LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی

سوشل میڈیا نوجوانوں کیلئے سگریٹ نوشی جتنا خطرناک قرار!

Web Desk

29 May 2026

لندن: برطانیہ میں سامنے آنے والی ایک نئی اور انتہائی تشویشناک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال نوجوان نسل کی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے ’سگریٹ نوشی جتنا خطرناک‘ ثابت ہو رہا ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ’گروئینگ اپ اِن دی آن لائن ورلڈ‘ (Growing up in the online world) نامی اہم مشاورت حال ہی میں ختم ہوئی ہے۔ اس مشاورت کے دوران کم عمر صارفین کو آن لائن دنیا کے خطرات سے بچانے کے لیے آسٹریلیا کی طرز پر سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات (اسکرین ٹائم) کو محدود کرنے اور پلیٹ فارمز کے نشہ آور (Addictive) فیچرز پر قدغن لگانے جیسے اہم اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اس سرکاری مشاورت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں ‘اکیڈمی آف میڈیکل رائل کالجز’ نے انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اس وقت طبی ماہرین اور ڈاکٹرز ایک ایسی نسل کا سامنا کر رہے ہیں جو آن لائن دنیا میں موجود نفرت انگیز، ذہنی طور پر تباہ کن اور انتہائی لت لگانے والے مواد کے زیرِ اثر آکر تیزی سے انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں شامل اکیڈمی کے 454 ڈاکٹروں پر کیے گئے ایک باقاعدہ سروے کے دوران سنسنی خیز حقائق سامنے آئے ہیں:

سروے کے مطابق، تقریباً نصف (50 فیصد) ڈاکٹروں نے اعتراف کیا کہ وہ ہر ہفتے کم از کم ایک ایسے بچے کا علاج کر رہے ہیں جس کی ذہنی تکلیف، ڈپریشن یا جسمانی چوٹ کا براہِ راست تعلق کسی نہ کسی آن لائن یا سوشل میڈیا مواد سے جڑا ہوا تھا۔

طبی ماہرین نے برطانوی حکومت اور والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اس ڈیجیٹل وبا کو عام نہ لیں اور بچوں کو اسکرین سے دور رکھنے کے لیے فوری اور سخت قوانین متعارف کرائے جائیں، ورنہ مستقبل میں اس کے نتائج مزید بھیانک ہو سکتے ہیں۔