LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن

پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم

Web Desk

22 August 2026

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت غیر فعال ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کریں گے، جبکہ سیکریٹری ہیلتھ سروسز ڈاکٹر جہانزیب علی، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ندیم حیات، ڈاکٹر عظمت حیات اور عمر فاروق بھی اس اہم کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ وزیراعظم کے مطابق کمیٹی ضرورت پڑنے پر کسی اضافی تکنیکی رکن کو شامل کرنے کی مجاز ہوگی۔

کمیٹی اس امر کی جامع تحقیقات کرے گی کہ سال 2022ء سے جدید ترین تکنیکی صلاحیت اور مشینری موجود ہونے کے باوجود پمز میں یہ مفت یا سستی طبی سہولت مریضوں کے لیے فعال کیوں نہ ہو سکی۔ اس کے ساتھ ہی تکنیکی سہولیات، درکار سافٹ ویئر اور متعلقہ انسانی وسائل کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

تحقیقاتی کمیٹی 2022ء سے اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی اینجیوگرامز کے مکمل طریقہ کار، اعداد و شمار اور باہمی شعبہ جات (کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی) کے رابطوں کا جائزہ لے گی۔ مزید برآں، یہ بات بھی جانچی جائے گی کہ آیا پمز کے مریضوں کو جان بوجھ کر نجی تشخیصی مراکز کی طرف بھیجا جاتا رہا اور کیا کسی خاص نجی مرکز کو فائدہ پہنچایا گیا۔ وزیراعظم نے تاکید کی ہے کہ عدم رابطہ کاری، غفلت اور بدانتظامی کے تمام ذمہ داران کا تعین کر کے جلد رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہو سکے۔