انٹرنیٹ کو بھی بنیادی سروس قرار دینے پر غور، وزارت آئی ٹی کا قانونی جائزہ مکمل
Web Desk
3 July 2026
ومتِ پاکستان نے پانی، بجلی اور گیس کی طرح اب انٹرنیٹ کو بھی بنیادی لازمی سروس قرار دینے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نے اپنا ابتدائی قانونی جائزہ مکمل کر لیا ہے۔
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کو جمع کرائی گئی وزارتِ آئی ٹی کی تحریری رپورٹ کے مطابق، ملک میں فی الحال انٹرنیٹ کو بنیادی سروس قرار دینے کا کوئی قانون موجود نہیں ہے اور نہ ہی آئینِ پاکستان میں انٹرنیٹ تک رسائی کو ایک الگ آئینی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باقاعدہ نئی قانون سازی یا موجودہ قوانین میں ترامیم درکار ہوں گی۔
وزارتِ آئی ٹی کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اب قومی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد بن چکا ہے، اور اس کی بندش سے ملکی معیشت، بینکاری، تعلیم اور صحت کے شعبے شدید متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ انٹرنیٹ کو بنیادی سروس کا درجہ دینے سے ای گورننس، ای کامرس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس اہم فیصلے کے لیے وزارتِ قانون، وزارتِ داخلہ، وزارتِ دفاع، پی ٹی اے اور تمام ٹیلی کام کمپنیوں سے مشاورت لازمی ہوگی۔ قانون سازی کی صورت میں ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے بیک اپ نیٹ ورک، ڈیزاسٹر ریکوری اور سروس کے کم از کم معیار کو یقینی بنانا قانونی طور پر لازم ہوگا، جس کے بعد ٹیلی کام کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور سائبر سیکیورٹی کے سخت اقدامات ناگزیر ہو جائیں گے
متعلقہ عنوانات
قدرتی آفات کے حوالے سے رواں سال 51 اضلاع ہائی رسک قرار
3 July 2026
مالی سال 2025-26 کا تجارتی خسارہ ساڑھے 39 ارب ڈالر ریکارڈ
3 July 2026
پنجاب میں شواہد پر مبنی جدید ٹریفک چالاننگ نظام نافذ
3 July 2026
ایران اور امریکا معاہدے کے فالو اپ پر مثبت پیش رفت جاری ہے،عاصم افتخار
3 July 2026
اسٹیٹ بینک کے ڈالر ذخائر میں اضافہ، مجموعی حجم 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا
3 July 2026
ڈیرہ اسماعیل خان میں بس کھائی میں گرنے سے 16 افراد جاں بحق،متعدد زخمی
3 July 2026
دہشت گرد حملوں کے خلاف دفاع پاکستان کا حق ہے: امریکہ
3 July 2026
محسن نقوی کا جدہ میں جدید کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ، ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ
3 July 2026