LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے جوابی حملے، اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کا ایران پر پھر حملہ، شادی کی تقریب پر بمباری، 4 افراد شہید، 30 سے زائد زخمی محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق، مؤثر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے: سارہ احمد ایران پر حملے اردن میں ہمارے فوجی اڈے پر حملوں کا جواب ہیں: صدر ٹرمپ قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں پاکستان ہاؤس لندن میں عشائیہ، محسن نقوی کی بھی شرکت خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق، بقایاجات کیلئے عدالت جائینگے: سہیل آفریدی پٹرول ایک روپے 8 پیسے، ڈیزل 51 پیسے فی لٹر مہنگا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں: عقیل ملک امریکا کا ایران میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر حملہ، قشم اور آبنائے ہرمز میں دھماکے پنجاب اسمبلی میں سندھ طاس معاہدہ، ماحولیاتی آلودگی سمیت متعدد قراردادیں منظور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کراچی پہنچ گئے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، امریکا جہازوں کو غلط ضمانتیں دے رہا ہے: ایران این ڈی ایم اے کا گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ پنجاب اسمبلی میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد منظور 27 ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد حقوق کے حصول کیلئے آ رہی ہے: بیرسٹر گوہر

نامور قوال عزیز میاں کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے

Web Desk

6 December 2025

عزیز میاں نے قوالی کو صرف گائیکی ہی نہیں بلکہ ایک پیغام بنایا، وہ اس فن کے شہنشاہ کہلائے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہرت حاصل کی، عزیز میاں کے اشعار میں فلسفہ، فکر اور جذبے کی گہرائی تھی جو عام انسان کی زندگی کو چھوتی تھی، عزیز میاں کی آواز نہایت بارعب اور ان کا انداز دل کش تھا، وہ اس فن کے شہنشاہ کہلائے۔

عزیز میاں 17اپریل 1942ء کو پیدا ہوئے، انہوں نےاستاد عبدالوحید سے فنِ قوالی سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی، فارسی ادب اور اردو ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، عزیزمیاں کا اصل نام عبدالعزیز تھا جبکہ میاں ان کا تکیہ کلام تھا۔عزیز میاں کی قوالی میں الفاظ کی شدت، جذبے کی گہرائی اور حقیقت کا آئینہ جھلکتا تھا، انہیں ’’اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘‘،’’یا نبیؐ یا نبی ؐ‘‘، ’’ میں شرابی ‘‘اور ’تیری صورت‘ قوالیوں نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔’’نہ کلیم کا تصور، نہ خیالِ طورِ سینا، میری آرزو محمدﷺ، میری جستجو مدینہ‘‘ وہ نعت ہے جو عزیز میاں کی آواز میں ہمیشہ نہایت عقیدت سے سنی جاتی رہی ہے اور قلب و روح کی تسکین کا سامان کرتی ہے۔قوالی کی دنیا میں شاندار خدمات پر حکومت پاکستان نےعزیز میاں قوال کو 1989ء میں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا، عزیز میاں ایران کے شہر تہران میں 6 دسمبر2000ء کوعلالت کے باعث انتقال کر گئے تھے، وصیت کے مطابق ان کی تدفین ملتان میں ان کے مرشد کے پہلو میں کی گئی۔