LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماہ نور صفدر کی نکاح کی تقریب، شہباز شریف سمیت اہم شخصیات جاتی امرا پہنچ گئیں پرائیویٹ حج سکیم: 7600 عازمین کی بکنگ مکمل ہو چکی: ترجمان مذہبی امور نئے صوبوں کے قیام کیلئے پورے ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے: فاروق ستار سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 20 ستمبر کو ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے: حافظ نعیم الرحمان نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس تھائی لینڈ میں پاکستان کے 61ویں یوم دفاع و شہداء کی پروقار تقریب امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی

مینڈک میں کینسر کو ختم کرنے والا حیرت انگیز علاج دریافت

Web Desk

28 December 2025

جاپان ایڈوانسڈ انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ٹری مینڈک کے آنتوں میں ایک ایسا منفرد بیکٹیریا دریافت کیا ہے جو بغیر کسی مضر اثر کے کینسر کے خاتمے میں مؤثر ثابت ہوا ہے۔

تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے مینڈک اور دیگر چھوٹے جانداروں سے حاصل کیے گئے 45 اقسام کے بیکٹیریا پر تجربات کیے، جن میں سے 9 بیکٹیریا نے کینسر کے خلاف مثبت نتائج دکھائے۔ ان میں ٹری مینڈک میں پایا جانے والا بیکٹیریا ایوِنگیلا امریکیانا سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔

رپورٹ کے مطابق صرف ایک خوراک کے استعمال سے یہ بیکٹیریا تجرباتی چوہوں میں ٹیومر کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب رہا۔ حیران کن طور پر 30 دن بعد دوبارہ کینسر کے خلیات داخل کیے جانے کے باوجود بھی کوئی نیا ٹیومر پیدا نہیں ہوا۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ بیکٹیریا دو طریقوں سے کام کرتا ہے۔ ایک جانب یہ براہِ راست ٹیومر کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ دوسری جانب جسم کے مدافعتی نظام کو متحرک کرتا ہے تاکہ جسم خود کینسر کے خلاف مؤثر انداز میں لڑ سکے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ بیکٹیریا کم آکسیجن والے ماحول میں بھی زندہ رہ سکتا ہے، جو کینسر کے ٹومرز میں عام ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ابتدائی تجربات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ یہ بیکٹیریا محفوظ ہے کیونکہ یہ جلد خون سے خارج ہو جاتا ہے اور صحت مند خلیات کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی امید ثابت ہو سکتی ہے، تاہم انسانوں پر اس کے استعمال سے قبل مزید تحقیق اور کلینیکل آزمائشیں ضروری ہیں۔ محققین اب یہ جانچنے میں مصروف ہیں کہ آیا یہ بیکٹیریا دیگر اقسام کے کینسر کے علاج میں بھی مؤثر ہو سکتا ہے یا نہیں، اور اسے موجودہ علاج کے طریقوں کے ساتھ کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔