LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں دفاتر کا کام گھر سے کرنے کا حکم، ملازمین کو شہر میں رہنے کی ہدایت ایل این جی کی فوری ملی تو بجلی مہنگی اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگا، پاور ڈویژن کا انتباہ وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر اہم گفتگو ایران سے مذاکرات کے لیے میری ٹیم کل اسلام آباد پہنچ رہی ہے، ٹرمپ کا بڑا اعلان امیدہے ایران امریکاجنگ بندی میں توسیع ہوجائے گی، ترک وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرخارجہ کا رابطہ، خطے میں امن کیلیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق وٹکوف اور جیرڈکشنرمذاکرات کےلیے اسلام آباد جارہے ہیں، ٹرمپ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی سخت، میٹرو بس اور ٹرانسپورٹ بند اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات، میریٹ ہوٹل سرکاری تحویل میں، شہر میں سخت بندشیں سعودی ایئرلائنز کی پشاور پروازیں بحال، جدہ سے پہلی پرواز پہنچ گئی ایران امریکا مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں متوقع ہیں: عرب میڈیا پاکستان میں ایچ آئی وی عام آبادی تک پہنچ گیا، متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار ہوگئی امریکا سے مذاکرات میں اب بھی بڑا فاصلہ موجود ہے، ایرانی اسپیکر واشنگٹن:ایران صورتحال پر اہم اجلاس، صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر گفتگو خلیج میں لنگرانداز جہاز  حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ

نامور قوال عزیز میاں کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے

Web Desk

6 December 2025

عزیز میاں نے قوالی کو صرف گائیکی ہی نہیں بلکہ ایک پیغام بنایا، وہ اس فن کے شہنشاہ کہلائے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہرت حاصل کی، عزیز میاں کے اشعار میں فلسفہ، فکر اور جذبے کی گہرائی تھی جو عام انسان کی زندگی کو چھوتی تھی، عزیز میاں کی آواز نہایت بارعب اور ان کا انداز دل کش تھا، وہ اس فن کے شہنشاہ کہلائے۔

عزیز میاں 17اپریل 1942ء کو پیدا ہوئے، انہوں نےاستاد عبدالوحید سے فنِ قوالی سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی، فارسی ادب اور اردو ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، عزیزمیاں کا اصل نام عبدالعزیز تھا جبکہ میاں ان کا تکیہ کلام تھا۔عزیز میاں کی قوالی میں الفاظ کی شدت، جذبے کی گہرائی اور حقیقت کا آئینہ جھلکتا تھا، انہیں ’’اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘‘،’’یا نبیؐ یا نبی ؐ‘‘، ’’ میں شرابی ‘‘اور ’تیری صورت‘ قوالیوں نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔’’نہ کلیم کا تصور، نہ خیالِ طورِ سینا، میری آرزو محمدﷺ، میری جستجو مدینہ‘‘ وہ نعت ہے جو عزیز میاں کی آواز میں ہمیشہ نہایت عقیدت سے سنی جاتی رہی ہے اور قلب و روح کی تسکین کا سامان کرتی ہے۔قوالی کی دنیا میں شاندار خدمات پر حکومت پاکستان نےعزیز میاں قوال کو 1989ء میں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا، عزیز میاں ایران کے شہر تہران میں 6 دسمبر2000ء کوعلالت کے باعث انتقال کر گئے تھے، وصیت کے مطابق ان کی تدفین ملتان میں ان کے مرشد کے پہلو میں کی گئی۔