LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا موریطانیہ کے وزیر خارجہ سے رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پاکستان کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی بیان پر ناظم الامور کو ڈی مارش اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی وزیراعظم سے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی الوداعی ملاقات بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت ایران کا متحدہ عرب امارات کا ٹینکر قبضے میں لینے کا دعویٰ غیر قانونی کال سینٹر چلانے پر 275 غیر ملکی گرفتار، 76 کو واپس بھیجنے کا فیصلہ بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور، ملکی سیاست پر گفتگو عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق علاج کی سہولتیں ملتی رہیں گی:عطا تارڑ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر ریٹیلر ایپ کا اجراء، چھوٹے دکانداروں کیلئے ٹیکس سکیم آسان بنا دی: وزیر خزانہ محسن نقوی کا پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا دورہ، شہریوں کی شکایات پر برہم اسحاق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان SCO اجلاس کی میزبانی کرے گا، اسحاق ڈار کا تیاریوں پر اظہارِ اطمینان جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ

پاکستان کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق امریکی بیان پر ناظم الامور کو ڈی مارش

Web Desk

19 August 2026

اسلام آباد: پاکستان نے بھارت میں تعینات امریکی سفیر کے دورہِ مقبوضہ جموں و کشمیر اور خطے کی متنازع حیثیت سے متعلق دیے گئے بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسلام آباد میں موجود امریکی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے باضابطہ ڈی مارش (Demarche) کر دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، امریکی ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ بلا کر امریکی سفیر کے بیان پر پاکستان کے شدید تحفظات، تشویش اور احتجاج سے آگاہ کیا گیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت میں امریکی سفیر کا مقبوضہ کشمیر کا دورہ اور اس حوالے سے دیا گیا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے، جو جموں و کشمیر کے تنازع پر خود امریکہ کے دیرینہ اور اعلانیہ مؤقف کی نفی کرتا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر کا موقف بین الاقوامی قوانین کی بالادستی، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے احترام کے حوالے سے امریکی عزم کے یکسر منافی ہے۔ پاکستان نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے تمام سفارتی اور عوامی بیانات جموں و کشمیر کی مسلمہ متنازع حیثیت کے مطابق ہوں۔

ترجمان نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان نے “معرکہِ حق” کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاک-بھارت تنازعِ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا تھا، تاہم اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے خطے میں امن کی کوششوں اور سفارتی توازن کو نقصان پہنچتا ہے۔