LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آن لائن فراڈ کیس: 284 غیر ملکیوں کی حراست کیلئے نجی پلازہ دوبارہ سب جیل قرار حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم وزیراعظم کی عازمینِ حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی، مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت

ماہرینِ فلکیات نے 11 سال پرانی تصاویر میں چھپا نیا سیارہ دریافت کر لیا

Web Desk

16 July 2026

ماہرینِ فلکیات نے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایک نیا ایکسوپلینیٹ (سیارہ) دریافت کیا ہے، جسے اب تک براہِ راست تصویر بندی (Direct Imaging) کے ذریعے دیکھا جانے والا سب سے مدھم ترین سیارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ زمین سے تقریباً 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع یہ سیارہ مشتری اور زحل کی طرح ایک دیو ہیکل گیسی کرہ ہے، جسے “بیٹا پکٹورس ڈی” کا نام دیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر یہ سیارہ گزشتہ 11 سالوں سے رصدگاہوں کے ریکارڈ میں موجود تھا مگر ستارے کی شدید روشنی اور اپنے انتہائی مدھم ہونے کے باعث نظروں سے اوجھل رہا۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا اور آکسفورڈ کے سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم جب پہلے سے معلوم سیارے کا مشاہدہ کر رہی تھی تو اس دوران اس نئے سیارے کی نشاندہی ہوئی۔ اس دریافت کی تصدیق یورپی جنوبی رصدگاہ کے پرانے محفوظ شدہ ڈیٹا اور جیمز ویب خلائی دوربین (JWST) کے مشاہدات سے بھی ہوئی ہے۔ تحقیقی جریدے “دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز” میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، نیا سیارہ اپنے نظامِ شمسی کے دیگر دو سیاروں (بیٹا پکٹورس بی اور سی) کے مقابلے میں مرکزی ستارے سے کہیں زیادہ فاصلے پر گردش کر رہا ہے۔