آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر کیبلز کو خطرات، ڈیجیٹل معیشت متاثر ہونے کا خدشہ
Web Desk
29 April 2026
آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے ساتھ ساتھ اب زیرِ سمندر بچھائی گئی فائبر آپٹک کیبلز کی سکیورٹی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تنگ آبی گزرگاہ جنوبی ایشیا کو خلیجی ممالک کے راستے یورپ سے جوڑنے والی کیبلز کا اہم مرکز ہے، جہاں سے دنیا کا 99 فیصد انٹرنیٹ ٹریفک گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے ان کیبلز کو ڈیجیٹل معیشت کا کمزور نکتہ قرار دیے جانے کے بعد خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں انٹرنیٹ سروسز، مالی لین دین اور کلاؤڈ سسٹمز بری طرح مفلوج ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مصنوعی ذہانت (AI) میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا انحصار بھی انہی کیبلز پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشیدگی کی صورت میں ان کیبلز کو پہنچنے والا نقصان پاکستان سمیت پورے خطے میں انٹرنیٹ کی رفتار اور ڈیٹا ٹریفک کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
سپارکو نے پاکستان سپیس بیسڈ آگمینٹیشن سسٹم متعارف کرا دیا
8 November 2026
میٹا نے متنازع تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ واپس لے لیا
8 November 2026
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے کے لیے 6 کمپنیاں رجسٹرڈ
7 November 2026
میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پاکستان اور روس کا آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹنگ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
6 November 2026
امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ
6 November 2026
خلائی دوربین کا 22 سالہ مشن اختتام پذیر، ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ
6 November 2026