LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور پاکستان کےدرمیان دوطرفہ تجارت 8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی: نیٹلی بیکر سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے: ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے وسیع مواقع ہیں: ہسپانوی سفیر وزیراعلیٰ مریم نواز سے اٹک کے ارکان اسمبلی کی ملاقات، ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال خاران میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد جہنم واصل حکومت نے روکا تو تحريک گھیراؤ میں بدل جائے گی، حافظ نعیم الرحمان امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی

پودوں پر مشتمل غذا آنتوں کے بیکٹیریا کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟ اہم انکشاف

Web Desk

16 August 2026

پودوں پر مشتمل غذا انسانی صحت بالخصوص نظامِ ہاضمہ، مدافعتی نظام، میٹابولزم اور قلبی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ لڈوِگ پرنسٹن سے وابستہ سائنس دانوں جینا ابو سلیم اور ڈائریکٹر جوشوا رابینووٹز کی قیادت میں کی گئی دو جدید تحقیقات میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ نباتاتی غذا میں موجود غذائی فائبر اور فائٹو کیمیکلز (رنگ دار کیمیائی مرکبات) آنتوں میں موجود مائیکرو بایوم کی ساخت اور ان سے پیدا ہونے والے مفید میٹابولائٹس کو بہتر بناتے ہیں۔ پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (PNAS) اور ‘نیچر میٹابولزم’ میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کے مطابق نباتاتی فائبر اور پروٹینز آنتوں کے جراثیم کے میٹابولزم کو اس طرح تبدیل کرتے ہیں جس سے نقصان دہ مرکبات کی مقدار کم اور مفید کیمیائی اجزا کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اس تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف بھی ہوا کہ جن اہم میٹابولائٹس کو صرف آنتوں کے بیکٹیریا کی پیداوار سمجھا جاتا تھا، وہ دراصل ممالیہ جانوروں کے جسم میں بھی خود بخود نمایاں مقدار میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دریافتیں مستقبل میں مخصوص غذائی حکمت عملیوں اور آنتوں کی صحت پر مبنی مؤثر علاج وضع کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوں گی۔