LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام مولانا سے ملاقات میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن پر اتفاق ہوا: بیرسٹر گوہر موخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئے پوزیشن کا اہم اجلاس: 27 ستمبر احتجاج کی تیاریوں کی ہدایت، ملک گیر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ محسن نقوی سے رابطہ رہتا ہے، تفصیلات نہیں بتائیں گے، بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، حکومت اور حزب اختلاف میں مشاورت کا آغاز

پاکستان میں پانی کی دستیابی میں کمی اور پولیو کے حالات پر بریفنگ

Web Desk

21 January 2026

اسلام آباد: وزارت آبِی وسائل نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ بھارت نے اپریل 2025 سے سندھ طاس معاہدہ معطل کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں دریائے چناب اور خانکی ہیڈورکس سے نکلنے والی کنالوں کے تحت تقریباً 46.4 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوگی۔

وزارت نے آگاہ کیا کہ اس وقت فی کس سالانہ پانی کی دستیابی 819 مکعب میٹر ہے، جو 1951 میں 5 ہزار مکعب میٹر سے زیادہ تھی۔ پیش گوئی کے مطابق 2030 تک یہ مقدار کم ہو کر 744 مکعب میٹر فی کس رہ جائے گی، جس سے سماجی اور معاشی چیلنجز پیدا ہوسکتے ہیں۔

وزارت صحت نے بتایا کہ 2025 میں پاکستان میں پولیو کے 30 کیسز رپورٹ ہوئے، لیکن ستمبر کے بعد کسی نئے کیس کی رپورٹ نہیں ہوئی۔ گزشتہ چند ماہ میں پنجاب، بلوچستان، گلگت بلتستان، اسلام آباد، سندھ اور خیبر پختون خواہ سے کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ وزارت نے کہا کہ پولیو وائرس کی منتقلی میں تیزی سے کمی آ رہی ہے اور حکومت 2026 میں پولیو وائرس کی مکمل منتقلی روکنے کے ہدف کے حصول کے لیے پوری مشینری کے ساتھ کام کر رہی ہے۔