LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی پاکستان پھر مرکزِ نگاہ: ایران سے مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا: ٹرمپ امریکا کا ایرانی تجارتی جہاز پر قبضہ، ایران کا ’بحری قزاقی‘ کا جواب دینے کا اعلان وفاقی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں دفاتر کا کام گھر سے کرنے کا حکم، ملازمین کو شہر میں رہنے کی ہدایت ایل این جی کی فوری ملی تو بجلی مہنگی اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگا، پاور ڈویژن کا انتباہ وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر اہم گفتگو ایران سے مذاکرات کے لیے میری ٹیم کل اسلام آباد پہنچ رہی ہے، ٹرمپ کا بڑا اعلان امیدہے ایران امریکاجنگ بندی میں توسیع ہوجائے گی، ترک وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرخارجہ کا رابطہ، خطے میں امن کیلیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق وٹکوف اور جیرڈکشنرمذاکرات کےلیے اسلام آباد جارہے ہیں، ٹرمپ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی سخت، میٹرو بس اور ٹرانسپورٹ بند

رجب بٹ کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کے کیس میں اہم پیش رفت

Web Desk

18 April 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ میں مشہور ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر رجب بٹ کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان کا نام لسٹ سے نکالنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے عدالت میں اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ رجب بٹ اب باقاعدہ طور پر انکوائری کا حصہ بن چکے ہیں۔ جواب کے مطابق، ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور زون نے ڈائریکٹر آپریشنز کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے جس میں رجب علی کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اب انہیں رجب بٹ کا نام لسٹ سے نکالنے پر کوئی اعتراض نہیں۔

واضح رہے کہ رجب بٹ کا نام گزشتہ سال 7 اگست 2025 کو تفتیش میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے پی سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے الزام میں پیکا ایکٹ (PECA) کی دفعہ 11 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298-A کے تحت انکوائری ابھی زیرِ التوا ہے۔ عدالت میں وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راجہ ضمیر الدین پیروی کر رہے ہیں، جبکہ جسٹس اعظم خان اس کیس کی اگلی سماعت 28 اپریل کو کریں گے۔