LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ماہ نور صفدر کی نکاح کی تقریب، شہباز شریف سمیت اہم شخصیات جاتی امرا پہنچ گئیں پرائیویٹ حج سکیم: 7600 عازمین کی بکنگ مکمل ہو چکی: ترجمان مذہبی امور نئے صوبوں کے قیام کیلئے پورے ملک میں ریفرنڈم کرایا جائے: فاروق ستار سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 20 ستمبر کو ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے: حافظ نعیم الرحمان نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت خود ریفرنڈم نہیں کرا سکتی:رانا ثناء اللہ مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مرکزی مجلسِ عمومی کا اجلاس 19 اور 20 ستمبر کو پشاور میں طلب کر لیا روس میں بین الاقوامی یوتھ فیسٹیول کا آغاز، 250 پاکستانی نوجوان شریک پاکستان کی سعودی عرب میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملوں کی شدید مذمت آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بحالی: وزیراعظم افتخار گیلانی کا اہم اعلان انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر، تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں: چیف جسٹس تھائی لینڈ میں پاکستان کے 61ویں یوم دفاع و شہداء کی پروقار تقریب امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے: مسعود پزشکیان ناروے کے بادشاہ کی آخری رسومات کے دو دن بعد شہزادی بھی چل بسیں 9/11 انہی لوگوں نے کیا جن کو امریکا نے ہتھیار فراہم کیے تھے: اسماعیل بقائی

موبائل فون کے بغیر گھبراہٹ؟ یو اے ای کے ڈاکٹرز نے نوموفوبیا کے بڑھتے رجحان پر خبردار کر دیا

Web Desk

7 January 2026

طبی ماہرین موبائل فون کے بغیر رہنے کے غیر منطقی خوف یا شدید اضطراب کو ’نوموفوبیا‘ قرار دیتے ہیں۔ انٹرنیشنل جرنل آف ریسرچ اسٹڈیز اِن ایجوکیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں 94 فیصد موبائل صارفین کسی نہ کسی حد تک اس کیفیت کا شکار ہیں۔

اگرچہ تحقیق امریکا تک محدود ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص یو اے ای میں ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ یہی علامات یہاں بھی تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق نوموفوبیا اکثر خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے اور متاثرہ افراد خود اس مسئلے کو پہچان نہیں پاتے۔

این ایم سی رائل اسپتال ابوظہبی کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عمر بن عبدالعزیز کے مطابق فون ہاتھ میں نہ ہونے پر نیند کی خرابی، چڑچڑاپن، بے چینی، توجہ میں کمی اور ذہنی دباؤ عام علامات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کلینک میں شاذ و نادر ہی مریض اس نام سے شکایت لے کر آتا ہے، مگر اس کے اثرات روزمرہ کارکردگی پر واضح ہوتے ہیں۔

یو اے ای میں طلبا اور نوجوانوں پر کی گئی مختلف تحقیقات بھی بتاتی ہیں کہ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال خراب نیند اور ذہنی دباؤ سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ فون کے استعمال سے زیادہ توازن اور خود پر قابو کھونے کا ہے۔

میڈکئیر کامالی کلینک دبئی کی کلینیکل سائیکولوجسٹ سری ودھیا سرینواس کا کہنا ہے کہ نوموفوبیا اب تھراپی رومز میں زیادہ نظر آ رہا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، جہاں فون سے دوری پر گھبراہٹ، بے سکونی اور توجہ میں کمی عام ہو چکی ہے۔

دوسری جانب انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شاجو جارج کے مطابق اگرچہ نوموفوبیا کو باضابطہ ذہنی بیماری کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم کلینکس میں اس کی اسکریننگ بڑھ رہی ہے۔ فون سے محرومی پر دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، کپکپی اور سانس کی بے ترتیبی جیسی جسمانی علامات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ حل فون پر مکمل پابندی نہیں بلکہ متوازن استعمال ہے۔ سونے کے وقت فون کو بیڈروم سے باہر رکھنا، غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کرنا اور آہستہ آہستہ فون سے دور رہنے کی عادت اپنانا مؤثر اقدامات قرار دیے گئے ہیں۔ نوجوانوں کے معاملے میں والدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خود متوازن ڈیجیٹل رویہ اختیار کریں اور واضح حدود طے کریں۔