ماہرینِ فلکیات نے 11 سال پرانی تصاویر میں چھپا نیا سیارہ دریافت کر لیا
Web Desk
16 July 2026
ماہرینِ فلکیات نے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر ایک نیا ایکسوپلینیٹ (سیارہ) دریافت کیا ہے، جسے اب تک براہِ راست تصویر بندی (Direct Imaging) کے ذریعے دیکھا جانے والا سب سے مدھم ترین سیارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ زمین سے تقریباً 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع یہ سیارہ مشتری اور زحل کی طرح ایک دیو ہیکل گیسی کرہ ہے، جسے “بیٹا پکٹورس ڈی” کا نام دیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر یہ سیارہ گزشتہ 11 سالوں سے رصدگاہوں کے ریکارڈ میں موجود تھا مگر ستارے کی شدید روشنی اور اپنے انتہائی مدھم ہونے کے باعث نظروں سے اوجھل رہا۔ یونیورسٹی آف ایڈنبرا اور آکسفورڈ کے سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم جب پہلے سے معلوم سیارے کا مشاہدہ کر رہی تھی تو اس دوران اس نئے سیارے کی نشاندہی ہوئی۔ اس دریافت کی تصدیق یورپی جنوبی رصدگاہ کے پرانے محفوظ شدہ ڈیٹا اور جیمز ویب خلائی دوربین (JWST) کے مشاہدات سے بھی ہوئی ہے۔ تحقیقی جریدے “دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز” میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، نیا سیارہ اپنے نظامِ شمسی کے دیگر دو سیاروں (بیٹا پکٹورس بی اور سی) کے مقابلے میں مرکزی ستارے سے کہیں زیادہ فاصلے پر گردش کر رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026