LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز پر امریکی جواب زیر غور، حتمی مؤقف سفارتی چینلز سے دیا جائے گا: کاظم غریب آبادی یمن میں حوثیوں کے خلاف ملک گیر فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان پاکستان اور افغان وفود ماسکو فارمیٹ اجلاس میں ایک میز پر بیٹھیں گے بانی کے علاج اور کے پی سیکیورٹی پالیسی پر ڈیڈلاک، آئین کی بحالی تک تحریک جاری رہے گی: عامر ڈوگر بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہ ملنا مذاکرات کی ناکامی کا سبب بنا، صرف طاقت سے دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی: پی ٹی آئی صومالیہ بحری قزاقوں کے حملے میں جاں بحق پاکستانیوں کی میتیں اور زخمی کراچی منتقل، تھرڈ انجینئر کی نمازِ جنازہ ادا محسن نقوی اور گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات ختم، جلد اعلامیہ جاری کرنے کا عندیہ ایران نے امریکی تجاویز کا جواب دے دیا، پابندیاں ختم کرنا ہوں گی: اسماعیل بقائی دفاعی معاہدے میں ایران، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کو شامل کیا جائے: حافظ نعیم الرحمان مذاکرات میں ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہے: اسد قیصر پی ٹی آئی والے یوٹرن لینے کے ماہر ہیں، کسی ایک بات پر قائم نہیں رہتے: عطا تارڑ ایران کا میزائلوں کی رینج اور رفتار بڑھانے کا فیصلہ، اپ گریڈیشن شروع اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والے کس کا ایجنڈا پورا کرنا چاہتے ہیں؟ احسن اقبال امریکا شرائط مان لے تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھول دیں گے: عباس عراقچی ماسکو فارمیٹ کا افغانستان سے متعلق آٹھواں مشاورتی اجلاس 5 اکتوبر کو ہو گا

پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم

Web Desk

22 August 2026

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت غیر فعال ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کریں گے، جبکہ سیکریٹری ہیلتھ سروسز ڈاکٹر جہانزیب علی، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ندیم حیات، ڈاکٹر عظمت حیات اور عمر فاروق بھی اس اہم کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ وزیراعظم کے مطابق کمیٹی ضرورت پڑنے پر کسی اضافی تکنیکی رکن کو شامل کرنے کی مجاز ہوگی۔

کمیٹی اس امر کی جامع تحقیقات کرے گی کہ سال 2022ء سے جدید ترین تکنیکی صلاحیت اور مشینری موجود ہونے کے باوجود پمز میں یہ مفت یا سستی طبی سہولت مریضوں کے لیے فعال کیوں نہ ہو سکی۔ اس کے ساتھ ہی تکنیکی سہولیات، درکار سافٹ ویئر اور متعلقہ انسانی وسائل کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

تحقیقاتی کمیٹی 2022ء سے اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی اینجیوگرامز کے مکمل طریقہ کار، اعداد و شمار اور باہمی شعبہ جات (کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی) کے رابطوں کا جائزہ لے گی۔ مزید برآں، یہ بات بھی جانچی جائے گی کہ آیا پمز کے مریضوں کو جان بوجھ کر نجی تشخیصی مراکز کی طرف بھیجا جاتا رہا اور کیا کسی خاص نجی مرکز کو فائدہ پہنچایا گیا۔ وزیراعظم نے تاکید کی ہے کہ عدم رابطہ کاری، غفلت اور بدانتظامی کے تمام ذمہ داران کا تعین کر کے جلد رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہو سکے۔