LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا موریطانیہ کے وزیر خارجہ سے رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پاکستان کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی بیان پر ناظم الامور کو ڈی مارش اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی وزیراعظم سے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی الوداعی ملاقات بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ

ایم ڈی کیٹ کیخلاف طلبہ کی درخواستوں پر پی ایم ڈی سی سے جواب طلب

Web Desk

12 December 2025

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بنچ نے ایم ڈی کیٹ کیخلاف طلبہ کی درخواستوں پر پی ایم ڈی سی اور دیگر سے 22 دسمبر کو جواب طلب کرلیا۔

جسٹس عدنان اقبال چودھری کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بنچ کے روبرو ایم ڈی کیٹ کیخلاف طلبہ کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔درخواستگزار کے وکیل نواز ڈاہری ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ 2024 کے طلبہ کو بغیرکسی فارمولے کے میرٹ پر پہلا نمبر دے دیا گیا ہے، ان طلبہ کو 2025 کے طلبہ کے ساتھ سیٹ الاٹ کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ 400 سے زائد طالبعلموں کو میرٹ سے ہٹ کر سیٹ الاٹ کی گئیں ہیں، میرٹ کی خلاف ورزی سے درخواستگزار طلبہ کا حق مارا جارہا ہے، پی ایم ڈی سی کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔عدالت نے پی ایم ڈی سی اور دیگر سے 22 دسمبر کو جواب طلب کرلیا، بسمہ سمیت ایم ڈی کیٹ کے 25 طلبہ نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے، درخواستوں میں پی ایم ڈی سی، وفاقی وزرات قومی صحت، یونیورسٹیز اینڈ بورز اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔