LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ابراہیمی معاہدے سے متعلق افواہیں بے بنیاد، فلسطین پر مؤقف میں کوئی لچک نہیں: اسحاق ڈار راولپنڈی: پاکستان اور آسٹریلیا آج پہلے ون ڈے میں آمنے سامنے فرنچ اوپن 2026 میں سنسنی خیز اپ سیٹ، نواک جوکووچ نوجوان کھلاڑی سے ہار گئے پیٹرول اور ڈیزل 22 روپے سستا، نئی قیمتیں 381 روپے 78 پیسے اور 380 روپے 78 پیسے مقرر میئر نیویارک زہران ممدانی کا اسرائیل ڈے پریڈ میں شرکت سے انکار امریکی قانون کےبرخلاف صدر ٹرمپ کی تصویر ڈالر پر چھاپنے کی تیاریاں کراچی پورٹ کے قریب دو بحری جہازوں میں خوفناک تصادم، کنٹینرز سمندر میں گر گئے گلگت بلتستان کی الیکشن مہم کے دوران پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر گرفتار امریکی حکام کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات قابلِ مذمت ہیں: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسلام آباد: سیکٹر آئی 10 میں واقع گھر میں سلنڈر دھماکا، 2 افراد جاں بحق صوبائی حکومت نے پنجاب لیبر کوڈ 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار واشنگٹن پہنچ گئے

رجب بٹ کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کے کیس میں اہم پیش رفت

Web Desk

18 April 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ میں مشہور ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر رجب بٹ کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ان کا نام لسٹ سے نکالنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے عدالت میں اپنا تحریری جواب جمع کروا دیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ رجب بٹ اب باقاعدہ طور پر انکوائری کا حصہ بن چکے ہیں۔ جواب کے مطابق، ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور زون نے ڈائریکٹر آپریشنز کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے جس میں رجب علی کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) سے نکالنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ اب انہیں رجب بٹ کا نام لسٹ سے نکالنے پر کوئی اعتراض نہیں۔

واضح رہے کہ رجب بٹ کا نام گزشتہ سال 7 اگست 2025 کو تفتیش میں شامل نہ ہونے کی وجہ سے پی سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے الزام میں پیکا ایکٹ (PECA) کی دفعہ 11 اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298-A کے تحت انکوائری ابھی زیرِ التوا ہے۔ عدالت میں وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راجہ ضمیر الدین پیروی کر رہے ہیں، جبکہ جسٹس اعظم خان اس کیس کی اگلی سماعت 28 اپریل کو کریں گے۔