LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اورنج ٹرین، سپیڈو اور میٹرو بسوں میں ٹوکن اور کارڈ سسٹم ختم میرپور والو! سچ، انصاف اور امن کے لیے 27 جولائی کو تیر پر مہر لگائیں: بلاول بھٹو زرداری امریکا نے حملے روکے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں: ایرانی فوج میرپور آزاد کشمیر ڈویژن کے تین اضلاع کے 13 حلقوں میں انتخابات کل ہونگے آبنائے ہرمز پر عمان کے ساتھ اہم پیشرفت، تکنیکی و سیاسی مشاورت جاری ہے: ایران بنگلادیشی صدر محمد شہاب الدین اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے جیفری ایپسٹین کے نام ٹرمپ کا فحش خط منظرعام پر لانیوالے صحافیوں کیلئے ایوارڈ کا اعلان ٹرمپ کا بڑا اعلان، تیسری بار صدر بننے کی خواہش ظاہر کر دی 18 ارب ڈالر کا تیل فروخت کر چکے، ایران کا دعویٰ یوکرین نے بحیرہ کیسپیئن میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ کر دیا روس کے جوہری دفاع نظام کا بحری حصہ مزید طاقتور بن رہا ہے: پوتن سعودی امریکا جوہری معاہدے میں اسرائیل سے تعلقات کی شرط کی تردید دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ملک عمران خلیل پی ٹی آئی برطانیہ اور آصف بٹ نارتھ ویسٹ کے صدر منتخب وزیراعظم کا جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر فورسز کو خراجِ تحسین

سائنسدانوں کی بلیک ہول کے ‘پوائنٹ آف نو ریٹرن’ تک رسائی کا دعویٰ

Web Desk

28 June 2026

سائنسدانوں نے فلکیات کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے پہلی بار بلیک ہول کے ‘ایونٹ ہورائزن’ (Event Horizon) یعنی اس آخری سرحد کے نشانات دریافت کیے ہیں جہاں سے روشنی سمیت کوئی بھی چیز واپس نہیں آسکتی۔ بین الاقوامی تحقیقی جریدے ‘نیچر’ (Nature) میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، یہ تاریخی کامیابی دو بلیک ہولز کے انتہائی شدید اور ہولناک تصادم سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں (Gravitational Waves) کے جدید ترین تجزیے سے ممکن ہوئی۔

ایونٹ ہورائزن کو بلیک ہول کا ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس حد کو عبور کرنے کے بعد کائنات کا کوئی بھی مادہ یا روشنی بلیک ہول کی شدید کششِ ثقل سے فرار حاصل نہیں کر سکتی۔ اسی وجہ سے اس پوشیدہ خطے کا براہِ راست مطالعہ ہمیشہ سے سائنسدانوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق، جب دو بلیک ہول آپس میں ضم ہو کر ایک واحد بلیک ہول بنتے ہیں، تو اس عمل کے دوران کائنات میں لرزہ خیز ثقلی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ سائنسدانوں نے اس بار تصادم کے آخری لمحات میں پیدا ہونے والی ’ڈائریکٹ ویوز‘ (براہِ راست لہروں) کو الگ کر کے ایونٹ ہورائزن کے انتہائی قریبی علاقے سے متعلق اہم معلومات حاصل کیں۔

کینیڈا کے ‘پیری میٹر انسٹی ٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس’ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سِژینگ ما کا کہنا ہے کہ بلیک ہول کا ایونٹ ہورائزن اب تک محض سائنس فکشن کا حصہ محسوس ہوتا تھا، لیکن اب ثقلی لہروں نے اس کے آس پاس کے پُرِاسرار علاقے کا سائنسی مطالعہ ممکن بنا دیا ہے۔ اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے بلیک ہول کی تیز رفتار گردش کے باعث وقت اور خلا کے مڑنے کے عمل، جسے فزکس کی زبان میں ’فریم ڈریگنگ‘ (Frame Dragging) کہا جاتا ہے، کے شواہد بھی حاصل کیے۔ یہ نتائج البرٹ آئن اسٹائن کے ‘عمومی نظریۂ اضافیت’ (Theory of General Relativity) کی ایک بار پھر مکمل تائید کرتے ہیں۔ دوسری جانب، اس بڑی دریافت پر عالمی سائنسی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں بعض ماہرین نے ان نتائج کو کائناتی اسرار سلجھانے کی سمت میں ایک عظیم سنگِ میل قرار دیا ہے اور مزید آزادانہ تصدیق پر زور دیا ہے، وہیں چند سائنسدانوں نے اب بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ آیا ریکارڈ کی گئی لہروں سے واقعی ایونٹ ہورائزن کی خصوصیات کا سو فیصد درست اور براہِ راست اندازہ لگایا جا سکتا ہے یا نہیں۔