LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلھے شاہ ایکسپریس کی بحالی، لاہور ریلوے سٹیشن اپ گریڈ، نئی ٹرینوں کا اعلان اینڈی برنہم برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب، آئندہ ہفتے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم امریکی صدر ٹرمپ کے انتخابی مداخلت کے الزامات بے بنیاد ہیں: چین امریکہ کا بائیڈن دور کی ‘پبلک چارج’ پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ؛ تارکینِ وطن کے لیے گرین کارڈ کا حصول مشکل ہونے کا خدشہ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، جنید اکبر اور عبدالغنی آفریدی کیخلاف اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع مالی سال 26ء میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا؛ اسٹیٹ بینک نے نئے اعداد و شمار جاری اپنی چھت، محفوظ چھت پروگرام: 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دینے کا اعلان عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے ویتنامی لڑکی نے ملک بھر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کی نئی لہر پیدا کر دی افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات سمگلنگ، تاجک ایجنسی کی رپورٹ جاری صدر ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے ڈیٹا کی سب سے بڑی چوری کا الزام ایران اب بھی چاہتا ہے ڈیل ہو جائے: وائٹ ہاؤس امریکی نائب صدر نے اسرائیل پر بڑا الزام لگا دیا

روسی خلائی جہاز

Web Desk

17 July 2026

روسی خلائی ادارے “روس کاسموس” کا انسان بردار خلائی جہاز “سویوز ایم ایس-29” کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں داخل ہو گیا ہے، جس کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے ساتھ الحاق (ڈاکنگ) پاکستانی وقت کے مطابق آج رات 10 بج کر 56 منٹ پر متوقع ہے۔ روس کاسموس کے مطابق، 75ویں طویل المدتی خلائی مشن کا یہ عملہ تیز رفتار ٹو آربٹ پرواز کے ذریعے محض تین گھنٹوں میں خلائی اسٹیشن پہنچے گا، جہاں ہوا بند دروازے (ہیچز) کھلنے کے بعد روسی خلا باز پیوتر دوبروف اور آنا کیکینا کے ہمراہ ناسا کے خلا باز انیل مینن اسٹیشن میں داخل ہوں گے۔ یہ عملہ خلا میں مجموعی طور پر 261 روز قیام کرے گا اور اس دوران 38 اہم سائنسی تجربات انجام دے گا، جن میں “گازوآنالیزاتور-ایف ایس”، “ٹیلی ڈروئیڈ” اور “سولنتسے-ٹیرا ہرٹز” جیسے اہم سائنسی و تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔ ان تجربات کا بنیادی مقصد خلائی ٹیکنالوجی کو جدید بنانا اور مستقبل کے انسان بردار خلائی مشنز کے لیے نئی سائنسی معلومات حاصل کرنا ہے۔