LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم

ماہرینِ فلکیات نے 11 سال پرانی تصاویر میں چھپا نیا سیارہ دریافت کر لیا

Web Desk

16 July 2026

ماہرینِ فلکیات نے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایک نیا ایکسوپلینیٹ (سیارہ) دریافت کیا ہے، جسے اب تک براہِ راست تصویر بندی (Direct Imaging) کے ذریعے دیکھا جانے والا سب سے مدھم ترین سیارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ زمین سے تقریباً 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع یہ سیارہ مشتری اور زحل کی طرح ایک دیو ہیکل گیسی کرہ ہے، جسے “بیٹا پکٹورس ڈی” کا نام دیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر یہ سیارہ گزشتہ 11 سالوں سے رصدگاہوں کے ریکارڈ میں موجود تھا مگر ستارے کی شدید روشنی اور اپنے انتہائی مدھم ہونے کے باعث نظروں سے اوجھل رہا۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا اور آکسفورڈ کے سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم جب پہلے سے معلوم سیارے کا مشاہدہ کر رہی تھی تو اس دوران اس نئے سیارے کی نشاندہی ہوئی۔ اس دریافت کی تصدیق یورپی جنوبی رصدگاہ کے پرانے محفوظ شدہ ڈیٹا اور جیمز ویب خلائی دوربین (JWST) کے مشاہدات سے بھی ہوئی ہے۔ تحقیقی جریدے “دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز” میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، نیا سیارہ اپنے نظامِ شمسی کے دیگر دو سیاروں (بیٹا پکٹورس بی اور سی) کے مقابلے میں مرکزی ستارے سے کہیں زیادہ فاصلے پر گردش کر رہا ہے۔