LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایل این جی کی فوری ملی تو بجلی مہنگی اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگا، پاور ڈویژن کا انتباہ وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر اہم گفتگو ایران سے مذاکرات کے لیے میری ٹیم کل اسلام آباد پہنچ رہی ہے، ٹرمپ کا بڑا اعلان امیدہے ایران امریکاجنگ بندی میں توسیع ہوجائے گی، ترک وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرخارجہ کا رابطہ، خطے میں امن کیلیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق وٹکوف اور جیرڈکشنرمذاکرات کےلیے اسلام آباد جارہے ہیں، ٹرمپ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی سخت، میٹرو بس اور ٹرانسپورٹ بند اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات، میریٹ ہوٹل سرکاری تحویل میں، شہر میں سخت بندشیں سعودی ایئرلائنز کی پشاور پروازیں بحال، جدہ سے پہلی پرواز پہنچ گئی ایران امریکا مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں متوقع ہیں: عرب میڈیا پاکستان میں ایچ آئی وی عام آبادی تک پہنچ گیا، متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار ہوگئی امریکا سے مذاکرات میں اب بھی بڑا فاصلہ موجود ہے، ایرانی اسپیکر واشنگٹن:ایران صورتحال پر اہم اجلاس، صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر گفتگو خلیج میں لنگرانداز جہاز  حرکت نہ کریں ، پاسداران انقلاب کی سخت وارننگ ڈیزل سے بھرا پاکستانی جہاز آبنائے ہرمز سے داخل ہوکر واپس لوٹ گیا

کراچی نیپا چورنگی حادثہ، شوبز شخصیات کا انتظامیہ کی غفلت پر شدید ردِعمل

Web Desk

2 December 2025

نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں گر کر تین سالہ ابراہیم کی المناک موت نے پورے شوبز حلقے کو بھی غمزدہ کر دیا ہے۔

معصوم ابراہیم والدین کے ساتھ شاپنگ کے لیے نکلا تھا لیکن کھلے گٹر میں گرنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا، پندرہ گھنٹے کی تلاش کے بعد اس کی لاش ملی جس کے بعد نمازِ جنازہ ادا کرکے تدفین کر دی گئی،تاہم شوبز شخصیات بھی ننھے ابراہیم کی موت پر انتہائی افسردہ ہیں اور انتظامیہ و حکمرانوں کی ناہلی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔اداکار احسن خان نے ابراہیم کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم اسے وہ بنیادی تحفظ نہ دے سکے جس کا ہر بچہ حق دار ہے، اس کی معصومیت اور بے بسی ہماری اجتماعی ناکامی ہے، ابراہیم ہمیں معاف کر دینا۔اداکارہ فاطمہ آفندی نے حکام کی نااہلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں روپے ای چالان سے وصول کیے جاتے ہیں مگر سڑکوں پر مین ہول کے ڈھکن لگانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ماہرہ خان نے واقعے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد لکھا کہ ماں کا اپنے بچے کے لیے بلک بلک کر رونا دل دہلا دینے والا ہے، اس حادثے کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ ایسی بے حسی ناقابلِ برداشت ہے۔سجل علی نے بھی شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دل توڑ دینے والا حادثہ ہے، شرم آنی چاہیے اس شخص یا ادار کو جو اس کا ذمہ دار ہے، کراچی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ اس ناکام نظام کی جواب دہی کون کرے گا؟انہوں نے کہا کہ جو شہر لاکھوں لوگوں کو سہارا دیتا ہے، اس کے تحفظ کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاتا۔