LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، ٹرمپ کو آج سینٹکام کمانڈربریفنگ دیں گے  750 ملین ڈالر کے یورو بانڈز موصول، پاکستان کے  زرمبادلہ کے ذخائر20ارب ڈالر سے تجاوزکرگئے، وزارت خزانہ امریکانے حملے کیے توجواب طویل اوردردناک ہوگا، پاسداران انقلاب موٹرسائیکل سواروں، پبلک وگڈزٹرانسپورٹ کےلیے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع فسادی غیرملکیوں کی جگہ خلیج فارس کے پانی کی تہہ کے سوا کچھ نہیں، مجتبیٰ خامنہ ای وزیراعلیٰ پنجاب کا کچہ ایریا کے لیے 23 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی؛ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جماعت سمیت 2 سیاسی پارٹیاں ڈی لسٹ پاک بحریہ کی پہلی ‘ہنگور کلاس’ آبدوز بیڑے میں شامل؛ صدرِ مملکت کی چین میں کمیشننگ تقریب میں شرکت وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کا اجرا کر دیا، اہل افراد میں چیک تقسیم وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ فیصلہ معطل کردیا آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، ٹرمپ کو آج سینٹکام کمانڈربریفنگ دیں گے

Web Desk

30 April 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو  ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پرآج بریفنگ دی جائے گی۔امریکی نیوز ویب سائٹ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاہےکہ سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر صدر کو ان منصوبوں سے آگاہ کریں گے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ یا تو مذاکرات میں تعطل ختم کرنے یا جنگ کے خاتمے سے قبل فیصلہ کن کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف مختصر اور طاقتور حملوں کا منصوبہ تیار کیا ہے جس میں ممکنہ طور پر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ ایران کو جوہری معاملے پر زیادہ لچک کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک اور منصوبہ بھی زیر غور ہے جس میں آبنائے ہرمز کے کچھ حصے پر کنٹرول حاصل کر کے اسے تجارتی جہازرانی کے لیے دوبارہ کھولا جائے گا اور اس میں زمینی افواج کا استعمال بھی شامل ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک آپشن یہ بھی ہے کہ اسپیشل فورسز کے ذریعے ایران کے  افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کی کارروائی کی جائے جس پر ماضی میں بھی غور کیا جا چکا ہے۔