LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار امریکا اور ایران کی کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران پر فضائی حملے شروع کر دیے امریکا کا ایران کی بحری ناکہ بندی میں مزید 20 تجارتی جہاز واپس موڑنے کا دعویٰ امریکن ریڈ کراس کا خون کے ذخائر کی دوسری قومی سطح کی قلت کا اعلان کیئیکو فوجیموری نے پیرو کی صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا امریکی فوج کا لاک ہیڈ مارٹن کیساتھ انٹر سیپٹر میزائلز کی تیاری کیلئے 58.6 ارب ڈالر کا معاہدہ چین نے امریکا کی جانب سے تحقیقاتی اداروں پر عائد پابندیوں کی مخالفت کر دی سائبر فراڈ کے مراکز میں کام کیلئے لوگوں کو ورغلانے کے رجحان میں اضافہ ہوا: اقوام متحدہ سعودی وزیر دفاع کی امریکی نائب صدر سے ملاقات، ایران سے کشیدگی میں کمی کا اعادہ آئی ٹی خرابی: امریکی ایئرلائنز کی پروازیں عارضی طور پر معطل امریکی سینیٹ نے جے کلیٹن کو قومی انٹیلی جنس کا نیا سربراہ مقرر کرنے کی منظوری دیدی سعودی ولی عہد کا سپین کے وزیراعظم سے رابطہ، حوثی حملوں کی شدید مذمت

ایم ڈی کیٹ کیخلاف طلبہ کی درخواستوں پر پی ایم ڈی سی سے جواب طلب

Web Desk

12 December 2025

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بنچ نے ایم ڈی کیٹ کیخلاف طلبہ کی درخواستوں پر پی ایم ڈی سی اور دیگر سے 22 دسمبر کو جواب طلب کرلیا۔

جسٹس عدنان اقبال چودھری کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بنچ کے روبرو ایم ڈی کیٹ کیخلاف طلبہ کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔درخواستگزار کے وکیل نواز ڈاہری ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ 2024 کے طلبہ کو بغیرکسی فارمولے کے میرٹ پر پہلا نمبر دے دیا گیا ہے، ان طلبہ کو 2025 کے طلبہ کے ساتھ سیٹ الاٹ کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ 400 سے زائد طالبعلموں کو میرٹ سے ہٹ کر سیٹ الاٹ کی گئیں ہیں، میرٹ کی خلاف ورزی سے درخواستگزار طلبہ کا حق مارا جارہا ہے، پی ایم ڈی سی کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔عدالت نے پی ایم ڈی سی اور دیگر سے 22 دسمبر کو جواب طلب کرلیا، بسمہ سمیت ایم ڈی کیٹ کے 25 طلبہ نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے، درخواستوں میں پی ایم ڈی سی، وفاقی وزرات قومی صحت، یونیورسٹیز اینڈ بورز اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔