LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد ایران پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا: ایرانی سفیر اسحاق ڈار سے جاپانی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مفاہمت کا خیر مقدم کراچی: اسٹیٹ بینک نے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع کر دی پنجاب کا 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش ہوگا، ترقیاتی بجٹ نصف کر دیا گیا

یوٹیوب کا بڑا ایکشن، ٹرمپ کا مذاق اڑانے والا مشہور چینل اچانک بند کردیا

Web Desk

17 April 2026

یوٹیوب نے ایرانی حکومت کے حامی ایک مقبول چینل ‘ایکسپلوزو میڈیا’ (Explosive Media) کو اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر معطل کر دیا ہے، جس کے بعد ڈیجیٹل سنسرشپ اور آزادیِ اظہار کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ چینل مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ‘لیگو اسٹائل’ (Lego-style) ویڈیوز تیار کرنے کے لیے مشہور تھا، جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا طنزیہ انداز میں مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ جنگی مناظر اور دیگر عالمی رہنماؤں کی جھلکیاں دکھائی جاتی تھیں۔ ان ویڈیوز کو اپنی منفرد پیشکش کی وجہ سے سوشل میڈیا پر لاکھوں کی تعداد میں دیکھا جا رہا تھا۔

یوٹیوب انتظامیہ نے اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ چینل کو ‘اسپام اور دھوکا دہی’ سے متعلق سخت پالیسیوں کی خلاف ورزی پر معطل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، چینل کے منتظمین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یوٹیوب کے اس اقدام کو سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی ‘سنسرشپ’ قرار دیا ہے۔ ڈیجیٹل ماہرین کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے مواد کی نگرانی کے سخت قوانین اکثر متنازع بن جاتے ہیں، جہاں ایک طرف پلیٹ فارم کی حفاظت کا سوال ہوتا ہے اور دوسری طرف اظہارِ رائے کی آزادی کا۔