LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

اسپیس ایکس اور اسٹار کلاؤڈ کا بڑا کارنامہ،پہلا خلاء میں چلنے والا سولر ڈیٹا سینٹر لانچ

Web Desk

18 November 2025

پاکستان کے کرپٹو وزیر بلال بن ثاقب نے کہاہے کہ ایلون مسک کی اسپیس’’ ایکس‘‘ نے خلاء میں ایک نہایت منفرد اور جدید مشن لانچ کیا ہے، جسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بلال بن ثاقب کا کہناتھا کہ یہ کارنامہ ایک نئی اسٹارٹ اپ کمپنی ’’سٹار کلاؤڈ‘‘کی جانب سے سرانجام دیا گیا، جو ایسی سوچ لے کر آئی ہے جس کا کسی اور نے تصور بھی نہیں کیا تھا، ڈیٹا سینٹرز بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے بے حد توانائی درکار ہوتی ہے، تو اسٹار کلاؤڈ نے سوچاکہ کیوں نہ ڈیٹا سینٹرز کو خلاء میں ہی بنا دیا جائے۔
انسانی حقوق پرپیشرفت نہ ہوئی تو …? پاکستان میں یورپی یونین کے نئے سفیر نے ’’نئے خطرات ‘‘ کی نشاندہی کر دی
ان کا کہناتھا کہ ابتداء میں کسی نے اس آئیڈیا کو سنجیدہ نہیں لیا، مگر اب اسٹار کلاؤڈ نے NVIDIA H100 کو خلا میں بھیج کر دنیا کے پہلے ڈیٹا سینٹر GPU کو لو ارتھ آربٹ (تقریباً 500 کلومیٹر کی بلندی) پر نصب کر دیا ہے۔اس منصوبے کا مقصد ایسے خلائی ڈیٹا سینٹرز بنانا ہے جو مکمل طور پر شمسی توانائی پر کام کریں گے یعنی توانائی زمین سے لے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ ڈیٹا سینٹرز زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے مسلسل سورج کی روشنی سے بجلی حاصل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ایسی خلائی مہمیں عام طور پر 5 سے 7 سال کی منصوبہ بندی اور تجربات کے بعد مکمل ہوتی ہیں مگر اسٹار کلاؤڈ نے یہ سب صرف 21 ماہ اور 2 دن میں کر دکھایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مستقبل میں کروڑوں اربوں ڈالر کی نئی خلائی ڈیٹا سینٹر انڈسٹری کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔