LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے صومالی وزیر دفاع کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق واشک اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز، 12 دہشتگرد جہنم واصل شفاف انتخابات تک بڑی آئینی تبدیلی قبول نہیں: سلمان اکرم راجہ سفارتی وفد کا این ڈی ایم اے کا دورہ، جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کو سراہا فیک نیوز کی روک تھام ناگزیر، صحافت ذمہ دارانہ پیشہ ہے: عظمیٰ بخاری وزیراعظم اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ سہ روزہ دورہ پر سعودی عرب روانہ PMDC کا ایم ڈی کیٹ امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی کا اعلان، ٹیسٹ اب 20 ستمبر کو ہو گا راولپنڈی میں رواں سال ڈینگی کے 6 کیسز سامنے آ گئے، 67 ہزار سے زائد لاروا تلف، ہیلتھ اتھارٹی کی رپورٹ جاری ہم افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، افغان طالبان کو پاکستان یا دہشت گردوں میں سے ایک کو چننا ہوگا: دفترِ خارجہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے تاثر کی تردید,اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ پیش پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز نے میٹرک 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا حافظ نعیم الرحمن کی 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کی اپیل براڈ پیک حادثہ: جاں بحق ہونے والے پانچ غیرملکی کوہ پیماؤں کی میتیں سکردو پہنچا دی گئیں پاکستان جلد یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرے گا، فیصل نیاز ترمذی ٹرمپ نے امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبروں کو مسترد کر دیا

جے ڈی وینس نے کشنر اور وٹکوف پر مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات مسترد کر دیے

Web Desk

17 July 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات میں شریک جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر اندرونی معلومات سے مالی فائدہ اٹھانے کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ یہ الزامات سراسر جھوٹے ہیں اور یہ تصور ہی مضحکہ خیز ہے کہ صدر ٹرمپ کی ٹیم کے یہ قابلِ اعتماد ارکان اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے تھے۔ یہ بیان “ڈراپ سائٹ نیوز” کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے دوران جے ڈی وینس کو ایک پیغام بھیجا تھا جس میں کشنر اور وٹکوف کے مالی مفادات کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ نائب صدر نے واضح کیا کہ انہیں ایسا کوئی پیغام کبھی موصول نہیں ہوا اور ان دونوں نے خطے میں امن کے لیے سب سے زیادہ کام کیا ہے۔ یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جے ڈی وینس نے اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان پر بھی الزام لگایا ہے کہ وہ غیر ملکی اثر و رسوخ کی مہم کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی امریکی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔