LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر اور سفارت کاری عالمی امن کیلئے ناگزیر ہے: رضوان سعید خواجہ آصف کی نئے صوبوں و انتظامی یونٹس پر پیپلز پارٹی کے دوہرے معیار پر تنقید امریکہ: غیر ملکی سرکار کے ملازمین کے بچوں کے لیے گرین کارڈ کے قواعد میں بڑی تبدیلی حکومت نے پی ٹی آئی کو دیوار سے لگا دیا، ملک میں بڑے سسٹمک ری سیٹ کی ضرورت ہے: اسد عمر اور فواد چوہدری امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی چین کا مشترکہ سلامتی کے فروغ پر زور ایران کے دیرینہ اصول کی عکاسی ہے، قالیباف دنیا کا نقشہ تبدیل ہوگا، اقوام متحدہ میں نئے عالمی نقشے کی قرارداد منظور کراچی: ڈیلیوری کے دوران گلے پر تیز دھار آلہ پھرنے سے نومولود جاں بحق یوکرین میں پرامن تصفیے کی ٹھوس شرائط ابھی موجود نہیں، روسی صدارتی ترجمان امریکا اور اسرائیل جنگ کے ذریعے ایران کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے: مسعود پزشکیان ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، ایگزیوس میلونی دوسری عالمی جنگ کے بعد طویل ترین حکومت کرنے والی وزیراعظم بن گئیں امریکا کیلئے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ خطے سے انخلا کرے، ترجمان ایرانی فوج ایرانی وزیر خارجہ کی اردن کے ہم منصب پر شدید تنقید ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

رجب بٹ کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کے کیس میں اہم پیش رفت

Web Desk

18 April 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ میں مشہور ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر رجب بٹ کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان کا نام لسٹ سے نکالنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے عدالت میں اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ رجب بٹ اب باقاعدہ طور پر انکوائری کا حصہ بن چکے ہیں۔ جواب کے مطابق، ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور زون نے ڈائریکٹر آپریشنز کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے جس میں رجب علی کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اب انہیں رجب بٹ کا نام لسٹ سے نکالنے پر کوئی اعتراض نہیں۔

واضح رہے کہ رجب بٹ کا نام گزشتہ سال 7 اگست 2025 کو تفتیش میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے پی سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے الزام میں پیکا ایکٹ (PECA) کی دفعہ 11 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298-A کے تحت انکوائری ابھی زیرِ التوا ہے۔ عدالت میں وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راجہ ضمیر الدین پیروی کر رہے ہیں، جبکہ جسٹس اعظم خان اس کیس کی اگلی سماعت 28 اپریل کو کریں گے۔