LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

100 سال قبل انگریز سرکار کو قرضہ دینے والے خاندان کا برطانیہ پر مقدمہ

Web Desk

5 March 2026

یہ واقعہ واقعی دلچسپ تاریخی حوالہ ہے۔ 1917 میں سیٹھ جمعہ لال رتھیا نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانوی حکومت کو 35 ہزار روپے قرض دیے۔ اس وقت یہ رقم نہایت بڑی تھی، اور اس سے کئی جاگیروں یا سرکاری منصوبے متاثر ہو سکتے تھے۔

رتھیا خاندان کے مطابق یہ رقم آج تک واپس نہیں ہوئی۔ پوتے وویک رتھیا نے بتایا کہ حال ہی میں خاندان نے اپنے پرانے کاغذات، وصیت نامے اور خطوط میں وہ ثبوت دریافت کیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قرض ایک “وار لون” (War Loan) کے طور پر لیا گیا تاکہ بھوپال ریاست میں انتظامی امور بہتر ہوں۔

وویک رتھیا کے مطابق:

’’میرے دادا نے 1917 میں برطانوی حکومت کو 35 ہزار روپے قرض دیے تھے۔ آج ایک صدی گزرنے کے باوجود وہ رقم واپس نہیں ملی۔‘‘

خاندان اب برطانوی حکومت کو قانونی نوٹس بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ یہ تاریخی قرض واپس لیا جا سکے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے دعوے پیچیدہ ہوتے ہیں، مگر مستند دستاویزات کے ساتھ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ غیر معمولی قانونی بحث پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً اگر معاملہ نوآبادیاتی دور کے معاہدے سے جڑا ہو۔

تاریخی پس منظر اور خاندان کی موجودہ حیثیت

سیٹھ جمعہ لال کا انتقال 1937 میں ہوا، مگر قرض کا معاملہ بعد میں پسِ پشت چلا گیا۔رتھیا خاندان آزاد ہند سے پہلے سہور اور بھوپال کے معزز اور امیر خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔آج بھی ان کے پاس بھوپال، اندور اور سہور میں جائدادیں ہیں، اور وہ کھیتی باڑی، ہوٹلنگ اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں شامل ہیں۔خاندان کا دعویٰ ہے کہ اگر 35 ہزار روپے کو آج کے حساب سے سونے یا مالی قدر میں تبدیل کیا جائے تو یہ کروڑوں روپے کے برابر بنتی ہے۔یہ واقعہ نہ صرف تاریخی اور مالی اہمیت رکھتا ہے بلکہ نوآبادیاتی دور کے قرضوں اور ان کے آج تک اثرات کو بھی اجاگر کرتا ہے