LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے ویتنامی لڑکی نے ملک بھر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کی نئی لہر پیدا کر دی افغان سرحدی راستوں سے ہمسایہ ممالک میں منشیات سمگلنگ، تاجک ایجنسی کی رپورٹ جاری صدر ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات کے ڈیٹا کی سب سے بڑی چوری کا الزام ایران اب بھی چاہتا ہے ڈیل ہو جائے: وائٹ ہاؤس امریکی نائب صدر نے اسرائیل پر بڑا الزام لگا دیا یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس رپورٹ میں پاکستان اسکیم کا سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک قرار امریکی محکمہ خارجہ کی دوہری شہریت رکھنے والے شہریوں کو سفری قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور امریکی حملوں کا جواب، ایران کے بحرین میں امریکی تنصیبات پر حملے امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کے کویت میں ڈرون حملے چینی حکومت چاہتی ہے کہ امریکی صدر الیکشن ہار جائیں، ٹرمپ کا الزام امریکا کا برازیل پر بعض درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان روس کا یوکرین میں تعینات کسی بھی بین الاقوامی فوج کو نشانہ بنانے کا اعلان

ویتنامی لڑکی نے ملک بھر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کی نئی لہر پیدا کر دی

Web Desk

17 July 2026

غزہ یکجہتی مہم میں شامل ہونے والی پہلی ویتنامی شہری ۲۸ سالہ ٹیو نگوین باؤ نگوک (ایشلے) اس وقت عالمی اور ملکی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئیں جب غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” میں شرکت کے دوران انہیں اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا۔ نگوین باؤ نگوک، جو سنگاپور کی نین یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی سے ماسٹرز کر رہی تھیں، نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجاً اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور ویتنام واپس آکر “ویٹ فار فلسطین” نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ ۱۸ مئی کو قبرص کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں ان کی کشتی کو اسرائیلی فورسز نے روک کر انہیں حراست میں لیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی رہائی کے لیے “باؤ نگوک کو رہا کرو” مہم شروع ہو گئی۔ ویتنامی حکومت کی ابتدائی خاموشی اور بعد ازاں سفارتی سرگرمی کے نتیجے میں انہیں رہا کر کے استنبول منتقل کر دیا گیا۔ باؤ نگوک نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ایک ایسے ملک سے تعلق رکھنے کے ناطے جس نے ماضی میں مغربی مظالم کا سامنا کیا ہے، وہ فلسطینی عوام کے درد کو بخوبی سمجھتی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو جنوب مشرقی ایشیا کی مشترکہ علاقائی شناخت کا حصہ بنایا جائے۔