LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کے حملے، متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کی سعودیہ کیلئے پروازیں معطل یورپی یونین کا بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت کیلئے بحری مشن مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ امریکا کا وینزویلا کے معزول صدر نکولس اور انکی اہلیہ پر امریکی شہریوں پر تشدد کی سازش کا الزام فرانس میں تعلیمی نظام کی ناقص صورتحال کیخلاف طلبہ کا ملک گیر احتجاج تیسرے ہفتے داخل ادب کا نوبیل انعام شاعرہ اور مضمون نگار این کارسن کے نام یوکرین کے روس میں 20 سے زائد علاقوں پر ڈرون حملے، 399 ڈرون تباہ روس کا مغربی یورپ کے ساتھ مسلح تنازع شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، ماریہ زخارووا یورپی یونین کا روس کیخلاف 22واں پابندی پیکیج، 1500 سے زائد افراد اور کمپنیاں نشانے پر امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، 17 بحری جہاز بھی فہرست میں شامل یوکرین میں مسافر بسوں پر روسی گلائیڈ بم حملے، 30 افراد ہلاک آبنائے ہرمز میں غیر علاقائی طاقتوں کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے، پاسداران انقلاب ایران میں مہنگائی اور افراطِ زر سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، وزیر خزانہ ایران یورینیم افزودگی کا عمل ترک نہیں کرے گا، سربراہ ایرانی جوہری توانائی تنظیم عرب لیگ اور اقوام متحدہ کا سعودیہ میں حوثی حملے فوری روکنے کا مطالبہ ریاض ایئرپورٹ پر حوثی میزائل حملہ، سعودی طیارے میں آگ بھڑک اٹھی

بلاول بھٹو کا پارلیمان کو فعال بنانے پر زور، اپوزیشن کو کمیٹیوں میں واپسی کی دعوت

Web Desk

19 August 2026

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمان کو فعال اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمانی نظام کو عزت دی ہے اور چاہتی ہے کہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پارلیمنٹ اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ اگر واقعی پارلیمان کو بااختیار اور محترم بنانا ہے تو اس کی تمام قائمہ کمیٹیوں کو فوری طور پر فعال کرنا ہوگا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ بائیکاٹ ختم کر کے قائمہ کمیٹیوں کا حصہ بنیں تاکہ ملک میں جمہوری اور قانونی اصلاحات کا عمل آگے بڑھایا جا سکے، اور امید ظاہر کی کہ اپوزیشن اپنے فیصلے پر مثبتیت کے ساتھ نظرِ ثانی کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ انتخابی اصلاحات (Electoral Reforms) میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادی اور وزرا بھی الیکشن پروسیس پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کی یہ مشترکہ قومی ذمہ داری ہے کہ الیکشن سسٹم پر اٹھنے والے تمام اعتراضات کو دور کریں، جس کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں سے بہتر کوئی فورم نہیں ہو سکتا۔

صوبوں کی تشکیل اور انتظامی تقسیم پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے واضح مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خطے پر زبردستی کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ جنوبی پنجاب کے صوبے سے متعلق پہلے سے سیاسی اتفاقِ رائے موجود ہے، تاہم سندھ میں نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا موقف روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ جہاں عوامی اور سیاسی اتفاقِ رائے نہ ہو، وہاں نئے صوبے بنانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔