LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، بیرسٹر گوہر سمیت کوئی بھی رہنما نہ مل سکا قیدِ تنہائی کے الزامات سنگین، نظر انداز نہیں کر سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید

ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، ٹرمپ کو آج سینٹکام کمانڈربریفنگ دیں گے

Web Desk

30 April 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو  ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پرآج بریفنگ دی جائے گی۔امریکی نیوز ویب سائٹ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایاہےکہ سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر صدر کو ان منصوبوں سے آگاہ کریں گے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ یا تو مذاکرات میں تعطل ختم کرنے یا جنگ کے خاتمے سے قبل فیصلہ کن کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف مختصر اور طاقتور حملوں کا منصوبہ تیار کیا ہے جس میں ممکنہ طور پر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ ایران کو جوہری معاملے پر زیادہ لچک کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک اور منصوبہ بھی زیر غور ہے جس میں آبنائے ہرمز کے کچھ حصے پر کنٹرول حاصل کر کے اسے تجارتی جہازرانی کے لیے دوبارہ کھولا جائے گا اور اس میں زمینی افواج کا استعمال بھی شامل ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک آپشن یہ بھی ہے کہ اسپیشل فورسز کے ذریعے ایران کے  افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کی کارروائی کی جائے جس پر ماضی میں بھی غور کیا جا چکا ہے۔