موبائل فون کے بغیر گھبراہٹ؟ یو اے ای کے ڈاکٹرز نے نوموفوبیا کے بڑھتے رجحان پر خبردار کر دیا
Web Desk
7 January 2026
طبی ماہرین موبائل فون کے بغیر رہنے کے غیر منطقی خوف یا شدید اضطراب کو ’نوموفوبیا‘ قرار دیتے ہیں۔ انٹرنیشنل جرنل آف ریسرچ اسٹڈیز اِن ایجوکیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں 94 فیصد موبائل صارفین کسی نہ کسی حد تک اس کیفیت کا شکار ہیں۔
اگرچہ تحقیق امریکا تک محدود ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص یو اے ای میں ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ یہی علامات یہاں بھی تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق نوموفوبیا اکثر خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے اور متاثرہ افراد خود اس مسئلے کو پہچان نہیں پاتے۔
این ایم سی رائل اسپتال ابوظہبی کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عمر بن عبدالعزیز کے مطابق فون ہاتھ میں نہ ہونے پر نیند کی خرابی، چڑچڑاپن، بے چینی، توجہ میں کمی اور ذہنی دباؤ عام علامات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کلینک میں شاذ و نادر ہی مریض اس نام سے شکایت لے کر آتا ہے، مگر اس کے اثرات روزمرہ کارکردگی پر واضح ہوتے ہیں۔
یو اے ای میں طلبا اور نوجوانوں پر کی گئی مختلف تحقیقات بھی بتاتی ہیں کہ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال خراب نیند اور ذہنی دباؤ سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ فون کے استعمال سے زیادہ توازن اور خود پر قابو کھونے کا ہے۔
میڈکئیر کامالی کلینک دبئی کی کلینیکل سائیکولوجسٹ سری ودھیا سرینواس کا کہنا ہے کہ نوموفوبیا اب تھراپی رومز میں زیادہ نظر آ رہا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، جہاں فون سے دوری پر گھبراہٹ، بے سکونی اور توجہ میں کمی عام ہو چکی ہے۔
دوسری جانب انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شاجو جارج کے مطابق اگرچہ نوموفوبیا کو باضابطہ ذہنی بیماری کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم کلینکس میں اس کی اسکریننگ بڑھ رہی ہے۔ فون سے محرومی پر دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، کپکپی اور سانس کی بے ترتیبی جیسی جسمانی علامات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ حل فون پر مکمل پابندی نہیں بلکہ متوازن استعمال ہے۔ سونے کے وقت فون کو بیڈروم سے باہر رکھنا، غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کرنا اور آہستہ آہستہ فون سے دور رہنے کی عادت اپنانا مؤثر اقدامات قرار دیے گئے ہیں۔ نوجوانوں کے معاملے میں والدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خود متوازن ڈیجیٹل رویہ اختیار کریں اور واضح حدود طے کریں۔
متعلقہ عنوانات
دوا فروخت کرنے کیلئے ڈاکٹر بھی لائسنس کا پابند ہے، وفاقی آئینی عدالت
3 October 2026
پاکستان میں 3 کروڑ 20 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت کی ضرورت : ڈاکٹر مختار برتھ
2 October 2026
لوئر دیر میں پُراسرار بیماری سے 7 افراد جاں بحق، درجنوں بچے زیر علاج
1 October 2026
پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا
1 October 2026
وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز
1 October 2026
لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال
1 October 2026
کراچی میں غیر رجسٹرڈ اور مشتبہ جعلی ادویات کیخلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن
30 September 2026
پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کا آغاز کل اسلام آباد میں ہوگا، وزارتِ صحت نے تفصیلات جاری کر دیں
30 September 2026