LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسے مردِ آہن بنا کر پیش کیا گیا، آج اسی کی جماعت ہسپتال منتقلی کی فریاد کر رہی: وزیر دفاع آن لائن فراڈ کیس: 284 غیر ملکیوں کی حراست کیلئے نجی پلازہ دوبارہ سب جیل قرار حکومت اور اپوزیشن میں معقول دوریاں ہونی چاہئیں، مخالفت برائے مخالفت نہیں: مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم

بلڈ پریشر کی پرانی دوا بچوں کی خطرناک دماغی بیماری کی رفتار سست کر سکتی ہے

Web Desk

18 August 2026

نیدرلینڈز کے ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میڈیکل سینٹرز کی قیادت میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بلڈ پریشر کے لیے استعمال ہونے والی پرانی دوا “گوانابینز” (Guanabenz) بچوں کی نایاب اور جان لیوا جینیاتی بیماری ‘وینشنگ وائٹ میٹر’ (VWM) کی پیش رفت کو سست کر سکتی ہے۔ یہ بیماری دماغ کے سفید مادے کو نقصان پہنچا کر بچوں کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کو بتدریج ختم کر دیتی ہے۔ تحقیق کے دوران تقریباً تین سال تک اس دوا کے اثرات کا جائزہ لیا گیا اور نتائج کا موازنہ دوا نہ لینے والے 66 بچوں کے گروپ سے کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ گوانابینز استعمال کرنے والے بچوں میں وہیل چیئر کی ضرورت نسبتاً دیر سے پیش آئی اور اس گروپ میں کسی بچے کی موت واقع نہیں ہوئی، جبکہ دوسری جانب موازنے کے گروپ میں 5 بچے انتقال کر گئے۔ ماہرین نے اسے اس مہلک بیماری کے علاج کی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔