چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت
Web Desk
7 July 2026
چین کی ایک عدالت نے شہر نانجنگ کے سابق اقتصادی ترقیاتی عہدیدار یانگ یولین کو 30 برسوں کے دوران 325 ملین ڈالرز کی بھاری رشوت لینے اور دیگر سنگین جرائم کے ارتکاب پر سزائے موت سنا دی ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق، یانگ یولین کو 1993ء سے 2023ء کے درمیان منصوبوں کی منظوری، کاروباری سہولیات، زمین کی الاٹمنٹ اور سرمایہ فراہم کرنے کے بدلے رشوت لینے، سرکاری فنڈز میں خردبرد، منی لانڈرنگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ ملزم نے اپنے آخری بیان میں جرم کا اعتراف کرتے ہوئے ندامت کا اظہار کیا تھا، تاہم عدالت نے ان کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کرنے اور رشوت کی مکمل رقم واپس لینے کا سخت حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں چین کے اندر انسدادِ بدعنوانی مہم کے تحت یہ ایک نمایاں فیصلہ ہے؛ اس سے قبل 2021ء میں لائی شیاومن اور 2024ء میں لی جیان پنگ کو بھی بدعنوانی کے بڑے مقدمات میں سزائے موت دی جا چکی ہے۔
متعلقہ عنوانات
تیل کی قیمتیں کم رکھنا امریکا کی پہلی ، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا دوسری ترجیح ہے: جے ڈی وینس
15 August 2026
انڈونیشیا میں زلزلے سے جانی نقصان پر وزیراعظم کا اظہار افسوس
15 August 2026
آزاد کشمیر الیکشن: نتائج کو’’فارم 47 پلس‘‘ کے نام سے یاد رکھا جائیگا: شرجیل میمن
15 August 2026
نیویارک کی تاریخی پاکستان ڈے پریڈ 42ویں سال میں داخل، بلال سعید پہلی بار میڈیسن ایونیو پر سر بکھیریں گے
15 August 2026
شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن،10 دہشت گرد ہلاک
15 August 2026
آزاد کشمیر میں عوام نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو مسترد کر دیا: مریم نواز
15 August 2026
دنیا کے کسی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ
15 August 2026
مخالفین کیساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا، امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملے گا: نوازشریف
15 August 2026