LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پیٹرول 6 روپے 51 پیسےمہنگا، نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کی خبریں بے بنیاد، سپلائی بلا تعطل جاری رہے گی: اوگرا ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، ٹرمپ کو آج سینٹکام کمانڈربریفنگ دیں گے  750 ملین ڈالر کے یورو بانڈز موصول، پاکستان کے  زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر سے تجاوزکرگئے، وزارت خزانہ امریکانے حملے کیے توجواب طویل اوردردناک ہوگا، پاسداران انقلاب موٹرسائیکل سواروں، پبلک وگڈزٹرانسپورٹ کےلیے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع فسادی غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانی کی تہہ کے سوا کچھ نہیں، مجتبیٰ خامنہ ای وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف

اسپیس ایکس اور اسٹار کلاؤڈ کا بڑا کارنامہ،پہلا خلاء میں چلنے والا سولر ڈیٹا سینٹر لانچ

Web Desk

18 November 2025

پاکستان کے کرپٹو وزیر بلال بن ثاقب نے کہاہے کہ ایلون مسک کی اسپیس’’ ایکس‘‘ نے خلاء میں ایک نہایت منفرد اور جدید مشن لانچ کیا ہے، جسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلال بن ثاقب کا کہناتھا کہ یہ کارنامہ ایک نئی اسٹارٹ اپ کمپنی ’’سٹار کلاؤڈ‘‘کی جانب سے سرانجام دیا گیا، جو ایسی سوچ لے کر آئی ہے جس کا کسی اور نے تصور بھی نہیں کیا تھا، ڈیٹا سینٹرز بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے بے حد توانائی درکار ہوتی ہے، تو اسٹار کلاؤڈ نے سوچاکہ کیوں نہ ڈیٹا سینٹرز کو خلاء میں ہی بنا دیا جائے۔
انسانی حقوق پرپیشرفت نہ ہوئی تو …? پاکستان میں یورپی یونین کے نئے سفیر نے ’’نئے خطرات ‘‘ کی نشاندہی کر دی
ان کا کہناتھا کہ ابتداء میں کسی نے اس آئیڈیا کو سنجیدہ نہیں لیا، مگر اب اسٹار کلاؤڈ نے NVIDIA H100 کو خلا میں بھیج کر دنیا کے پہلے ڈیٹا سینٹر GPU کو لو ارتھ آربٹ (تقریباً 500 کلومیٹر کی بلندی) پر نصب کر دیا ہے۔اس منصوبے کا مقصد ایسے خلائی ڈیٹا سینٹرز بنانا ہے جو مکمل طور پر شمسی توانائی پر کام کریں گے یعنی توانائی زمین سے لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ ڈیٹا سینٹرز زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے مسلسل سورج کی روشنی سے بجلی حاصل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ایسی خلائی مہمیں عام طور پر 5 سے 7 سال کی منصوبہ بندی اور تجربات کے بعد مکمل ہوتی ہیں مگر اسٹار کلاؤڈ نے یہ سب صرف 21 ماہ اور 2 دن میں کر دکھایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مستقبل میں کروڑوں اربوں ڈالر کی نئی خلائی ڈیٹا سینٹر انڈسٹری کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔