LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل: بشریٰ بی بی سے ملاقات کی درخواست مسترد، وکلا کا جیل حکام پر قانون شکنی کا الزام رکاوٹوں کے باعث کام جاری رکھناممکن نہیں، گوادرمیں چینی کمپنی نے فیکٹری بند کردی،تمام ملازمین برطرف ایران کی نئی تجاویزسے مطمئن نہیں ایرانی قیادت کاآپس میں اتحادنہیں، امریکی صدر جنگ میں ہونے والے نقصان کا ہرجانہ دیاجائے، ایران کا عرب ممالک سے مطالبہ ایران سے جنگ جاری رہے گی یا نہیں؟ اب فیصلہ ٹرمپ کے بجائے کانگریس کرے گی امریکاکو جنگ میں 100ارب ڈالر کا نقصان ہوچکاہے، ایرانی وزیرخارجہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات کےلیےنئی تجاویز پاکستان کے حوالے کردیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی بنا دی وفاق نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا ہوا، اب مزید نہیں چلے گا: سہیل آفریدی قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل: 100 انڈیکس 465 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 51 ہزار کی سطح عبور کر گیا

Web Desk

7 April 2026

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوران مثبت رجحان برقرار رہا، جہاں 100 انڈیکس 465 پوائنٹس کے اضافے کے بعد 1 لاکھ 51 ہزار 673 کی سطح پر بند ہوا۔ دن بھر ٹریڈنگ کے دوران مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور انڈیکس ایک موقع پر 1 لاکھ 52 ہزار 013 کی بلند ترین سطح کو بھی چھو گیا، جبکہ کم ترین سطح 1 لاکھ 49 ہزار 129 پوائنٹس ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے باعث مارکیٹ میں 20 ارب 42 کروڑ روپے مالیت کے 35 کروڑ 73 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے۔ مجموعی طور پر 565 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 223 کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ، 188 میں کمی جبکہ بقیہ کمپنیوں کے دام مستحکم رہے۔ معاشی ماہرین اس تیزی کو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور معاشی استحکام کی علامت قرار دے رہے ہیں۔