LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کسی بھی دورے کے دوران مارکیٹیں اور کاروبار بند نہ کئے جائیں، مریم نواز کی حکام کو ہدایت امریکی انتخابات کے نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا: ٹرمپ مصر میں مسافر ٹرین حادثہ، متعدد بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 64 افراد زخمی غزہ میں بارشوں سے 70 ہزار خیمے زیر آب، ساڑھے 3 لاکھ بے گھر افراد متاثر ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم

برطانیہ میں 17 سال کے نوجوانوں کیلئے سوشل میڈیا پر رات 12 سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کی تجویز

Web Desk

16 July 2026

برطانوی حکومت نے نئی نسل کو ذہنی تناؤ سے بچانے اور ان کی روزمرہ زندگی کو منظم کرنے کے لیے ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے 16 اور 17 سال کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر رات کا کرفیو نافذ کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس انوکھی تجویز کے تحت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک کے اوقات میں نوجوانوں کے لیے خودکار (Automatic) طور پر بند رہیں گے۔ تاہم، پالیسی میں لچک رکھتے ہوئے یہ گنجائش بھی دی گئی ہے کہ اگر صارفین چاہیں تو خود اپنی سیٹنگز تبدیل کر کے اس پابندی کو ختم کر سکتے ہیں۔

اس کرفیو کے علاوہ برطانوی حکومت سوشل میڈیا کمپنیوں کو اس بات کا پابند بھی بنانا چاہتی ہے کہ وہ نوعمر صارفین کے لیے ‘آٹو پلے’ (پلے لسٹس کا خود بخود چلنا) اور ‘لامتناہی اسکرولنگ’ (Infinite Scroll) جیسے لت پیدا کرنے والے فیچرز کو ڈیفالٹ طور پر بند رکھیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد نوجوانوں کی نیند کا دورانیہ پورا کرنا، ان کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانا اور خاندانی و سماجی زندگی کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

دوسری جانب، ٹیکنالوجی ماہرین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں نے اس مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ پابندیاں لازمی نہیں ہیں اور نوجوان انہیں موبائل سیٹنگز سے آسانی سے بند کر سکتے ہیں، اس لیے عملی طور پر ان کی مؤثریت انتہائی محدود ہوگی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کا واحد درست راستہ یہی ہے کہ 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل قانونی پابندی عائد کی جائے