LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صارفین پر ایک اور بوجھ: نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا امریکا پاکستان تعلقات میں پیش رفت کا سلسلہ جاری ہے، امریکی سفارتخانہ آزاد کشمیر میں مرحلہ وار الیکشن دھاندلی کیلئے کرائے گئے: بلاول بھٹو پھر برس پڑے مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل جدت اور اے آئی کا کردار کلیدی ہے: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد پی سی بی نے نیشنل چیمپئنز کپ کے میچ آفیشلز پینل کا اعلان کر دیا تھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 15 زخمی میں مذاکرات کی دعوتیں دے دے کر تھک گیا ہوں، اپوزیشن بات چیت چاہتی ہی نہیں چین نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو ہمسایہ ممالک کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا مون سون کے بعد خستہ حال عمارتوں کا سروے کرایا جائے، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال سلامتی کونسل کی جانب سے سوات میں دہشت گرد حملے کی مذمت خون میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی دل کے شدید دورے کے خطرے سے منسلک، نئی تحقیق حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر حملہ، ایک پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی پاکستان، سعودیہ، ترکیہ کا سربراہی اجلاس آج، مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط متوقع وزیراعظم کی فیلڈ مارشل کے ہمراہ عمرہ کی ادائیگی، ملک کیلئے خصوصی دعائیں

رجب بٹ کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کے کیس میں اہم پیش رفت

Web Desk

18 April 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ میں مشہور ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر رجب بٹ کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان کا نام لسٹ سے نکالنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے عدالت میں اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ رجب بٹ اب باقاعدہ طور پر انکوائری کا حصہ بن چکے ہیں۔ جواب کے مطابق، ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور زون نے ڈائریکٹر آپریشنز کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے جس میں رجب علی کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اب انہیں رجب بٹ کا نام لسٹ سے نکالنے پر کوئی اعتراض نہیں۔

واضح رہے کہ رجب بٹ کا نام گزشتہ سال 7 اگست 2025 کو تفتیش میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے پی سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے الزام میں پیکا ایکٹ (PECA) کی دفعہ 11 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298-A کے تحت انکوائری ابھی زیرِ التوا ہے۔ عدالت میں وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راجہ ضمیر الدین پیروی کر رہے ہیں، جبکہ جسٹس اعظم خان اس کیس کی اگلی سماعت 28 اپریل کو کریں گے۔