LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا موریطانیہ کے وزیر خارجہ سے رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پاکستان کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی بیان پر ناظم الامور کو ڈی مارش اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی وزیراعظم سے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی الوداعی ملاقات بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ

برطانیہ میں 17 سال کے نوجوانوں کیلئے سوشل میڈیا پر رات 12 سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کی تجویز

Web Desk

16 July 2026

برطانوی حکومت نے نئی نسل کو ذہنی تناؤ سے بچانے اور ان کی روزمرہ زندگی کو منظم کرنے کے لیے ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے 16 اور 17 سال کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر رات کا کرفیو نافذ کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس انوکھی تجویز کے تحت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک کے اوقات میں نوجوانوں کے لیے خودکار (Automatic) طور پر بند رہیں گے۔ تاہم، پالیسی میں لچک رکھتے ہوئے یہ گنجائش بھی دی گئی ہے کہ اگر صارفین چاہیں تو خود اپنی سیٹنگز تبدیل کر کے اس پابندی کو ختم کر سکتے ہیں۔

اس کرفیو کے علاوہ برطانوی حکومت سوشل میڈیا کمپنیوں کو اس بات کا پابند بھی بنانا چاہتی ہے کہ وہ نوعمر صارفین کے لیے ‘آٹو پلے’ (پلے لسٹس کا خود بخود چلنا) اور ‘لامتناہی اسکرولنگ’ (Infinite Scroll) جیسے لت پیدا کرنے والے فیچرز کو ڈیفالٹ طور پر بند رکھیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد نوجوانوں کی نیند کا دورانیہ پورا کرنا، ان کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانا اور خاندانی و سماجی زندگی کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

دوسری جانب، ٹیکنالوجی ماہرین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں نے اس مجوزہ قانون پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ پابندیاں لازمی نہیں ہیں اور نوجوان انہیں موبائل سیٹنگز سے آسانی سے بند کر سکتے ہیں، اس لیے عملی طور پر ان کی مؤثریت انتہائی محدود ہوگی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کا واحد درست راستہ یہی ہے کہ 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل قانونی پابندی عائد کی جائے