LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

روسی خلائی جہاز

Web Desk

17 July 2026

روسی خلائی ادارے “روس کاسموس” کا انسان بردار خلائی جہاز “سویوز ایم ایس-29” کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں داخل ہو گیا ہے، جس کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے ساتھ الحاق (ڈاکنگ) پاکستانی وقت کے مطابق آج رات 10 بج کر 56 منٹ پر متوقع ہے۔ روس کاسموس کے مطابق، 75ویں طویل المدتی خلائی مشن کا یہ عملہ تیز رفتار ٹو آربٹ پرواز کے ذریعے محض تین گھنٹوں میں خلائی اسٹیشن پہنچے گا، جہاں ہوا بند دروازے (ہیچز) کھلنے کے بعد روسی خلا باز پیوتر دوبروف اور آنا کیکینا کے ہمراہ ناسا کے خلا باز انیل مینن اسٹیشن میں داخل ہوں گے۔ یہ عملہ خلا میں مجموعی طور پر 261 روز قیام کرے گا اور اس دوران 38 اہم سائنسی تجربات انجام دے گا، جن میں “گازوآنالیزاتور-ایف ایس”، “ٹیلی ڈروئیڈ” اور “سولنتسے-ٹیرا ہرٹز” جیسے اہم سائنسی و تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔ ان تجربات کا بنیادی مقصد خلائی ٹیکنالوجی کو جدید بنانا اور مستقبل کے انسان بردار خلائی مشنز کے لیے نئی سائنسی معلومات حاصل کرنا ہے۔