LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر انتخابات: ملتان میں دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل، کانٹے دار مقابلے کا امکان شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 5 دہشت گرد ہلاک، میجر شہید ہر گھرغریب، معیشت بدترین بحران کا شکار ہے: شاہد خاقان عباسی حکومت پر برس پڑے عرفان صادق تارڑ پراسکیوٹر جنرل پنجاب تعینات افواجِ پاکستان اور پیپلز لبریشن آرمی حقیقی شراکت دار، امن و استحکام کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل امن منصوبے پر مثبت پیش رفت: 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے: دفتر خارجہ سندھ میں نئے صوبے کی ضرورت نہیں، یہ پنجاب کی عوام کا مطالبہ ہے، سعید غنی خطے کے ممالک امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کریں: ایرانی فوج پنجاب میں ماتحت عدلیہ کے ججز پر مونیٹائزیشن پالیسی نافذ آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: 21 نشستوں پر پولنگ کل، 12 لاکھ سے زائد ووٹرز شامل پیٹرول پر لیوی بھتہ ٹیکس، فارم 45 کی بنیاد پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے,حافظ نعیم الرحمٰن امریکا اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ میں ایران کامیاب رہا: باقر قالیباف وزیراعلیٰ پنجاب کی امریکی اعلیٰ سطحی کاروباری وفد کو سرمایہ کاری کی دعوت کشمیر کی حکومت و مستقبل کے فیصلے کشمیری عوام خود کریں: بلاول بھٹو زرداری سورینج کان حادثہ: 45 گھنٹے بعد ریسکیو آپریشن مکمل، 34 لاشیں نکال لی گئیں

مینڈک میں کینسر کو ختم کرنے والا حیرت انگیز علاج دریافت

Web Desk

28 December 2025

جاپان ایڈوانسڈ انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ٹری مینڈک کے آنتوں میں ایک ایسا منفرد بیکٹیریا دریافت کیا ہے جو بغیر کسی مضر اثر کے کینسر کے خاتمے میں مؤثر ثابت ہوا ہے۔

تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے مینڈک اور دیگر چھوٹے جانداروں سے حاصل کیے گئے 45 اقسام کے بیکٹیریا پر تجربات کیے، جن میں سے 9 بیکٹیریا نے کینسر کے خلاف مثبت نتائج دکھائے۔ ان میں ٹری مینڈک میں پایا جانے والا بیکٹیریا ایوِنگیلا امریکیانا سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔

رپورٹ کے مطابق صرف ایک خوراک کے استعمال سے یہ بیکٹیریا تجرباتی چوہوں میں ٹیومر کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب رہا۔ حیران کن طور پر 30 دن بعد دوبارہ کینسر کے خلیات داخل کیے جانے کے باوجود بھی کوئی نیا ٹیومر پیدا نہیں ہوا۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ بیکٹیریا دو طریقوں سے کام کرتا ہے۔ ایک جانب یہ براہِ راست ٹیومر کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ دوسری جانب جسم کے مدافعتی نظام کو متحرک کرتا ہے تاکہ جسم خود کینسر کے خلاف مؤثر انداز میں لڑ سکے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ بیکٹیریا کم آکسیجن والے ماحول میں بھی زندہ رہ سکتا ہے، جو کینسر کے ٹومرز میں عام ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ابتدائی تجربات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ یہ بیکٹیریا محفوظ ہے کیونکہ یہ جلد خون سے خارج ہو جاتا ہے اور صحت مند خلیات کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی امید ثابت ہو سکتی ہے، تاہم انسانوں پر اس کے استعمال سے قبل مزید تحقیق اور کلینیکل آزمائشیں ضروری ہیں۔ محققین اب یہ جانچنے میں مصروف ہیں کہ آیا یہ بیکٹیریا دیگر اقسام کے کینسر کے علاج میں بھی مؤثر ہو سکتا ہے یا نہیں، اور اسے موجودہ علاج کے طریقوں کے ساتھ کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔