LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان میں حراست میں لیے گئے اقوام متحدہ کے 2 اہلکار رہا ترکیہ، مصر اور قطر کی غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا روسی جوہری توانائی کارپوریشن کا ایران میں جوہری منصوبے جاری رکھنے کا اعلان صدر مملکت کا پاکستان میں قازقستان کے سفیر یرژان کستافن کی خدمات کا اعتراف امریکا کا ایران کیساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کیخلاف بھی سخت اقدامات کا اعلان بی این پی کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام بنگلادیش کے نئے صدر منتخب پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک تحریک جاری رہے گی، اسلام آباد کیلئے کال دوں گا: حافظ نعیم الرحمان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا بلاول بھٹو سے پیپلز پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو بیرونی سرمایہ کاری لانے کا مشن، صوبائی وزیر چوہدری شافع کینیڈا پہنچ گئے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی، فیصلے کیخلاف درخواست دوبارہ دائر کر رہے ہیں: رانا ثنا نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

موبائل فون کے بغیر گھبراہٹ؟ یو اے ای کے ڈاکٹرز نے نوموفوبیا کے بڑھتے رجحان پر خبردار کر دیا

Web Desk

7 January 2026

طبی ماہرین موبائل فون کے بغیر رہنے کے غیر منطقی خوف یا شدید اضطراب کو ’نوموفوبیا‘ قرار دیتے ہیں۔ انٹرنیشنل جرنل آف ریسرچ اسٹڈیز اِن ایجوکیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں 94 فیصد موبائل صارفین کسی نہ کسی حد تک اس کیفیت کا شکار ہیں۔

اگرچہ تحقیق امریکا تک محدود ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص یو اے ای میں ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ یہی علامات یہاں بھی تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق نوموفوبیا اکثر خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے اور متاثرہ افراد خود اس مسئلے کو پہچان نہیں پاتے۔

این ایم سی رائل اسپتال ابوظہبی کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عمر بن عبدالعزیز کے مطابق فون ہاتھ میں نہ ہونے پر نیند کی خرابی، چڑچڑاپن، بے چینی، توجہ میں کمی اور ذہنی دباؤ عام علامات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کلینک میں شاذ و نادر ہی مریض اس نام سے شکایت لے کر آتا ہے، مگر اس کے اثرات روزمرہ کارکردگی پر واضح ہوتے ہیں۔

یو اے ای میں طلبا اور نوجوانوں پر کی گئی مختلف تحقیقات بھی بتاتی ہیں کہ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال خراب نیند اور ذہنی دباؤ سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ فون کے استعمال سے زیادہ توازن اور خود پر قابو کھونے کا ہے۔

میڈکئیر کامالی کلینک دبئی کی کلینیکل سائیکولوجسٹ سری ودھیا سرینواس کا کہنا ہے کہ نوموفوبیا اب تھراپی رومز میں زیادہ نظر آ رہا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، جہاں فون سے دوری پر گھبراہٹ، بے سکونی اور توجہ میں کمی عام ہو چکی ہے۔

دوسری جانب انٹرنیشنل ماڈرن اسپتال دبئی کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شاجو جارج کے مطابق اگرچہ نوموفوبیا کو باضابطہ ذہنی بیماری کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم کلینکس میں اس کی اسکریننگ بڑھ رہی ہے۔ فون سے محرومی پر دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، کپکپی اور سانس کی بے ترتیبی جیسی جسمانی علامات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ حل فون پر مکمل پابندی نہیں بلکہ متوازن استعمال ہے۔ سونے کے وقت فون کو بیڈروم سے باہر رکھنا، غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کرنا اور آہستہ آہستہ فون سے دور رہنے کی عادت اپنانا مؤثر اقدامات قرار دیے گئے ہیں۔ نوجوانوں کے معاملے میں والدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خود متوازن ڈیجیٹل رویہ اختیار کریں اور واضح حدود طے کریں۔