LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرے گا: دفتر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کا عمل آج باضابطہ طور پر شروع ہوگا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو کی آج 73 ویں سالگرہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے میناب کے مظلوم بچوں اور شہدا کو اپنے طرزِ عمل کا گواہ سمجھتے ہیں، باقر قالیباف اسحاق ڈار مصر پہنچ گئے، علاقائی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے امریکا ایران مذاکرات کل شروع ہونے کا امکان، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، امریکا سے معاہدے کی صورتحال پر گفتگو گھروں پر ٹاور لگانے والا بل جاہلانہ اور غاضبانہ ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام پر دستخط رانا ثنااللہ نے وزیراعظم کی تبدیلی بارے خبریں بے بنیاد قرار دے دیں ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی:ٹرمپ بھارت کی آزاد کشمیر میں امن تباہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی: خواجہ آصف

رجب بٹ کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کے کیس میں اہم پیش رفت

Web Desk

18 April 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ میں مشہور ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر رجب بٹ کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان کا نام لسٹ سے نکالنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے عدالت میں اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ رجب بٹ اب باقاعدہ طور پر انکوائری کا حصہ بن چکے ہیں۔ جواب کے مطابق، ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور زون نے ڈائریکٹر آپریشنز کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے جس میں رجب علی کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اب انہیں رجب بٹ کا نام لسٹ سے نکالنے پر کوئی اعتراض نہیں۔

واضح رہے کہ رجب بٹ کا نام گزشتہ سال 7 اگست 2025 کو تفتیش میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے پی سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے الزام میں پیکا ایکٹ (PECA) کی دفعہ 11 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298-A کے تحت انکوائری ابھی زیرِ التوا ہے۔ عدالت میں وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راجہ ضمیر الدین پیروی کر رہے ہیں، جبکہ جسٹس اعظم خان اس کیس کی اگلی سماعت 28 اپریل کو کریں گے۔