LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

چینی کرنسی نوٹ کا حصہ بننے والی خاتون کو لگ بھگ 50 سال بعد ڈھونڈ لیا گیا

Web Desk

24 December 2025

چین کے ایک کرنسی نوٹ پر نظر آنے والی خاتون، جسے عوام میں ’’ون یوآن گرل‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، تقریباً 50 برس بعد بالآخر سامنے آ گئی ہے۔ چینی صوبے گوئیژو (Guizhou) کے ایک سوشل میڈیا صارف نے 26 نومبر کو ایک ویڈیو میں 65 سالہ شائی نیان کو بطور ون یوآن گرل متعارف کروایا۔

شائی نیان ایک عام کاشتکار خاتون ہیں اور ان کا تعلق صوبہ گوئیژو کی اقلیتی برادری ڈونگ سے ہے، تاہم ان کی عرفیت ون یوآن گرل پورے چین میں مشہور رہی۔ شائی نیان نے بتایا کہ 16 سال کی عمر میں وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ گاؤں کے قریب ایک بازار گئی تھیں، جہاں انہوں نے ڈونگ برادری کا روایتی لباس اور کانوں میں چاندی کے بڑے جھمکے پہن رکھے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی دوران ایک 30 سال سے زائد عمر کے شخص نے ان کا بازو تھاما اور مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ اس انداز میں کھڑی ہوں کہ چہرہ سائیڈ سے نظر آئے۔ شائی نیان الجھن کا شکار ہوئیں مگر انہوں نے ہدایت پر عمل کیا۔ اس شخص نے ان کا خاکہ تیار کیا اور بعد میں یہ واقعہ ان کے ذہن سے محو ہو گیا۔

شائی نیان کے مطابق جب لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ کرنسی نوٹ پر موجود لڑکی بالکل ان جیسی دکھائی دیتی ہے، تب انہیں یہ واقعہ یاد آیا۔ 1988 میں چین نے ون یوآن کا نیا کرنسی نوٹ جاری کیا تھا، جس پر دو خواتین کی تصاویر تھیں، جن میں ایک ڈونگ جبکہ دوسری یاؤ اقلیتی برادری سے تعلق رکھتی تھی۔

بعد میں معلوم ہوا کہ شائی نیان سے ملاقات کرنے والے شخص معروف مصور ہاؤ تامین تھے، جو تین سال تک چین کے جنوب مغربی علاقوں میں اقلیتی برادریوں کے رہن سہن کا مشاہدہ کرتے رہے تھے۔ Qingyun ٹاؤن کے حکام کے مطابق انہیں شروع سے علم تھا کہ ون یوآن گرل کا تعلق اسی علاقے سے ہے، جس کا اندازہ بالوں کے انداز اور روایتی جھمکوں سے لگایا گیا تھا۔

2010 میں مقامی حکام نے عوامی بات چیت کے بعد شائی نیان کی شناخت کی، تاہم اس وقت تک چین میں نئے کرنسی نوٹ جاری ہو چکے تھے جن پر ماؤزے تنگ کی تصویر موجود تھی۔ شائی نیان کا کہنا ہے کہ انہیں کرنسی نوٹ کا حصہ بننے پر خاص خوشی محسوس نہیں ہوئی اور ان کی زندگی معمول کے مطابق ہی گزرتی رہی۔

وہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں اور بچپن سے ہی خاندان کے ساتھ محنت کرتی رہی ہیں۔ اپنے گاؤں میں وہ اپنے خوبصورت بالوں کی وجہ سے ’’گاؤں کا پھول‘‘ کہلاتی تھیں۔ 23 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوئی اور اب ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ شائی نیان کے مطابق ان کے خاندان نے کبھی اس شہرت کو استعمال کرتے ہوئے حکومت سے کسی قسم کی امداد کی درخواست نہیں کی۔