LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات، حکومتی وزراء کی جانب سے کردار کشی کی شدید مذمت یوکرین میں ریلوے اسٹیشن پر روسی ڈرون حملہ، 13 افراد ہلاک، 10 زخمی نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور آئی ٹی کے فروغ پر توجہ دے رہے ہیں، ملتان چیمبر آف کامرس میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا خطاب پوسٹ گریجویٹ انٹری ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان، 2 ہزار 131 امیدوار کامیاب سپریم کورٹ بار کے انتخابات، احسن بھون گروپ کے سید امجد علی شاہ صدر منتخب ریاست کے بارے میں دیئے گئے بیانات قابل قبول نہیں: رانا ثنا اللہ پاک اقوام متحدہ کانفرنس: سیلاب اور موسمیاتی خطرات کی خلائی نگرانی پر غور گورنر خیبرپختونخوا کا قبضہ مافیا اور تجاوزات کیخلاف دو ٹوک اعلان حنا جاوید قتل کیس، آصفہ بھٹو کی اہلِ خانہ کو مکمل حمایت کی یقین دہانی میاں چنوں میں مال گاڑی کی 2 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، جانی نقصان نہیں ہوا مقامی منڈیوں میں چینی کی قیمتوں کا استحکام اولین ترجیح ہے: اسحاق ڈار ریاستی اداروں پر الزامات کا کیس، سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار سینیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کے اعداد و شمار پیش: جولائی تا ستمبر 2026 میں پٹرول کی یومیہ فروخت 21 ہزار میٹرک ٹن سے متجاوز سینیٹ میں محسن نقوی، کامران مرتضیٰ اور عابد شیر علی کے درمیان تلخ کلامی سیاسی اختلاف اپنی جگہ، ریاست مخالف باتیں کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتیں: محسن نقوی

بلڈ پریشر کی پرانی دوا بچوں کی خطرناک دماغی بیماری کی رفتار سست کر سکتی ہے

Web Desk

18 August 2026

نیدرلینڈز کے ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میڈیکل سینٹرز کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بلڈ پریشر کے لیے استعمال ہونے والی پرانی دوا “گوانابینز” (Guanabenz) بچوں کی نایاب اور جان لیوا جینیاتی بیماری ‘وینشنگ وائٹ میٹر’ (VWM) کی پیش رفت کو سست کر سکتی ہے۔ یہ بیماری دماغ کے سفید مادے کو نقصان پہنچا کر بچوں کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو بتدریج ختم کر دیتی ہے۔ تحقیق کے دوران تقریباً تین سال تک اس دوا کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور نتائج کا موازنہ دوا نہ لینے والے 66 بچوں کے گروپ سے کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ گوانابینز استعمال کرنے والے بچوں میں وہیل چیئر کی ضرورت نسبتاً دیر سے پیش آئی اور اس گروپ میں کسی بچے کی موت واقع نہیں ہوئی، جبکہ دوسری جانب موازنے کے گروپ میں 5 بچے انتقال کر گئے۔ ماہرین نے اسے اس مہلک بیماری کے علاج کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔