LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز 27 پی ٹی آئی کی پولیس چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں درخواست دائر لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا

9 سال، 139 ناکام کوششیں، نوجوان نے بالآخر ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کر لیا

Web Desk

26 March 2026

لینڈ کے شہر تارنو سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ثابت قدمی کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ اس مقامی شخص نے مسلسل 9 سال کی محنت اور 139 کوششوں کے بعد بالآخر اپنا ڈرائیونگ تھیوری ٹیسٹ پاس کر لیا ہے۔ یہ نوجوان 2017 سے اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، جہاں عام طور پر امیدوار 1 سے 3 کوششوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

مالوپولسکا روڈ ٹریفک سینٹر کے مطابق، اس امیدوار نے ان برسوں کے دوران امتحانی فیسوں کی مد میں تقریباً 1800 یورو (2100 ڈالر) خرچ کیے۔ سینٹر کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اتنی زیادہ ناکامیوں کے باوجود نوجوان نے ہمت نہیں ہاری، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا اس کے لیے کتنا اہم ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ ابتدائی ناکامیوں کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ امیدوار تیاری کے لیے صرف ‘ڈیمو ورژن’ استعمال کر رہا تھا جس میں تمام ممکنہ سوالات شامل نہیں تھے۔ مکمل تربیتی پروگرام کے استعمال کے بعد اس کی کارکردگی میں بہتری آئی اور وہ کامیاب ہوا۔ اب اس شخص کو عملی ڈرائیونگ ٹیسٹ (Practical Test) کا مرحلہ طے کرنا ہے، تاہم اگر وہ اس میں ناکام رہا تو اسے دوبارہ تھیوری ٹیسٹ دینا ہوگا۔ واضح رہے کہ پولینڈ میں طویل ترین جدوجہد کا ریکارڈ ایک ایسے شخص کے پاس ہے جس نے 163 کوششوں اور 17 سال بعد یہ ٹیسٹ پاس کیا تھا۔