LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز اے آئی اگلے سال ‘سُپر ہیومن’ بن کر انسانوں پر حاوی ہو جائے گی: ایلون مسک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ترکیہ کے یوم فتح کے موقع پر پاک ترک دوستی کے نام خصوصی نغمہ جاری مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سہ ملکی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا ایران امریکی حملے کا تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز جواب دے گا: ابراہیم عزیزی ایران کی معاشی تنہائی کیلئے چین پر پابندیوں سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں، سکاٹ بیسنٹ ٹرمپ کی جھیل اونٹاریو کی جگہ جھیل امریکا کا بورڈ لگانے کی ویڈیو وائرل لارک جزیرے پر حملے کے بعد ایران کے امریکی فوجی اڈوں، بحری جہازوں پر جوابی حملے کراچی میں ڈاکوؤں نے 2 دکانوں سے کروڑوں کا سونا اور رقم لوٹ لی نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 788 ہوگئی، 7 لاشیں بھارت پہنچ گئیں برطانوی میری ٹائم کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکر کو پروجیکٹائل نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا، اسرائیل ایران کیخلاف مقاصد میں ناکام، اقتصادی دباؤ، نفسیاتی جنگ کی کوششیں دفاعی ٹیکنالوجی کے فنڈز کیلئے امریکی سرمایہ کاری کی کوشش کررہے ہیں: سابق یوکرینی وزیر دفاع لارک جزیرے پر امریکی حملے میں متعدد ایرانی فوجی و شہری شہید یا زخمی ہوئے ہیں: پاسداران انقلاب

امریکا اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار، امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ

Web Desk

30 April 2026

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے، جس کے تحت ایران، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی قیادت سے اہم رابطے ہوئے ہیں۔ ترکیہ کے صدر اور قطری قیادت نے پاکستان کے مصالحانہ کردار کو سراہا ہے، جبکہ وزیراعظم نے ایرانی وفد کے دورہ اسلام آباد کا خیرمقدم کیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب اسٹریٹجک دفاعی شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات مثالی ہیں۔ مزید برآں، پاکستان نے صومالیہ کی خود مختاری کی حمایت کرتے ہوئے صومالی لینڈ کو صومالیہ کا حصہ قرار دیا ہے۔ ترجمان نے افغانستان سے ہونے والی سرحد پار فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔