LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی نئی او پی ٹی فیس کی تجویز، کالجز کو بھاری جرمانے یا فیس ادا کرنا ہوگی ڈیزل سستا، پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ کردیا گیا عمران سے ملاقات کے بغیر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے: محمود اچکزئی مولانا کو عمرے کی مبارکباد دینے آیا، ملک کی بہتری کیلئے دعا گو ہوں: سپیکر قومی اسمبلی وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ملاقات، علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ایرانی فوج کا طویل جنگ کیلئے مکمل تیاری اور پیشگی کارروائیوں کا اعلان ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی کی تصدیق اسلام آباد پر لشکر کشی کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، تمام وسائل بروئے کار لائیں گے: خواجہ آصف 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کو شکست دی: حافظ نعیم الرحمان بیلاروسی وفد کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات محسن نقوی، طلال چوہدری سے برطانوی وزیر مملکت خارجہ امور سٹیفن ڈوٹی کی ملاقات صومالی بحری قزاقوں سے بازیاب تین پاکستانی کراچی پہنچ گئے ایران افزودگی کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا، ایرانی عہدیدار عالمی مسائل کے حل کیلئے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کا کردار مزید اہم ہو گیا: اسحاق ڈار سینیٹر فاروق ایچ نائیک جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے مستعفی

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی

Web Desk

19 August 2026

اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے پاس موجود 1 لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن چینی کو بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقدہ ای سی سی کے اجلاس میں چینی کی برآمد اور زخائر کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران طے پایا کہ ٹی سی پی کے پاس موجود چینی کے زائد اسٹاک کو برآمد کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر شفاف ٹینڈر جاری کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ای سی سی نے واضح کیا کہ چینی کی عالمی برآمد کے لیے جاری کیا جانے والا بین الاقوامی ٹینڈر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے وضع کردہ قوانین اور ضوابط کے سخت مطابق عمل میں لایا جائے گا تاکہ عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔