LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کشمیر کے مسائل حل کیلئے’ ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن‘ کمیشن قائم کیا جائے: بلاول بھٹو استنبول سے اسلام آباد آنیوالی پرواز میں خرابی، باکو میں ایمرجنسی لینڈنگ چین کے فارماسیوٹیکل تعاون سے سستی ادویات، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، وزیراعظم سونے کی قیمت میں بڑی کمی سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ جاں بحق، متعدد زخمی واٹس ایپ ہیکنگ سے بچاؤ، این سی سی آئی اے کا ایکشن پلان، ہیلپ لائن بھی قائم ہوگی بلھے شاہ ایکسپریس کی بحالی، لاہور ریلوے سٹیشن اپ گریڈ، نئی ٹرینوں کا اعلان اینڈی برنہم برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب، آئندہ ہفتے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے بھارت سے دریائے چناب میں پانی کی آمد 4 روز میں 21 ہزار 600 کیوسک کم امریکی صدر ٹرمپ کے انتخابی مداخلت کے الزامات بے بنیاد ہیں: چین امریکہ کا بائیڈن دور کی ‘پبلک چارج’ پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ؛ تارکینِ وطن کے لیے گرین کارڈ کا حصول مشکل ہونے کا خدشہ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، جنید اکبر اور عبدالغنی آفریدی کیخلاف اشتہاری قرار دینے کی کاروائی شروع مالی سال 26ء میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا؛ اسٹیٹ بینک نے نئے اعداد و شمار جاری اپنی چھت، محفوظ چھت پروگرام: 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرض دینے کا اعلان عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے سے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ

اینڈی برنہم برطانوی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب، آئندہ ہفتے وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے

Web Desk

17 July 2026

برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی کے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت رکنِ پارلیمنٹ اینڈی برنہم پارٹی کے نئے رہنما منتخب ہو گئے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اینڈی برنہم موجودہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی جگہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم ہوں گے اور اگلے ہفتے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، جبکہ سر کیئر اسٹارمر پیر کے روز بادشاہ چارلس کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیں گے۔ قیادت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں اینڈی برنہم نے سر کیئر اسٹارمر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئی کابینہ میں پارٹی کے تمام دھڑوں کو نمائندگی دی جائے گی اور محض مختلف رائے رکھنے پر کسی رکن کو سزا نہیں ملے گی، کیونکہ اگر پارٹی اندرونی اختلافات میں الجھی رہی تو دائیں بازو کی جماعتوں کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔