LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا

واٹس ایپ گروپ کے ایڈمنز خبردار ہو جائیں، بھاری جرمانوں کی سخت وارننگ آگئی

Web Desk

29 April 2026

متحدہ عرب امارات میں سائبر قوانین کے حوالے سے حکام نے شہریوں کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واٹس ایپ سمیت کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہونے والی پرائیویٹ چیٹس بھی قانون سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔اماراتی حکام کے مطابق شہریوں کو چاہیے کہ وہ سائبر کرائم قوانین کی مکمل پابندی کریں کیونکہ نجی گفتگو، تصاویر یا پیغامات کو بغیر اجازت شیئر کرنا ایک قابل سزا جرم ہے۔حکام نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ کسی کی پرائیویٹ چیٹ کا اسکرین شاٹ لینا اور اسے آگے بھیجنا قانونی خلاف ورزی شمار ہو سکتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جھوٹی، گمراہ کن یا غیر تصدیق شدہ معلومات کو فارورڈ کرنا بھی سنگین جرم ہے، جس پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق ایسے جرائم پر 2 لاکھ 50 ہزار سے لے کر 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

مزید یہ کہ واٹس ایپ گروپس کے ایڈمنز کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے گروپس میں شیئر ہونے والے مواد کے ذمہ دار ہوں گے۔ اگر گروپ میں کوئی غیر قانونی یا متنازع مواد شیئر کیا جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری ایڈمن پر بھی عائد ہو سکتی ہے۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں، غیر مصدقہ خبریں شیئر کرنے سے گریز کریں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے بچیں تاکہ قانونی کارروائی سے محفوظ رہ سکیں۔