گیس غبارے میں پرواز کرتے ہوئے بحرِ اوقیانوس (اٹلانٹک اوشین) کو کامیابی سے عبور کر لیا ہے اور مسلسل 3 دن تک فضا میں رہنے کے بعد یورپ پہنچ کر ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

اس تاریخی اور غیر معمولی مہم کے مرکزی پائلٹ برٹ پیڈلٹ تھے، جبکہ پیٹر کیونیو اور ایلیسیا ہیمپلمین ایڈمز بطور معاون پائلٹ ان کے ہم سفر رہے۔ تینوں ماہر مہم جوؤں نے امریکی ریاست میئن کے شہر پریسک آئل سے ہائیڈروجن گیس سے بھرے غبارے میں 4 جون کو اپنی تزویراتی اڑان بھری تھی۔ پرواز کے دوران اس گیس غبارے نے سمندر کے اوپر اوسطاً 24 ہزار فٹ کی بلندی برقرار رکھی اور تقریباً 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل سفر طے کیا۔ واضح رہے کہ یہ ٹیم اس سے قبل سال 2024 اور 2025 میں بھی دو بار یہ کٹھن مہم سر کرنے کی کوشش کر چکی تھی، تاہم کبھی موسم کی شدید خرابی اور کبھی گیس لیک ہونے جیسے تکنیکی مسائل کے باعث انہیں اپنا سفر ادھورا چھوڑ کر ہائبرڈ لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔ عالمی ہوابازی کی تاریخ میں ہائیڈروجن گیس غباروں کے ذریعے بحرِ اوقیانوس کو اس طرح پار کرنے کی کسی کامیاب مہم کا اس سے پہلے کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

کھلی ٹوکری (اوپن کک پٹ) اور انتہائی حساس ہائیڈروجن گیس کی مدد سے بپھرے ہوئے سمندر کو پار کرنا بلاشبہ ایک بہت بڑی مہم جوئی اور عالمی ریکارڈ ہے، لیکن اس امریکی مشن کا بنیادی مقصد صرف ریکارڈ بنانا یا پرواز کرنا ہی نہیں تھا۔ اس سائنسی مشن کا سب سے اہم اور بنیادی ہدف 8 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے ہوئے زمین کے مائیکرو کلائمیٹ اور ہوا کے خالص ترین نمونے (ایئر سیمپلز) جمع کرنا تھا۔ اس سائنسی تحقیق کے دوران ٹیم کو بلندی پر نئے مائیکرو بایوز اور نایاب قدرتی پروٹینز دریافت کرنے میں بھی شاندار کامیابی ملی ہے۔ طبی اور زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیم کے حالیہ فضائی تجربات اور دریافتیں مستقبل میں جدید ادویات کی تیاری، ماحول دوست بائیو فیولز کی تیاری اور جدید پائیدار زراعت کے شعبوں میں انتہائی مددگار اور انقلابی ثابت ہوں گی۔