LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

نامور قوال عزیز میاں کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس بیت گئے

Web Desk

6 December 2025

عزیز میاں نے قوالی کو صرف گائیکی ہی نہیں بلکہ ایک پیغام بنایا، وہ اس فن کے شہنشاہ کہلائے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہرت حاصل کی، عزیز میاں کے اشعار میں فلسفہ، فکر اور جذبے کی گہرائی تھی جو عام انسان کی زندگی کو چھوتی تھی، عزیز میاں کی آواز نہایت بارعب اور ان کا انداز دل کش تھا، وہ اس فن کے شہنشاہ کہلائے۔

عزیز میاں 17اپریل 1942ء کو پیدا ہوئے، انہوں نےاستاد عبدالوحید سے فنِ قوالی سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی، فارسی ادب اور اردو ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، عزیزمیاں کا اصل نام عبدالعزیز تھا جبکہ میاں ان کا تکیہ کلام تھا۔عزیز میاں کی قوالی میں الفاظ کی شدت، جذبے کی گہرائی اور حقیقت کا آئینہ جھلکتا تھا، انہیں ’’اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘‘،’’یا نبیؐ یا نبی ؐ‘‘، ’’ میں شرابی ‘‘اور ’تیری صورت‘ قوالیوں نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔’’نہ کلیم کا تصور، نہ خیالِ طورِ سینا، میری آرزو محمدﷺ، میری جستجو مدینہ‘‘ وہ نعت ہے جو عزیز میاں کی آواز میں ہمیشہ نہایت عقیدت سے سنی جاتی رہی ہے اور قلب و روح کی تسکین کا سامان کرتی ہے۔قوالی کی دنیا میں شاندار خدمات پر حکومت پاکستان نےعزیز میاں قوال کو 1989ء میں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا، عزیز میاں ایران کے شہر تہران میں 6 دسمبر2000ء کوعلالت کے باعث انتقال کر گئے تھے، وصیت کے مطابق ان کی تدفین ملتان میں ان کے مرشد کے پہلو میں کی گئی۔