LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز اسحاق ڈار سے ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے کا ٹیلی فونک رابطہ، مختلف امور پر تبادلہ خیال حیدرآباد میں بی آئی ایس پی مستحقین سے غیر قانونی کٹوتیوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

آسٹریلیا بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا

Web Desk

1 December 2025

آسٹریلیا نے والدین کے بجائے سوشل میڈیا کمپنیوں جن میں میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب شامل ہیں، کو پابند بنایا ہے کہ وہ 10 دسمبر سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ 16 سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ ان پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ نہ بنا سکے، خلاف وزری کی صورت میں ان کمپنیوں کو بھاری جرمانے دینے ہوں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون بچوں کو ایسے الگورتھمز سے بچانے کے لیے ضروری ہے جو انہیں نقصان دہ مواد دکھاتے ہیں۔حالیہ سروے کے مطابق زیادہ تر بالغ آسٹریلوی شہری اس پابندی کی حمایت کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پابندی سے بچے انٹرنیٹ کی غیر منظم اور خطرناک سائٹس کی طرف جا سکتے ہیں۔امریکی سرجن جنرل سمیت ذہنی صحت کے بیشتر ماہرین کے مطابق کم عمری یا کچی عمر میں سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال دماغ کے اُن حصوں میں تبدیلیوں لاسکتا ہے جو سیکھنے کے عمل سے متعلق ہیں۔ ساتھ ہی یہ نفس کو قابو رکھنے، سماجی رویّے، جذباتی نظم و ضبط اور سماجی سزا و انعام کے احساس پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔اس قانون کو آسٹریلیا کی اعلیٰ عدالت میں 15 سال کے دو بچوں نے چیلنج کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اُن سے آزادانہ کمیونیکیشن اور خصوصاً سیاسی معلومات تک رسائی کے حق کو چھینتی ہے۔بعض مخالفین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سوشل میڈیا، گیمنگ اور اسکرین ٹائم کے حوالے سے مسائل موجود ہیں لیکن ان سے تعلیم اور ابلاغ جیسے بہت سے فائدے بھی ہیں۔قانونی چیلنج کے باوجود آسٹریلیا کی وزیر مواصلات نے کہا کہ حکومت دباؤ میں نہیں آئے گی اور بچوں کو محفوظ رکھنے میں آسٹریلوی والدین کے ساتھ کھڑی رہے گی۔